کنگن//نیشنل کانفرنس صدر اور پارلیمنٹ ممبر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ضلع گاندربل میں تعمیر ہورہے 6.5کلو میٹر زیڈ موڑٹنل اور 14.5کلو میٹر زوجیلا ٹنل کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا ان کے ہمراہ سابق ایم ایل کے کنگن میاں الطاف احمد کے علاوہ اپکو میگا انفراسٹرکچر کمپنی کے افسران کے علاوہ سیول اور پولیس کے افسران موجود تھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پہلے 6.5کلو میٹر زیڈ موڑ ٹنل کا سفر کیا۔ بعد میں 14.5کلو میٹر زوجیلا ٹنل کے کام کا جائزہ لیا ۔ڈاکٹر فاروق نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سونہ مرگ تک سردیوں میںپہنچنے کیلئے بڑی مشکل ہوتی تھی اور کرگل اور لیہہ شاہراہ برفباری کی وجہ سے قریب 8 ماہ تک بند رہتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ زیڈ موڑ ٹنل کی سنگ بنیاد 2012 میں رکھا گیا اور دو نوں ٹنلیں مکمل ہونے کے قریب ہیں لیکن ابھی بھی تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔انکا کہنا تھا کہ ٹنلوں کی تعمیر کے بعد انہیںسردیوں میں چھوٹی گاڑیوں کیلئے کھول دیا جائے گا جس سے یہاں کے لوگوں کو روز گار ملے گا اور یہاں پر سیاح سیروتفریح پر بھی آسکیں گے۔ فاروق عبداللہ نے کہا جس طرح گلمرگ میں سرمائی کھیل منعقد کئے جاتے ہیں اسی طرح سونہ مرگ میں بھی انعقاد ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ سونہ مرگ سرمائی کھیلوں کیلئے ایک اچھی جگہ بن سکتی ہے۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ زوجیلا ٹنل، جوکہ 14.5کلو میٹر لمبی ہوگی، کو مکمل کرکے سرینگر لیہہ شاہراہ کو سال بھر کھلا رکھا جائے گا جس سے یوٹی لداخ میں رہنے والے لوگوں کو راحت ملے گی ۔ انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں کے باصلاحیت نوجوانوں کو دونوں ٹنلوں میں روزگار فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں کو ٹنلوں کے تعمیر کے دوران روزگار دیا جائے جو انکا حق بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کو خطوط روانہ کررہے ہیں۔