مینڈھر //مینڈھر قصبہ میں یاتری بھون کی تعمیر کے سلسلہ میں سابقہ وزیر اعلیٰ جموں وکشمیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ہاتھو ں نصب کی گئی تختی 8برسوں کے لمبے انتظار کے بعد سناتن سبھا اراکین نے توڑ ڈالی ۔سناتن سبھا کے مطابق سابقہ وزیر اعلیٰ جموں وکشمیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے جوں 2013میں سابقہ صوبائی صدر دویندر سنگھ رانا اور سابقہ ممبر اسمبلی مینڈھر جاوید احمد رانا کی موجود گی میں ہنو مان مندر مینڈھر میں یاتری بھون تعمیر کرنے کے لئے سنگ بنیاد رکھا تھالیکن گزشتہ 8برسوں سے انتظامیہ کی جانب سے یاتری بھون کی تعمیر ہی شروع نہیں کی گئی جبکہ سنگ بنیاد کے سلسلہ میں نصب کر دہ تختی نمائش کے طورپر لٹکی رہی ۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں حکام سے رجوع بھی کیا گیا لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاسکا جس کے بعد انہوں نے مذکورہ مقام پر کوئی متبادل عمارت تعمیر کرنے کیلئے نمائشی تختی کو ٹور پھینکا ۔معززین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ کئی سابقہ وزیروں اور ممبر اسمبلی کی جانب سے کئی ایک مقامات پر لوگوں کو بیو قوف بنانے کیلئے نمائشی تختیاں لگائی گئی ہیں جبکہ برسوں بعد بھی پروجیکٹ تعمیر نہیں ہو سکے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ لیڈران کو چاہئے کہ وہ عوام کو بیو قوف بنانے کیلئے مذکورہ نوعیت کے ہتھکنڈے استعمال نہ کریں جبکہ عملی طورپر تعمیر و ترقی کیلئے کوشاں رہیں ۔اس موقعہ پر ہندو سناتن سبھاکے اراکین کیساتھ ساتھ کئی معززین بھی موجود تھے ۔