کووڈ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر11ہزار کا جرمانہ
1346 ٹیکے لگائے گئے ، 1312 نمونے جمع کیے گئے
رام بن//ضلع رام بن میں کوووڈ پروٹوکول کے نفاذ کے لیے نفاذ مہم کو جاری رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے چہرے کے ماسک نہ پہننے اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر گھومنے پر متعدد خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا۔نافذ کرنے والی ٹیموں نے اپنے متعلقہ دائرہ کار میں معائنہ کے دوران 11ہزار300 روپے جرمانہ وصول کیا جبکہ یکم اپریل 2021 سے اب تک جرمانے کی کل رقم 43لاکھ 82ہزارروپے صول ہوئی ہے۔انفورسمنٹ افسران نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ چہرے کے ماسک پہنیں اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں اس کے علاوہ اپنے قریبی سی وی سی پر کوویڈ ویکسی نیشن کی خوراکیں لیں۔ ضلع امیونائزیشن آفیسر رام بن ڈاکٹر سریش نے بتایا کہ ضلع رام بن میں آج 1346 افراد کو پہلی اور دوسری کوویڈ ویکسین کی خوراک دی گئی۔چیف میڈیکل آفیسررام بن ڈاکٹر محمد فرید بھٹ کی طرف سے جاری کردہ روزانہ بلیٹن کے مطابق محکمہ صحت نے 1312 نمونے جمع کیے ہیں جن میں 335 ،RT-PCR اور 977 ،RAT نمونے شامل ہیں ،اس کے علاوہ 1346 افراد کو کوووڈ ویکسین ضلع کے مخصوص ویکسی نیشن مراکز میں دی گئی ہے۔
قومی شاہرا ہ فور لینگ کام ، ریلوے پروجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ
ڈی سی رام بن نے تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے اجاگرکئے گئے مسائل کو حل کیا
رام بن //ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام نے ایک میٹنگ میںقومی شاہراہ 44 کے وقاری فور لینگ پروجیکٹ اور کٹرا بانیہال ریلوے پروجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تعمیراتی ایجنسیوں کی طرف سے اجاگر کی جانے والی رکاوٹوں اور دیگر درپیش مسائل کو بھی حل کیا۔ ڈی سی نے مقامی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں ڈمپنگ یارڈز کی دیکھ بھال ، نقصانات کا ازالہ اور معاوضہ کے مقدمات کے علاوہ مقامی لیبر کے مسائل شامل ہیں۔ڈی سی نے تعمیراتی ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ 13 اپریل کو اپنے رام بن کے دورے کے دوران لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے جاری کردہ تمام ہدایات پر عمل کریں تاکہ مقامی لوگوں خصوصا ً نوجوانوں کو جاری قومی منصوبوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچ سکے۔وقاری ریلوے اور نیشنل ہائی وے فور لین کاموں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈی سی نے کام کرنے والی کمپنیوں کو یقین دلایا کہ وہ ریلوے اور نیشنل ہائی وے کی تعمیراتی جگہوں پر تیزی سے کام کرنے کے لیے تمام رکاوٹوں کو دور کریں گے۔ انہوں نے تمام امور پر تبادلہ خیال کیا اور متعلقہ افسران کو بروقت ازالہ کے لیے ہدایات دیں۔ڈی سی نے ایس ای پی ڈبلیو ڈی سے کہا کہ وہ ضلع میں ریلوے منصوبوں سے متعلق اراضی اور نقصانات کے معاوضے کے معاملات کا مکمل جائزہ لے۔ڈی سی نے ایس ڈی ایمز اور تحصیلداروں کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ تعمیراتی ایجنسیوں کے لیے پریشانی سے پاک کام کی فضا کو یقینی بنائیں تاکہ وہ مقررہ تاریخ کے اندر قومی منصوبے مکمل کر سکیں۔ڈی سی نے تعمیراتی ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ مقامی تحصیلدار اور پولیس سٹیشن کو اپنے کام کے مقامات پر تعمیراتی مقاصد کے لیے بلاسٹنگ کرنے سے 24 گھنٹے قبل آگاہ کریں۔ڈی سی نے XEN ، PHE کو ہدایت کی کہ وہ جاری واٹر سپلائی اسکیم کو مکمل کرے تاکہ تحصیل کھڑی کے ان علاقوں کو پانی کی فراہمی کی جاسکے جو ریلوے سرنگوں کی تعمیر سے متاثر ہوئے ہیں۔ڈی سی نے ڈی ایف اوز اور ڈسٹرکٹ منرل آفیسر کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ تمام ڈمپنگ سائٹس کے مشترکہ دورے کریں اور مقررہ وقت کے اندر سٹیٹس رپورٹس جمع کرائیں۔ اسسٹنٹ لیبر کمشنر کو تعمیراتی ایجنسیوں کی جانب سے مزدوروں کو دی جانے والی اجرت اور دیگر فوائد کی جانچ کے لیے تعمیراتی مقامات کا دورہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔بجلی کے کھمبوں کی تبدیلی ، چار لیننگ منصوبے کے ساتھ تجاوزات اور ٹریفک مینجمنٹ کے مسائل پر ، ڈی سی نے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کیں کہ مسئلہ کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ڈی سی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ سائن بورڈز اور کریش بیریئرز لگائیں ، کروال سے چندر کوٹ کیمپ تک بلیک ٹاپنگ اور جسوال پل کی مرمت کریں۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ تمام اہم مقامات پر NH-44 کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے علاوہ گڑھوں اور نالیوں کو برقرار رکھ کر ٹریفک کی ہموار گزر کو یقینی بنایا جائے۔ڈی سی نے مسائل کے حل کے لیے ٹائم لائن بھی مقرر کی اور تمام سٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے ہم آہنگی سے کام کریں اور منصوبوں کی وجہ سے متاثرہ آبادی کے زیر التوا مسائل کو بھی حل کریں۔
دچھن میں بالآخر موبائل فونوں کی گھنٹیاں بجیں
نجی مواصلاتی کمپنی کی سروس شروع،عوام میںخوشی کی لہر
عاصف بٹ
کشتواڑ//بالآخر ضلع کشتواڑ کے دورافتادہ علاقہ دچھن میں نجی کمپنی کا مواصلاتی نظام شروع ہوگیا ہے جس سے علاقہ کی عوام میں خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع ہیڈکوارٹر سے محض 60کلومیٹر کی دور پر واقع تحصیل دچھن کی 15000سے زائد آبادی پر مشتمل علاقہ میں پہلی مرتبہ نجی کمپنی ایرٹیل نے مواصلاتی نظام شروع کیا ہے۔ کل شام ٹنڈر میں لگائے گے ٹاور کو آن ائر کیا گیا اور اسکا ٹیسٹ کیا گیا جسکے بعد علاقہ کے بیشتر مقامات پر سگنل آنا شروع ہوگیااور لوگوں نے فون کرنا شروع کردئے جبکہ سوندر میں لگائے گئے ٹاور کو بھی چند روز میں شروع کیا جارہا ہے جسے بیشتر علاقہ میں مواصلاتی نظام کام کرنا شروع ہوگا۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو علاقہ سے فون کرکے اپنی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ بھی اب اپنے رشتہ داروں و دیگر لوگوں کے ساتھ جڑے رہ سکیں گے جبکہ بیشتر لوگوں نے ویڈیو کالنگ کا فائدہ بھی لیا۔انھوں نے کہا کہ آج تک انکے بچے انٹرنیٹ کی سہولیت سے محروم تھے اور اب وہ آن لائین تعلیم حاصل کرسکیں گے ۔انھوں نے بتایا کہ اگرچہ 6سال قبل علاقہ میں بی اس این ایل نے کام کرنا شروع کیا تھا لیکن اسے عوام کو کوئی فائدہ حاصل نہ ہوسکاجبکہ بیشتر اوقات یہ بند رہتا تھااورلوگ ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کرسکتے تھے۔فردوس احمد نے بتایا کہ آج تک نہیں مواصلاتی نظام کے نہ ہونے کے سبب کافی مشکلات کا سامناکرنا پڑا اور اب انھیں امید ہے کہ انکی مشکلات میں کمی ہوگی ۔واضح رہے کہ ضلع ترقیاتی کونسل کی چیئرپرسن و ڈی ڈی سی ممبر دچھن نے بھی پندرہ اگست کے بعد علاقہ میں مواصلاتی نظام کے شروع ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس علاقہ میں ایرٹیل کمپنی پانچ سے زائد ٹاور لگارہی ہے تاکہ پورے علاقے میں مواصلاتی نظام چل سکے جس سے عوام کی مشکلات میں کمی ہوگی اورلوگ آسانی سے ڈیجییٹلائزیشن کا فائدہ اٹھا سکیں گے۔
ڈوڈہ میں نیشنل ٹریڈ یونین فرنٹ کا اجلاس
عارضی ملازمین کو مستقل و ماہانہ مشاہرے میں اضافہ کرنے کا مطالبہ
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //جموں و کشمیر نیشنل ٹریڈ یونین فرنٹ نے مختلف محکموں میں کام کر رہے عارضی ملازمین کے لئے مستقل پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا۔ڈوڈہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرنٹ کے ضلع صدر برکت علی نے کہا کہ موجودہ سرکار عارضی ملازمین کے تئیں خاموش رویہ اختیار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ 1994 سے دہاڑی دار مزدور و ڈیلی ویجر ورکرز قلیل سی رقم پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں تاہم ہر حکومت نے ان کو صرف سبز باغ دکھائے۔انہوں نے کہا کہ کہ ارباب اقتدار جماعتوں نے انتخابات کے دوران ہزاروں ورکروں کے ساتھ جو وعدے کئے وہ آج تک پورے نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں ان کا گذر بسر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔فرنٹ نے ایس آر او 64 کے تحت مستقل کرنے و ماہانہ مشاہرے میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔نیشنل ٹریڈ یونین فرنٹ نے سبھی عارضی ملازمین پر زور دیا کہ وہ اپنے حق کی آواز بلند کرنے کے لئے فرنٹ کے بینر تلے جمع ہو کر اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کریں تاکہ یکجہتی کے ساتھ ارباب اقتدار کو ان کے مسائل حل کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔انہوں نے حکام پر عارضی ملازمین کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مختلف محکموں کے افسران ان کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔اس دوران انہوں نے اپنی مانگوں کو لے کر نعرہ بازی بھی کی۔
ڈوڈہ میں ٹیکہ کاری عمل جاری، 262897افراد نے ٹیکے لگوائے
پیر کو کورونا کے 28نئے مثبت معاملات، 3مریض صحت یاب
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں کورونا وائرس کے 28نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیںجبکہ 3مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق پیر کے روز ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری ،گندوہ و عسر میں ہوئی کوڈ جانچ کے دوران اٹھائیس افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے جنہیں ہوم قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور تین مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔اس طرح سے ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد بڑھ کر 90و شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 7286پہنچ گئی ہے جبکہ ضلع میں اب تک کووڈ 19سے 129افراد فوت ہوئے ہیں اور 262897افراد کو ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔
مشن یوتھ سکیم کے تحت پنچائتی اداروں کی من مانی
مستحق افراد کو نظر انداز کرنے و فلاحی اسکیموں میں مالی بے ضابطگیوں کا الزام
اشتیاق ملک
ڈوڈہ //تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنے پاں پر کھڑا ہونے و انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے مرکزی و ایل جی حکومت نے مشن یوتھ پروگرام کے تحت پنچائتی سطح پر یوتھ کلب بنانے کی پنچائتی نمائندوں کو ہدایت دی گئی تھی تاہم ڈوڈہ ضلع کے بیشتر علاقوں سے ملی اطلاعات کے مطابق پنچائتی نمائندگان نے گرام سبھا کے بجائے بند کمروں میں بیٹھ کر یہ فہرستیں مرتب کیں اور مستحق نوجوانوں کو نظر انداز کیا۔سیول سوسائٹی نے بیشتر پنچائتوں میں ہورہی سرپنچوں کی طرف سے مچائی جارہی لوٹ کھسوٹ و مرکزی معاونت والی اسکیموں سے غریب و بے سہارا کنبوں کو محروم رکھنے پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مہنگائی نے عام آدمی کا جینا محال بنا دیا ہے تو دوسری طرف مرکزی معاونت والی اسکیموں میں سرکاری محکموں و پنچائتی اداروں کی ملی بھگت سے مالی بدعنوانی و رشوت خوری نے ہزاروں تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں و مزدور پیشہ افراد کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ڈوڈہ، بھدرواہ ،ٹھاٹھری و عسر کے مختلف دیہی ترقی بلاکوں میں آئے روز عوام کی طرف سے بیشتر پنچائتی نمائندوں کی پر مالی بے ضابطگیوں و رشوت ستانی کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔سماجی کارکن و نیشنل کانفرنس گوجر یوتھ لیڈر چوہدری غلام رسول نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جہاں مرکزی معاونت والی اسکیموں میں ہیرا پھیری عروج پر ہے وہیں حالیہ دنوں نوجوانوں کے لئے مشن یوتھ اسکیم کے تحت پنچائتی سطح پر 5/50تک کے امیدواروں کی نشاندہی کر کے متعلقہ بی ڈی اوز و ایس ڈی ایم دفاتر میں فہرست جمع کرنے کو کہا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بھلیسہ، ٹھاٹھری، بھدرواہ کی بیشتر پنچائتوں میں یہ فہرستیں گرام سبھاکئے بغیر ہی بند کمروں میں بیٹھ کر تیار کی گئی۔انہوں نے کہا کہ کچھ پنچائتوں میں گرام سبھاں میں مرتب کی گئی فہرستوں کو غائب کر کے اپنے منظور نظر لوگوں کے نام آگے دیئے گئے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر بے سہارا و غریب لوگوں مشکلات میں اضافہ ہوتا رہے گا۔انہوں نے حکام سے اس معاملے کی چھان بین کرنے و بیشتر پنچائتوں میں ہورہی مالی بے ضابطگیوں کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لا کر لوگوں کے ساتھ انصاف کریں۔
ڈی ڈی سی چیئرپرسن رام بن کا دورہ شہیدی روڈ
دسمبر تک سڑک کی تعمیرمکمل ہوگی،لوگوں کو یقین دہانی کرائی
زاہدبشیر
گول//ڈی ڈی سی چیئرپرسن ضلع رام بن ڈاکٹر شمشادہ شان نے گول کے اندہ۔چھچھواہ کو ملانے والے شہیدی روڈ کادورہ کیا جہاں پر کچھ سال پہلے کافی پسی گر آئی تھی جس وجہ سے اس روڈ پرچلنادشوار ہوگیاتھا۔ بھاری پسی کیساتھ ساتھ چٹانیں بھی گر آئی تھیں اور اس وجہ سے یہ روڈ کافی عرصہ سے بندپڑا تھا۔ روڈ پرحال ہی میں دوبارہ تعمیری کام شروع کیاگیاتھا اور اس سلسلے میں ڈاکٹر شمشادہ شان نے اس روڈ پرتعمیری کام کاجائزہ لیا۔اس موقعہ پر ڈاکٹر شمشادہ شان نے کہاکہ اندھ۔چھچھوا ودیگرعلاقوں کویہ سڑک ملاتی ہے اور امیدہے کہ دسمبرتک اس کاکام مکمل ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اس سڑک پرکافی عرصہ پہلے بھاری پسی گرآئی تھی جس وجہ سے یہ روڈ بندہوا تھا۔انہوں نے کہاکہ جب تک نہ پسی کومکمل طورپرہٹالیاجائے گا اور نیچے سے سخت زمین نکلے گی تب تک کام جاری رہے گا اور بعد میں۔اگرپھر وہی حال ہوگا تو اس سے لوگوں کومزیدپریشانیوں کاسامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ روڈ کی بہتر تعمیرکے لئے وہ کوشاں ہے اور امیدکی جا رہی ہے کہ دسمبر تک اس کاتعمیری کام مکمل ہوگا اور شاہراہ کوآمدورفت کے لئے بحال کیاجائے گا۔
کمشنر سیکرٹری جنگلات نے پُرمنڈل کا دورہ کیا
جموں// کمشنر سیکرٹری جنگلات و ماحولیات سنجیوورما نے بائیوڈائیورسٹی پارک کی مجوزہ ترقی اور پانی کے تحفظ کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے حوالے سے سانبہ ضلع کے پُرمنڈل علاقے کا دورہ کیا تاکہ دریائے دیوکا کیچمنٹ میں مجموعی طور پر جمالیات اور پانی کے ماحول کو بہتر بنایا جاسکے ۔ کمشنر سیکرٹری کے ہمراہ چیف کنزرویٹر آف فارسٹ جموں کے رمیش کمار ، چیف کنزرویٹر آف فارسٹ ایسٹ سرکل جموں سیموئل چنگ کیجا، ریجنل ڈائریکٹر سوشل فارسٹری ڈیپارٹمنٹ جموں مہندر گپتا ، جوائنٹ ڈائریکٹر سوئیل ایند واٹر کنزرویشن محکمہ جموں ،ڈی ایف او سانبہ ، ڈی ایف او سوشل فارسٹری ڈویژن جموں ، ڈسٹرکٹ سوئیل کنزرویشن آفیسر اور فارسٹ ، سوئیل اینڈ واٹر کنزرویشن اور سوشل فارسٹری محکموں کا فیلڈ عملہ دورے کے دوران موجود تھے۔ کمشنر سیکرٹری نے قدیم شیو مندر سے ملحقہ جنگل کمپارٹمنٹ35/D پُرمنڈل میں بائیو ڈائیورسٹی پارک کی ترقی کے لئے تجویز کردہ سائٹ کا دورہ کیا ۔ کمشنر سیکرٹری کو جانکاری دی گئی کہ 10ہیکٹر رقبے پر مشتمل بائیو دائیورسٹی پارک میڈیسنل اورمذہبی اہمیت کی اَقسام کو فروغ دینے اور ان کے تحفظ کے لئے قائم کیا جارہا ہے اور اِس میں مختلف واٹیکاس جیسے تُلسی وٹیکا ، ارجن وٹیکا ، نوگراو وٹیکا ، امرتا ( اوشد وٹیکا )، اشوکا وٹیکا، ریشی وٹیکا اور ارنلا،ٹریفلا وٹیکا س جو ایک سمرتی وین کے قیا م کے ساتھ ساتھ ایک جمالیاتی ،صحت مند اور روحانی تجربہ لانے کے لئے بنانے کی تجویز ہے۔ کیچمنٹ ائیریا کے مٹی او رپانی کے تحفظ کے لئے کئے جانے والے اِقدامات پر پُر منڈل کے لوگوں کے ساتھ بھی تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمشنر سیکرٹری جنگلات نے محکمہ سے کہا کہ وہ اس علاقے کی ثقافتی اور نیچرل ہیلتھ پر توجہ مرکوز کر کے سائٹس کا ایک نیٹ ورک تیار کرے۔اُنہوں نے پُر منڈل میں کیمپا( سی اے ایم پی اے ) کے تحت قائم کئے جانے والے فارسٹ کلوزر کا بھی دورہ کیا اور اَفسران پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ مقامی درختوں اور پھلوں کے پودے لگائیں۔دریں اثنا کمشنر سیکرٹری نے ویر پور میں محکمہ سوئیل اینڈ واٹر کنزرویشن کے سیسل فارم کا بھی دورہ کیا۔دورے کے دوران محکمہ جنگلات کے افسران ، ڈی ڈی سی ممبر پُرمنڈل ، بی ڈی سی ممبران اور مقامی سرپنچ کمشنر سیکرٹری کے ہمراہ تھے۔
مائیکرو آبپاشی حکومت کی ترجیحی فہرست میں شامل: نوین چودھری
زرعی ، دیہی سرگرمیوں کی ترقی کے نفاذ کیلئے کمیٹی کی میٹنگ منعقد
جموں//پرنسپل سیکرٹری زراعت پیداوار اور بہبودِ کساناں نوین کمار چودھری نے جموں و کشمیر یو ٹی کے لئے زراعت اور دیہی سرگرمیوں کے ترقیاتی پیکج پر عمل درآمد کیلئے کمیٹی کی پہلی میٹنگ بلائی اور جاری پروجیکٹوں پر پیش رفت کا جائیزہ لیا ۔ میٹنگ میں نبارڈ کے چیف جنرل منیجر ڈاکٹر اجے کمار سود ، وائس چانسلر سکاسٹ جموں /کشمیر پروفیسر جے پی شرما ، دونوں ڈویژنوں کے مختلف متعلقہ محکموں کے ڈائریکٹرز بشمول باغبانی ، زراعت ، جانوروں کی پرورش ، بھیڑ پالنے ، ریسرچ سکاسٹ ، سی اے ڈی کے علاوہ یو ٹی کے دیگر عہدیداروں نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کی ۔ ڈپٹی جنرل منیجر نبارڈ مسز انامیکا نے جے اینڈ کے میں نبارڈ کے اقدامات اور مختلف جاری اور مکمل پروجیکٹوں کے بارے میں تفصیلی پرذنٹیشن دی ۔ پرنسپل سیکرٹری نے ایچ او ڈی کو ہدایت دی کہ ایف پی اوز کی پیش رفت اور ایف پی او سکیم کے تحت زیادہ کسانوں کی کوریج کی ضرورت بہتر قیمت کے حصول کیلئے رپورٹ سہ ماہی بنیادوں پر پیش کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ نبارڈ حکومت کے پروڈکٹ اور پی او ڈی ایف آئی ڈی فنڈ کے تحت 17 ایف پی اوز کو فروغ دے رہا ہے ۔ نوین چودھری نے سکاسٹ سے کہا کہ وہ کسانوں کے کھیتوں میں نبارڈ کے ٹیکنالوجی ٹرانسفر پروجیکٹ کی نقل پر کام کرے اور چارہ /سبزیوں کی کاشت کیلئے خاص طور پر ہائیڈروپونکس کی سرگرمیوں کو بڑھائے ۔ نوین چودھری نے مزید کہا کہ مائیکرو آبپاشی حکومت کی ترجیحی فہرست میں شامل ہے ۔ انہوں نے تمام ترقیاتی محکموں پر زور دیا کہ وہ زمینی سطح پر ان کے بہتر نفاذ کیلئے ترقیاتی پروجیکٹوں کیلئے ہم آہنگی سے کام کریں ۔ وی سی سکاسٹ جموں پروفیسر جے پی شرما نے کشتواڑ کے شہد اور جموں و کشمیر کے دیگر علاقوں کی ویلیو ایڈیشن اور جی آئی ٹیگنگ پر زور دیا جس کی پورے ہندوستان میں بہت مانگ ہے ۔ ڈاکٹر اجے کمار سود چیف جنرل منیجر نبارڈ نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی کوششوں اور یو ٹی حکومت کی ہم آہنگی پر زور دیا ۔
اسمبلی حد بندی سے قبل ہی شیڈول ٹرائب کا درجہ د ینے کا مطالبہ
جموں//جموں و کشمیر کے پہاڑی طبقے نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے یونین ٹریٹری میں اسمبلی نشستوں کی سرنو حد بندی سے قبل انہیں ‘شیڈول ٹرائب’ کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔پہاڑی طبقے کا کہنا ہے کہ اگر انہیں یہ درجہ نہیں دیا گیا تو وہ جموں و کشمیر میں نہ صرف سیاسی طور پر بے اختیار ہوں گے بلکہ تعلیمی و معاشی طور پر بھی پچھڑ جائیں گے ۔راجوری ڈاک بنگلہ میں منعقدہ یک روزہ کنونشن میں مقررین نے کہا کہ طبقہ ‘شیڈول ٹرائب’ کا درجہ دیے جانے کا مستحق ہے کیونکہ ہم اس کے لئے درکار تمام لوازمات کے دائرے میں آتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تین دہائی قبل اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے حکومت ہند سے جن سات طبقوں کو درجہ فہرست قبائل قرار دینے کی سفارش کی تھی ان میں پہاڑی طبقہ بھی شامل تھا۔مقررین نے کہا کہ پہاڑی طبقے کا الگ کلچر، رہن سہن، لباس اور زبان ہے مگر سیاسی وجوہات کی بنا پر اسے نظر انداز کیا گیا۔تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی قیادت والی سرکار پہاڑی طبقے کی اس دیرینہ مطالبہ کو پورا کر سکتی ہے مقررین نے کہا کہ مرکز میں آنے والی سابقہ حکومتوں نے انہیں نظر انداز کیا اور اُن سے جھوٹے وعدے کئے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے طبقے سے وعدہ کیا ہے جس کی بھاجپا قیادت والی حکومت وعدہ وفا کرے گی۔مقررین نے کہاکہ اگر انہیں اسمبلی نشستوں کی حد بندی سے قبل ایس ٹی درجہ نہ دیا گیا کہ تو سیاسی ریزرویشن کا براہ راست نقصان پہاڑی طبقے کو بھگتنا پڑے گا اور اس کے منفی اثرات مجموعی طور طبقے کی نوجوان نسل پر پڑیں گے ۔
قبائلی آبادی والے علاقوں میں تعمیر وترقی کے فقدان پر تشویش کا اظہار
سانبہ//اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ نے درج فہرست قبائل کے رہائشی علاقوں کی عدم توجہی اور ترقیاتی فقدان پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ سابقہ وزیر منجیت سنگھ نے ایس ٹی ونگ صدر چوہدری سلیم کے ہمراہ قبائلی بستی کا دورہ کیا اور وہاں پر لوگوں سے ملاقات کی۔ قبائلی آبادی سے تبادلہ خیال کے دوران اپنی پارٹی لیڈران کو خانہ بدوش طبقہ کو درپیش مشکلات ومسائل کی جانکاری دی گئی۔ منجیت سنگھ نے کہا’’ایس ٹی برادری اِس لئے متاثر ہے کیونکہ اُن کا سیاسی استحصال کیاگیا اور ترقی کبھی نہ کی گئی۔ نالیوں، راستوں کی تعمیر، پینے کا صاف پانی، بجلی، اسکول تعلیم اور صفائی ستھرائی اہم معاملات تھے جوکہ دہائیوں سے طبقہ کو درپیش ہیں۔ دریں اثناء قبائلی آبادی کی معزز شخصیات نے اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی جن کا پارٹی میں خیر مقدم کیاگیا۔ ایس ٹی ونگ ریاستی صدر سلیم چوہدری نے کہاکہ وہ قبائلی آبادی کو درپیش مشکلات ومسائل کو جلدا زالہ کے لئے انتظامیہ کی نوٹس میں لائیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ آبادی کی ترقی، صحت و تعلیم سے متعلق امور پر خصوصی توجہ دی جائے۔
اپنی ٹریڈ یونین کا جموں میں اجلاس
یومیہ اجرت اور کنٹریکچول ملازمین کے مسائل پر غوروخوض
جموں//اپنی ٹریڈ یونین نے یونین لیڈران اور کارکنان کی ایک میٹنگ منعقد کی جس میں مختلف امور پر غوروخوض کیاگیا۔ یہاں جاری پریس بیان کے مطابق میٹنگ کی صدارت ٹریڈ یونین صدر اعجاز کاظمی نے کی۔ اجلاس کے دوران کاظمی نے جموں وکشمیر کے مختلف محکمہ جات میں یومیہ اُجرت اور کنٹریکچول ورکرز کو درپیش مشکلات ومسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اپنی ٹریڈ یونین عوام خاص طور سے ڈیلی ویجرز، کنٹریکچول ورکرز اور دیگر ملازمین کو درپیش مشکلات ومسائل کو اُجاگر کرتی رہے گی۔ انہوں نے مختلف سرکاری محکموں میں ملازمین دوست ماحول کا مطالبہ کیا تاکہ وہ بلاکسی دباؤ اپنی خدمات انجام دے سکیں ، دباؤ کی وجہ سے اُن کا کام کاج متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ متعدد سرکاری دفتر میں ناقص ڈھانچہ ہے جہاں پر ملازمین بغیر مناسب سہولیات کام کر رہے ہیں لیکن پھر بھی اُنہیں کسی نہ کسی وجہ سے مبینہ طور ہراساں کیاجارہاہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اپنی ٹریڈ یونین لگاتار اُن کے مطالبات کو اُجاگر کرتی رہے گی۔ انہوں نے ٹریڈ یونین لیڈران سے اپیل کی کہ ممبر شپ مہم میں تیزی لائی جائے تاکہ اِس کو مقررہ وقت کے اندرمکمل کیاجاسکے۔
کشتواڑ سے سرکردہ نیشنل کانفرنس
اور کانگریس کارکنان اپنی پارٹی میں شامل
کشتواڑ//کشتواڑ ضلع سے سرکردہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس کارکنان نے جموں وکشمیر اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ پارٹی ضلع صدر موہندر سنگھ پریہار کی موجودگی میں رشید وانی، بشارت ملک، مومن چھاپو، تصویر، پری لال، ثاقب حسین، محمد عرفان، محمد عباس، نعیم احمد، فاروق احمد، عبدالحکیم، یٰسین فاروق، محمد حسین، طارق حسین، چوہدری ماہیا، فیروز دین، تنویر، نریش ٹھاکر، ارشد حسین، محمد رمضان، اور شبیر احمد وغیرہ نے اپنی پارٹی کا دامن تھاما، جن کا پریہار نے استقبال کیا اور اُمیدظاہر کی کہ اِس سے متعلقہ علاقوں میں اپنی پارٹی کیڈر مضبوط ہوگا۔ عمر مینگنو اور نصیر خان کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں پارٹی لیڈران جعفر حسین، وسیم ماکڑ، مشوت مٹو، سجاد حسین دیو، شیخ عبدالطیف، رحمت چوہدری، عمر مینگنو، شاہید بھٹ، عامیر نقیب، غلام عباس کلام، شیراز، فاروق احمد، محمد اشرف، محمد رفیع وغیرہ بھی موجود تھے۔