سری نگر//جماعت اسلامی کیخلاف ’این آئی اے‘ کریک ڈائون کی مخالفت کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ یہ حکومت ہند کی طرف سے اپنے ہی ’اٹوٹ انگ‘کے خلاف جنگ چھیڑنے کے مترادف کارروائی ہے۔کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابقپی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے اتوار کے روزاین آئی اے کی جانب سے جموں وکشمیرمیں 56مقامات پرڈالے گئے چھاپوں پرردعمل ظاہر کرتے ہوئے پیرکے روز سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پرکئی ٹویٹ کئے ۔محبوبہ مفتی نے ان چھاپوں کے ردعمل میں اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ جماعت پر این آئی اے کے چھاپے حکومت ہند کے اپنے ہی نام نہاد اٹوٹ انگ کے خلاف جنگ چھیڑنے کی علامت ہے، انہوں نے ساتھ ہی لکھاکہ ایک نظریے کے خلاف ایک بہتر نظریے سے لڑنے کی بجائے اس کو طاقت کے بل پر دبایا جا رہا ہے۔ اپنے دوسرے ٹویٹ میں محبوبہ مفتی نے لکھاکہ ایسے جابرانہ اقدام آخر کار ضرر رساں ہی ثابت ہوں گے۔ان کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور ملک کے درمیان خلیج ہر گزرتے دن کے ساتھ وسیع سے وسیع تر ہو رہی ہے۔قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے اتوارکے روز جماعت اسلامی کے علیحدگی کی مالی معاونت کے معاملے میں جموں و کشمیر کے 14 اضلاع کے56 مقامات پر تلاشی لی۔ یہ مقدمہ این آئی اے نے رواں سال 5 فروری کو وزارت داخلہ کی جانب سے جماعت اسلامی کی علیحدگی پسند اور علیحدگی پسندانہ سرگرمیوں سے متعلق ایک حکم کی پیروی میں درج کیا تھا ، جو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت ایک غیر قانونی تنظیم ہے۔ مرکزی حکومت نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر5 سالہ پابندی لگا دی۔ اس پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔28 فروری 2019 وجماعت اسلامی کو ممنوعہ قرار دئیے جانے کے بعداتوارکے روز جنوبی ،شمالی اوروسطی کشمیرمیں 56مقامات پرڈالے گئے چھاپوں اوریہاںلی گئی تلاشی کارروائیوں کے بعد این آئی اے نے دعویٰ کیا کہ ملزمان کے احاطے سے مختلف دستاویزات اور الیکٹرانک آلات برآمد ہوئے ہیں۔