کوٹرنکہ //کوٹرنکہ کے بلاک بدھل میں جہاں تعمیر اتی سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہوئی ہیں وہائیں پنچایت حلقہ راج نگر اپر گھبر کا پنچایت گھر 15برسوں سے مکمل ہی نہیں کیا جارہا ہے جبکہ پنچایتی اراکین انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے کھلے عام پنچایتی اجلاس منعقد کرنے پر مجبور ہیں ۔مقامی معززین نے بتایا کہ پنچایت گھر کی تعمیر 2006میں شروع کی گئی تھی لیکن عمارت کا لینٹر ڈالنے کے بعد ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے سب ڈویژن میں تعمیر اتی سرگرمیوں کے سلسلہ میں بڑے بڑے دعوئے کئے جارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر ابھی تک تعمیرات و ترقیاتی سرگرمیوں دیکھائی ہی نہیں دے رہی ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ 2011میں ہوئے پنچایتی انتخابات کے بعد بھی کھلے میدان میں پنچایتی اجلاس منعقد کئے جاتے رہے ہیں جبکہ اس وقت بھی حالت جوں کے توں ہی ہیں ۔سابقہ سرپنچ نے بتایا کہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ابھی تک عمارت کو صرف لینٹر کی سطح تک ہی پہنچایا جاسکا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں پی ڈی پی صدر کے دور ہ کے دوران بھی علاقہ کے ایک وفود نے موصوفہ سے ملا قات کر کے غیر تسلی بخش تعمیر اتی عمل کے سلسلہ میں جانکاری فراہم کی گئی تھی جبکہ اس سے قبل مقامی و ضلع انتظامیہ سے بھی رجوع کیا گیا تاہم ابھی تک عمارت کو قابل استعمال نہیں بنایا جاسکا ۔مقامی لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ پنچایت گھر کی عمارت کو جلدازجلد مکمل کیا جائے تاکہ ان کو سہولیات مل سکیں ۔