سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ نے دو پولیس اہلکاروں سمیت مزید6 سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیا ہے۔ سرکاری حکم ناموںمیں کہا گیا ہے کہ ان ملازمین کو بھارتی آئین ہندکے دفعہ311 کے تحت برطرف کیا گیا ہے جس کے تحت کوئی تحقیقات نہیں ہوتی اور برطرف ملازم صرف راحت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔یہ شق حکومت کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ بغیر تفتیش کے ملازمین کو نکال دے اگر ’’صدر یا گورنر ، جیسا کہ معاملہ ہو ، مطمئن ہو کہ ریاست کی سلامتی کے مفاد میں ، اس طرح کی تحقیقات کرنا مناسب نہیں ہے‘‘۔ سرکار کی جانب سے جاری علیحدہ علیحدہ حکم ناموں میں کہا گیا ہے’’ کیس سے متعلق معلوم شدہ اطلاعات کی بنیاد پرحقائق اور وجوہات کو زیر غور لانے کے بعد لیفٹیننٹ گورنر اس بات سے مطمئن ہیں‘‘۔ ان ملازمین میں محکمہ تعلیم میں بطور استاد کام کررہے لیاقت علی ککرو ولد شوکت علی ککرو ساکن نامبلہ اوڑی اور عبدالحمید وانی ولد غلام حسن ساکن دپتیار بجبہاڑہ کے علاوہ،محکمہ تعمیرات عامہ کے جونیئر اسسٹنٹ محمد رفیع بٹ ولد محمد منور ساکن پوچھل کشتواڑ، پولیس کے آئی آر پی12 ویں بٹالین کے کانسٹیبل شوکت احمد خان ولد عبدالحمید خان ساکن آرتھ بڈگام،پولیس کانسٹیبل جعفر حسین بٹ ولد محمد اشرف بٹ ساکن ہونجالا کشتواڑ اور محکمہ جنگلات کے رینج افسر طارق محمود کوہلی ساکن پونچھ شامل ہیں۔حالیہ مہینوں میں یہ تیسرا واقعہ ہے۔ 2 مئی 2021کو سرکار نے3سرکاری ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کردیا تھا جن میں کرالہ پورہ کپوارہ سے تعلق رکھنے والے استادادریس جان،پلوامہ میں تعینات نائب تحصیلدار نذیر احمد وانی اور گورنمنٹ کالج ادھمپور کے شعبہ جغرافیہ کے اسسٹنٹ پروفسر ڈاکٹر عبدالباری نائک شامل تھے۔10جولائی کو بھی حکومت نے اسی جرم میں11ملازمین کو برطرف کیا تھا۔ان میں حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے2بیٹے سید احمد شکیل اور شاہد یوسف کے علاوہ کانسٹیبل عبدالرشید شگن، محکمہ صحت کے ملازم ناز محمد الائی، محکمہ بجلی کے انسپکٹر شاہین احمد لون بھی شامل تھے۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر حکومت نے آئین کے دفعہ311 (2) (c) کے تحت مقدمات کی جانچ پڑتال کے لیے مرکزی حکومت کی ایک نامزد کمیٹی کے بعد اقدامات شروع کیے جس نے جنگجویانہ روابط پر ملازمین کو سرکاری ملازمت سے برخاست کرنے کی سفارش کی۔سابق ریاست جموں و کشمیر میں ، جموں و کشمیر آئین کی دفعہ 126 کے تحت ملازمین کے خلاف اسی طرح کی کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا۔ 2016 میں ، جموں و کشمیر حکومت نے 12 ملازمین کو ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر ملازمت سے برطرف کردیا تھا۔