سرینگر//انسداد رشوت ستانی کے ادارے’انٹی کورپشن بیورو‘ نے اسسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفس اننت ناگ میں ایجنٹوں کے ذریعے مبینہ طور پر رشوت لیکر ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر دستاویزات تیار کرنے کی اجازت دینے کی پاداش میں ملازمین و افسراں کے خلاف کیس درج کیا،جبکہ8مقامات کی تلاشیاں بھی لی گئیں۔’انٹی کورپشن بیورو نے’اے آر ٹی او آفس‘اننت ناگ پر لگائے ان الزامات کی جانچ کیلئے اچانک معائنہ کے دوران پایاکہ دفتر کے ملازم اور افسراں،ایجنٹوں سے ملی بھگت کرکے رشوت کے بدلے بڑی کمرشل گاڑیوں کی رجسٹریشن اور فٹنس سرٹیفکیٹ کی تیاری ، ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے وغیرہ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اے سی بی کا کہنا ہے کہ ڈرائیونگ مشق امتحان کے دن کئے گئے اچانک معائنہ کے دوران یہ پایا گیا کہ ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کیلئے زیادہ تر درخواست فارم میں پنسل تحریری کوڈ موجود تھے ،جن میں بورڈ کے ممبروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے کام کرنے والے کچھ ایجنٹوں کے ناموں کا مخفف پایا گیا۔ بیورو نے کہا،’’ کچھ درخواست دہندگان جو ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لیے حاضر ہوئے تھے ،نے انکشاف کیا کہ انہوں نے’ اے آر ٹی او آفس‘ اننت ناگ کے بورڈ ممبروں کے لیے ایجنٹوں کے ذریعے ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کے لیے رشوت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ معائنہ کے دوران یہ پایا گیا ’کہ اے آر ٹی او آفس‘ اننت ناگ کے افسر و ملازم اپنے مذموم مقاصد کے لیے ڈرائیونگ ٹیسٹ مشقوں اور گاڑی کا فٹنس ٹیسٹ دونوں جلد بازی میں کر رہے تھے، تاکہ درخواست گزاروں کے تجویز کردہ درخواستوں کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ایجنٹوں اور اے آر ٹی ائو ملازمین کے درمیان سماجی نیٹ ورک کے رابطے اور ایک دوسرے کے درمیان تحریری پیغامات بھی پائے گئے۔ اس کے علاوہ ، ٹاؤٹس اور اے آر ٹی او کے عہدیداروں کے درمیان سماجی ، نیٹ ورکنگ چیٹس پائی گئی ہیں جس میں امیدواروں کے درخواست نمبروں کے ساتھ ایجنٹوںکے نام بھی سرٹیفکیٹ ولائسنس کے اجراء کے لیے افسراں کو ارسال کیے گئے ہیں۔ انٹی کوپرشن بیورو کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میںاے آر ٹی ائو دفتر اننت ناگ کے ملازمین و افسراں کے خلاف ایک کیس زیر نمبر4/2021 درج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران ، اینٹی کرپشن کورٹ اننت ناگ سے تلاشی وارنٹ حاصل کیے گئے اور قاضی گنڈ میں’ اے آر ٹی او‘ کی رہائش گاہ کے علاوہ کولگام،بمنہ سرینگر،صنعت نگر سرینگر، کھنہ بل، سرنل اننت ناگ،قاضی باغ اننت ناگ، گڈرو کولگام سمیت دیگر جگہوں پر چھاپے مارے اور اور تلاشیوں کے دوران دستاویزات بھی ضبط کیں۔ اس کیس کی تفتیش جاری ہے۔