سرینگر//ایمپلائزپرائوڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن نے ملازمین سے تاکید کی ہے کہ وہ اپناپرائوڈنٹ فنڈ یکمشت نہ نکالیں اور ایمپلائزپروائوڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے فوائد سے مستفید ہوتے رہیں جن میں زیادہ سود،پنشن اورانشورنس سہولیات شامل ہیں۔ایک بیان میں آرگنائزیشن نے کہا کہ 01.11.2019.سے جموں کشمیراور لداخ کو دومرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کئے جانے کے بعد ایمپلائز پرواڈنٹ فنڈ اور متفرقہ ضوابط قانون 1952لاگو ہوگیا۔اس کے بڑے فوائد میں پنشن اورانشورنس(سات لاکھ روپے تک) سہولیات شامل ہیں۔بیان میں کہاگیا ہے کہ اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ ملازمین /ممبران آئے روزنوکریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں اوراپنا پروڈنٹ فنڈ پورا نکالتے ہیںجو صحیح نہیں ہے کیوں کہ ان کاحصہ پنشن اور انشورنس کیلئے ختم ہوتا ہے ۔جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنے پروڈنٹ فنڈ میں بیلنس کو جمع رہنے دیتے تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ فایدہ مل سکے اور کسی ناگہانی صورت میں سات لاکھ روپے کا بیمہ مل جاتا۔ ایک ممبر جب سال بھر اپنا حصہ مکمل طور اداکرتا ہے تو اُسے اڑھائی لاکھ روپے کی انشورنس مل جاتی ہے اور اگر وہ دس سال تک اپناحصہ ادا کرتا ہے تواس سے وہ پنشن کاحقدار بن جاتا ہے ۔اسلئے ملازمین اور انہیں ملازمت دینے والوں کوآگاہ کیا جاتا ہے کہ پی ایف پر سود8.5فیصد تھا جو کسی بھی بچت اسکیم پر سودکے مقابلے میں زیادہ ہے۔ملازم کے کریڈٹ میں جمع پروڈنٹ فنڈ کو یکمشت نکالنے سے و ہ کئی سہولیات جیسے پنشن اور انشورنس احاطہ سے محروم ہوتا ہے۔نوکری یاملازمت کی تبدیلی کی صورت میں ملازمین کو چاہیے کہ وہ اپنے پچھلے ملازمت کے ریکارڈ کوفارم13بھر کر موجودہ ملازمت میں ضم کریں۔ممبران یا ملازم اپنے پروڈنٹ فنڈکا کچھ حصہ نکال سکتے ہیں اور وہ فارم31بھر کے کسی بیماری کی صورت میں اور تب بھی وہ ایمپلائز پروڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے ممبر ہوں گے۔بیان میں کہاگیا ہے کہ اگر ملازم اپنے آدھار اور بینک اکائونٹ کوUAN کے ساتھ جوڑ دیں تو ان کے دعوے جلد نپٹائیں جاسکتے ہیںاور اس سے ڈپلی کیٹ اکائونٹ بھی ختم ہوجائیں گے۔اس سے شفافیت پورے نظام میں آئے گی ۔