سری نگر // قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے)کے ساتھ جموں وکشمیر پولیس کے پانچ روزہ مشترکہ صلاحیت سازی تربیتی پروگرام کے دوسرے مرحلے کاآغاز سوموار کویہاں پولیس ہیڈ کوارٹر سرینگر میں ہوا۔ ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔پروگرام میں این آئی اے افسروں اور جے اینڈ کے پولیس کے تفتیشی افسران کا خیرمقدم کرتے ہوئے ، پولیس سربراہ نے پروگرام کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر دن ہم سب کے لئے سیکھنے کا تجربہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش ہمارے کام کا سب سے اہم حصہ ہے اور افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی تحقیقات کی مہارت کو بہتر بنانے کے لئے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں ۔انہوں نے ڈی جی این آئی اے کلدیپ سنگھ کا اس بات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ان کی طرف سے ایسے پروگراموں میں معاونت کی گئی اور ان این آئی اے افسران کا بھی شکریہ ادا کیا جو اس پروگرام میں پولیس افسران کی تفتیشی صلاحیتیں نکھارنے کے لئے تربیت فراہم کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی پولیس ہیڈ کوارٹر سرینگر میں ایسے پروگرام کا انعقاد کیا گیا اور اسی طرح کے تین یا چار پروگرام جموں میں بھی منعقد کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان تربیتی پروگراموں کا مقصد جموں کشمیر پولیس کے تفتیشی افسران کی تفتیشی صلاحیتوں کو بڑھاوا دینا ہے۔دلباغ سنگھ نے کیا کہ یہ بہت مفید تربیتی پروگرام ہے اور پچھلے تربیتی پروگرام کے تاثرات بہت ہی حوصلہ افزا رہے ہیں کیونکہ این آئی اے افسران نے جس طرح تفتیشی تکنیک کا تعارف اور ان پر تبادلہ خیال کیا وہ کافی متاثر کن ہے۔اس تربیتی پروگرام کے منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈی جی پی نے کہا کہ یہ تربیتی پروگرام زیادہ تران عوامل کا احاطہ کرتا ہے جو تفتیش کے لئے بہت اہم ہیں ۔انہوں اس تربیتی پروگرام کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس یو اے پی اے جیسے کیسوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور ایسے تربیتی پروگراموں کا مقصد ان کیسوں کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے افسران نے یو اے پی اے کے کچھ معاملات کی موثر طریقے سے تفتیش کی لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے افسران کی بڑی تعداد کو تفتیشی تکنیک سے جدید خطوط پر واقف کرایا جائے۔اس دوران انہوں نے آئی جی (ٹریننگ/پالیسی)کو ہدایت دی کہ تربیتی پروگرام کے ہر لیکچر کو مختصر طور پر دستاویز کی شکل دے کر شرکا ء میں تقسیم کیا جائے ۔اے ڈی جی پی(ہیڈ کوارٹر) پی ایچ کیو شری ایم کے سنہا نے افتتاحی سیشن میں پاور پوائنٹ پریزینٹیشن کے ذریعے سی بی آئی میں اپنے ساڑھے سات سالہ ڈیپوٹیشن کے دوران کام کرنے اور مختلف اہم معاملات کی تفتیش کے اپنے تجربے کو شیئر کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کس طرح تیز اور نتیجہ پر مبنی تفتیش جامع انداز میں کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد یقینی طور پر تفتیش کے معیار کو بہتر بنانے اور سزا سنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے نتائج پر مبنی تحقیقات کے لیے پیچیدہ دستاویزات اور ٹیم ورک پر بھی زور دیا۔اپنی مکمل اور جامع پریزنٹیشن میں ، شری سنہا نے یو اے پی اے کی مختلف دفعات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ماضی میں جرائم سے نمٹنے کے قوانین اور یو اے پی اے کی خوبیوں پربھی روشنی ڈالی اور تفتیش کے اچھے طریقوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے مرکزی ایجنسیوں میں تفتیش کے مختلف میکانزم اور جے کے پی میں اس طرح کے میکانزم کو اپنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔