کپوارہ// ہندوارہ میں بارایسوسی ایشن سے وابستہ وکلاء کا احتجاج چوتھے روز کی شام اختتام پذیر ہوگیا ۔وکلاء گزشتہ 4روز سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہندوارہ کا فوری طور تبادلہ عمل میں لانے کا مطالبہ کررہے تھے ۔4روز قبل ہندوارہ میں بار وکلاء نے اس وقت احتجاج کی راہ اختیار کی جب انہو ں نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہندوارہ پر یہ الزام لگایا کہ ان کا رویہ عام لوگو ں سے ٹھیک نہیں ہے اور وہ بار بار بد سلوکی پر اتر آتے ہیں ۔ضلع ترقیاتی کمشنر کپوارہ امام الدین نے اتوار کو ہندوارہ کا دورہ کیا اور وکلاء برداری سے ملاقات کی اور انہیںیقین دلایا کہ وہ احتجاج کو ختم کر کے اپنے کام پر لو ٹ جائیں اور ان کے مطالبات پر نظر ثانی کی جائے گی تاہم وکلاء نے پیر کے روز بھی اپنا احتجاج جاری رکھا ۔اس دوران ہندوارہ میں 7تحاصیل سے تعلق رکھنے والے محکمہ مال کے ملازمین جن میں تحصیلدار اور نائب تحصیلدار بھی شامل تھے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہندوارہ کے حق میں سامنے آئیں اور وکلاء کے خلاف احتجاج کیا۔انہوں نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کے الزامات بے بنیاد ہیں ۔پیر کو شام دیر گئے ڈپٹی کمشنر کپوارہ امام الدین دوبارہ ہندوارہ گئے اور بار ایسوسی ایشن سے ہنگامی میٹنگ کی اور ساری صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ڈپٹی کمشنر نے انہیں یقین دلایا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہندوارہ کے تبادلے کا معاملہ سرکار کی نوٹس میں لایا جائے گا جس کے بعد وکلا نے اپنا احتجاج ختم کیا ۔