اننت ناگ //لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل روز کہا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام سے تعلق رکھنے والے دو اساتذہ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں پھنس گئے ہیں اور وہ جلد گھر پہنچ جائیں گے۔یہ دونوں پروفیسر پچھلے چند برسوں سے کابل میں مقیم ہیں۔ ڈاکٹر عادل رسول شیخ ولد غلام رسول ( اسسٹنٹ پروفیسر بزنس ایڈمنسٹریشن) ساکن کیموہ کولگام اور ڈاکٹر آصف احمد شا ہ ولد الطاف حسین ( اسسٹنٹ پروفیسر اکنامکس) ساکن ویسہ بٹہ پورہ کولگام اس وقت افغانستان کی بختار یونیورسٹی میں پڑھارہے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ عادل رسول کیساتھ انکی اہلیہ آسیہ جان بھی ہے۔ ڈاکٹر عادل رسول 2017اور ڈاکٹر آصف 2019سے کابل میں ہیں۔ ان کے کنبوں نے حکومت سے کہا ہے کہ جن بھارتی شہریوں کو واپس لانے کیلئے فہرست مرتب کی ہیں، اُس فہرست میں ان تینوں کے نام بھی شامل کئے جائیں۔ مذکورہ تینوں شہریوں کے افراد خانہ کاکہنا ہے کہ افغانستا میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے وہ بے چین ہیں اور بھارتی حکومت سے ان کی محفوظ واپسی کیلئے اپیل کی ہے۔ کابل میں جموںوکشمیر کے مزید شہری کام کرہے ہیں تاہم ابھی تک ان کے ساتھ کوئی رابطہ قائم نہیں ہوا ہے۔ منگل کی سہ پہر ایک ٹویٹ میں سنہا نے کہا کہ انہوں نے دونوں پروفیسرز کو فوری طور پر نکالنے کیلئے وزیر خارجہ مرلی دھرن سے بات کی۔سنہانے دونوں کے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ "وہ محفوظ ہیں اور جلد گھر پہنچ جائیں گے۔ایل جی نے ٹویٹ میں لکھا ، "وزارت خارجہ کے امور ، وی مرلیدرن سے بات کی کہ وہ کابل کی بختار یونیورسٹی میں کولگام کے دو پروفیسرز کو فوری طور پر نکالیں‘‘۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ہر شہری کو جلد از جلد بحفاظت واپس لانے کے لیے پرعزم ہے۔"انہوں نے مزید کہا ، "میں پروفیسر آصف احمد اور پروفیسر عادل رسول کے اہل خانہ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ محفوظ ہیں اور جلد گھر پہنچ جائیں گے۔"