تبدیلی فطرت کا قانون ہے اور پچھلے دو سالوں سے کوویڈ 19 سے زندگی کا ہر پہلو متاثر ہوا ہے ، لیکن اگر ہم منفی اثرات کو ایک طرف رکھ کر مثبت پہلوؤں پر غور و فکر کریں تو ہمیں بہت سے مثبت پہلو بھی دکھائی دیں گے، جیسے صاف ماحول ، آلودگی کی سطح میں کمی ، اخلاقی شعور، آپسی بھائی چارہ، اور حیاتیاتی تنوع پر مثبت اثرات بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں اور اگر ہم تعلیم کی بات کریں تو عالمی وباہ کی وجہ سے بچوں کے اندر پوشیدہ صلاحیتیں بھی کھل کر سامنے آ رہی ہیں، بچے کم عمر میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا سیکھ رہے ہیں، آن لائن پڑھنے کے تجربات بھی سیکھ رہے ہیں، جسے ہم dual mode of learning بھی کہہ سکتے ہیں۔ کتاب نویسی کی بات کے بارے میں بات کریں تو کتاب لکھنے کی طرف بچوں کا رجحان پچھلے دو سالوں سے بہت زیادہ نظر آرہا ہےاور آئے دن ہمیںذرایع ابلاغ کی وساطت سے ایسی معلومات موصول ہوتی رہتی ہیں اور ہم بھی اب فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہماری زمین بنجر نہیں بلکہ زرخیز ہے اگرچہ زمینی سطح پر ہمارے پاس وسائل کے ذرایع بہت مفقود ہیں۔
آج میں آپ کے ساتھ اپنی ایک طالبِ علم 'میر اسرا رحمان کی ایک کتاب 'اُمید: یہ آپ کو زندہ رکھتی ہے، HOPE : it keeps you alive کے بارے میں کچھ تعمیری معلومات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔
طالب علم اور مصنفہ کی کتاب آن لائن پلیٹ فارم پر بھی آپ خرید سکتے ہیں ۔
میر اسرا رحمان ١٢ ویں جماعت کی طالبہ ہے جو ضلع پلوامہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں اشمندر سے تعلق رکھتی ہے ۔ضلع پلوامہ سیب اور چاول کی پیداوار کے لیے پوری ریاست میں مشہور ہے۔ 'اسرا رحمان اس وقت پانپور میں رہائش پذیر ہے اور پانپور کشمیر کی پہلی شاعرہ حبہ خاتون کا آبائی علاقہ بھی ہے اور اسے زعفرانی شہر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ یہاں پر زعفران کی پیداوار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
میر اسرا رحمان نے لکھنے کا سفر بہت کم عمر میں شروع کیا تھا۔ اسرا کے مطابق وہ ہمیشہ بہت سی چیزوں کا تصور کرتی تھیں اور اکثر افسانوی تصورات کے بارے میں سوچتی تھیں۔افسانوی تصورات سے زیادہ وہ اس چیز کو حد زیادہ سوچنے سے مشابہت دیتی ہے ۔ مصنفہ کا ماننا ہے کہ زیادہ سوچنا ہمیشہ منفی چیز نہیں ہوتی ،یہ مثبت بھی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا مثبت سوچ کے نتیجے میں دماغ میں گردش کرتی ہوئی کہانیاں سامنے آئی ہے جو اس نے اپنے ناول میں پیش کی ہیں۔ یہ کتاب امید کے بارے میں ہے اور اس میں کچھ ایسے موضوعات کی بھی وضاحت کی گئی ہے جو قابلِ اطمینان ہیں۔ کتاب میں جذباتی دباؤ اور تناؤ کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے جس سے ہم آئے روز گزرتے ہیں اور سامنا کرتے ہیں ۔ مصنفہ نے مزید کوشش کی ہے کہ مختلف رشتوں کے بارے میں اس ناول کے ذریعے بات چیت کی جائے اور تقریباً ہر رشتے کی مختلف زاویہ سے تعریفیں بھی اس میں موجود ہیں۔
جب میں نے اسرا سے کتاب لکھنے کے محرکات کے بارے میں پوچھا تو مصنفہ نے جواب دیا کہ کتاب کا مقصد ان تبدیلیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے جو ہمیں درپیش ہیں اور لوگوں کو ان تبدیلیوں کو اپناتے ہوئے ان کے ساتھ زیادہ آرام دہ محسوس کرانا ہے۔ کتاب اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ قبولیت خوشی کی کلید ہے۔ اور کس طرح قناعت زندگی کے ہر راستے میں مدد کرتی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہم کتنی خوبصورتی سے ان مسائل سے نمٹ سکتے ہیں جن کا ہمیں روزانہ کی بنیاد پر سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
فیض احمد فیض
مستقبل کے منصوبوں اور مصنفہ کی inspiration کے بارے میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مصنفہ نے جواب دیا کہ میں ایک معروف مصنفہ بننا چاہتی ہوں تاہم میں ساتھ ہی ایک اچھی اور مہربان ڈاکٹر بھی بننا چاہتی ہوں تاکہ میں اپنی صلاحیتوں اور اپنے اخلاص سے لبریز الفاظوں سے تیمار داروں کی مدد کر سکوں ، اور متاثر کن مصنفہ نے inspiration کا جواب کچھ یوں دیا.. میری inspiration ہمیشہ سے کوئی ایسا شخص رہا ہے جسے میں ذاتی طور پر جانتی ہوں کیونکہ یہی واحد طریقہ ہے کہ آپ ان کے بارے میں مناسب معلومات حاصل کریں۔ چنانچہ لکھنے کے معاملے میں ہمارے علاقے میں رہنے والے ایک مصنف میر مشہود سے میں لکھنے کے معاملے میں بہت متاثر ہوئی اور آپ اسے میری inspiration بھی کہہ سکتے ہیں اور اس کے علاوہ 'مسِ صاحبہ طارق میری بہت قریبی دوست ہیں اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا کہ میں ایک اچھی ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں، اس کے لیے کونہ بل پانپور سے مرحوم ڈاکٹر میر محمد اشرف وہ میرے لئے ایک حقیقی inspiration رہے ہیں۔ وہ میرے رول ماڈل تھے ، اب بھی ہے۔ تو اِن شاء اللہ ان جیسی عظیم ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں۔ میں قارئین کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر اشرف گذشتہ سال اگست میں کوویڈ 19 وبائی مرض میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران خود اس وباہی مرض کا شکار ہو کر انتقال کر گئے تھے۔
جب میں نے اسرا سے پوچھا کہ آپ کی نظر میں آپ کی طاقت اور ہمت کون ہے تو مصنفہ نے جواب دیا ، اللہ رب العزت کے بعد قارئین میری طاقت ہے جنہوں نے مجھے لکھنے کی طاقت دی میں واقعی میں اپنے قارئین کی شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمیشہ مجھے اچھی چیزیں لکھنے کی ترغیب دی اور اس سب کے ذریعے میری مدد کی ، اور میرے اساتذہ نے بھی ہمیشہ میری مدد کی اور میری حوصلہ افزائی کی کہ میں رائٹرس سوسائٹی کا حصہ بنوں اور مستقبل میں مزید خوبصورت تحریریں لکھوں لیکن میں میرے گھر والوں کا خاص شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کیونکہ میں آج جو کچھ بھی ہوں بس اُن ہی کی وجہ سے ہوں۔اللہ مصنفہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور یہ جذبہ اور لگن انہیں منزل مقصود تک پہنچائے. ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن پلوامہ نے بھی مصنفہ کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اعزازی سرٹیفکیٹ بھی اجراء کی ہیں۔
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
ساحر لدھیانوی
ساکنہ پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی 9205000010