لندن //زمین کے ایسے مقام جہاں آج تک (1950 سے جب سے ریکارڈ مرتب کیا جارہا ہے) بارش ریکارڈ نہیں ہوئی تھی وہاں آسمان سے پانی برسنے نے سائنسدانوں کو حیران اور پریشان کردیا۔گرین لینڈ کی سطح سمندر سے 2 میل بلند چوٹی پر موجود وسیع و عریض پٹی پر بارش کو پہلی بار ریکارڈ کیا گیا اور اسے موسمیاتی تبدیلیوں کا تنیجہ قرار دیا جارہا ہے۔اس 3216 میٹر بلنڈ چوٹی پر عموماً درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے ہوتا ہے مگر حال ہی میں وہاں گرم ہوا کے نتیجے میں شدید بارش ہوئی اور 7 ارب ٹن پانی برفانی پٹی پر برس گیا۔یو ایس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے موسمیاتی اسٹیشن نے 14 اگست کو اس مقام پر بارش کو برستے دیکھا مگر ان کے پاس جانچ پڑتال کے یے پیمانہ ہی نہیں تھا کیونکہ انہیں اس کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔یہ بارش اس وقت ہوئی جب گرین لینڈ مٰں 3 دن درجہ حرارت اوسط سے 18 سینٹی گریڈ زیادہ رہا اور اس کے نتیجے میں گرین لینڈ کے بیشتر علاقوں میں برف پگھلتے ہوئے دیکھا گیا۔کولوراڈو یونیورسٹی کے نیشنل اسنو اینڈ آئس ڈیٹا سینٹر کے سائنسدان ٹیڈد اسکمبوز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہورہا ہے۔