سرینگر/بلال فرقانی/ انتظامیہ نے تیزاب سے متاثر ہونے والے بچے کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ سماجی میڈیا یا میڈیا اداروں کی جانب سے اس کی کسی بھی قسم کی شناخت کو منکشف کرنے پر جونائل جسٹس قانون کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مربوط تحفظ اطفال اسکیم(آئی سی پی ایس) کی مشن ڈائریکٹر شبنم شاہ کاملی کی جانب سے جاری سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ ایک نابالغ تیزاب سے بچ جانے والوں کی مختلف ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ذاتی طور یا میڈیا اداروں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں جو کہ جوانئل جسٹس قانون مجریہ2015کے دفعہ74 کے تحت بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ جونائل جسٹس (نگہداشت اور تحفظ ایکٹ) مجریہ 2015 کے دفعہ74 کے ذیلی سیکشن (I) میں یہ تجویز کیا گیا ہے’’کسی بھی اخبار ، رسالہ ، نیوز شیٹ یا آڈیو ویزوئل میڈیا کے ذریعے کس بھی قسم کی تحقیقات ، تفتیش یا عدالتی طریقہ کار ، یا بچہ جو دیکھ بھال اور تحفظ کا محتاج ہو یا وہ بچہ جو شکار ہواہو یا جرم کا گواہ ہو ، ایسے معاملے میں ملوث ہو،سے متعلق رپورٹ ، میں نام ، پتہ ،سکول یا کوئی اور خاص چیز ظاہر نہیں کرے گاجو قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں بچے کی شناخت کا باعث بن سکتا ہو اور نہ ہی ایسے کسی بچے کی تصویر شائع کی جائے گی۔‘‘سرکیولر میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص جو دفعہ 74 کی ذیلی دفعہ (I) کی شق کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کو قید کی سزا دی جائے گی جس کی مدت چھ ماہ تک ہو سکتی ہے یا جرمانہ جو دو لاکھ روپے یا دونوں ہو سکتے ہیں۔ سرکیولر میں متنبہ کیا گیا ہے کہ جوینائل جسٹس ( نگہداشت و تحفظ قانون) مجریہ ، 2015 کے ذیلی سیکشن (1) کے تحت واٹس ایپ،فیس بک اور کسی دوسرے سماجی پلیٹ فارم پر اس قسم کی سرگرمیوں کو پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔