شوپیان// ضلع شوپیان کے ایک اغوا شدہ ٹریٹوریل آرمی اہلکار کی بوسیدہ لاش ایک سال سے زائد عرصے کے بعد کولگام سے بر آمد کی گئی۔162بٹالین ٹریٹوریل آرمی اہلکار شاکر منظور کو ایک سال قبل 2 اگست 2020 کواتوار کی شام اپنے آبائی گائوں ریشی پورہ حرمین میں جنگجوئوں نے اس وقت اغوا کر لیا تھا ، جب وہ اپنی ذاتی گاڑی زیر نمبرJK22B/3960میں ڈیوٹی پر جارہا تھا۔اسکی اغواکاری کی اطلاع کے بعد فورسز اور ا اہل خانہ اور رشتہ داروں نے اسے ڈھونڈ نکالنے کی بہت کوششیں کی تاہم وہ اس کو ڈھونڈ نہیں پائے۔اسی روزشاکر منظورکی گاڑی کو نیہامہ کولگام میں جنگجوئوں نے نذر آتش کردیا۔شاکر منظور عید کی چھٹیوں کے بعد ڈیوٹی پر واپس جارہا تھا جب اسے اغوا کیا گیا تھا۔ 7 اگست 2020 کو تلاشی آپریشن کے دوران فورسز اہلکاروں نے لندورہ گائو ںمیں اغوا شدہ فوجی اہلکار کے خون آلود کپڑے ایک باغیچے سے برآمد کئے تھے۔بدھ کو کولگام ضلع کے محمد پورہ علاقے میں موبائل ٹاور کے نزدیک ایک لاش دیکھی گئی جس کے فوراً بعد پولیس کو مطلع کیا گیا۔پولیس نے بوسیدہ لاش اپنی تحویل میں لی اور اسکی شناخت کا عمل شروع کیا۔کسی طرح پولیس کو شاکر کی لاش ہونے کا شبہ ہوا جس کے بعد اسکے والد کو لایا گیا جس نے لاش کی شناخت کی۔ 414 دنوں بعد فوجی اہلکار کی لاش پولیس نے بر آمد کی ہے۔شاکر منظور کے والد نے اپنے بیٹے کی لاش کی شناخت کرلی ہے اور بتایا کہ یہ لاش انکے اغوا شدہ بیٹے کی ہے۔ تاہم ابھی تک سرکاری طور پر اسکی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ لاش کے نمونے ڈی این اے کرانے کیلئے لئے گئے ہیں۔