اہل ایمان پر دعویٰ ایمان کے بعد واجب ہے کہ لوازمات ایمان پورے کریں۔لوازمات دین اور شعار اسلام کا بنیادی جُز رسالت پر ایمان ہے۔اہل اسلام اس بات سے باخبر ہیں کہ ماہ ربیع الاول کے ایام میں ہی تاجدار حرم کائنات کی طرف مبعوث فرمائے گئے۔مناسب ہے کہ ان ایام میں بالخصوص سیرت طیبہ کا مطالعہ کرکے اپنے نفوس کو نبوی سانچے میں ڈالا جائے۔ رسالت پر ایمان لانے کے بعد پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض حقوق ہم پر عائد ہوتے ہیں کہ ہم ان کی حق ادائیگی کریں۔ اختصاراً حقوق نبویؐ کا تذکرہ آرہا ہے۔
(۱) رسالت پر ایمان:اولاً اسلام کے متبعین پر لازم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور رسالت پر لسان، قلب و جوارح سے ایمان لائے۔ رسول رحمتؐ کو آخری نبی اور آخری رسول تسلیم کرلے۔ ختم نبوت پر کامل ایمان رکھے۔ مدعیان نبوت سے براءت کا اعلان کرے۔ قادیانی و دیگر جھوٹے مدعیان نبوت سے تحذیر اختیار کرے۔ نبوی اوامر (احکامات) کو بجا لائے، نواہی سے اجتناب کرے اور الصادق الامین کی بتائی ہوئی اخبار کی تصدیق کرلے۔
(۲) تعظیم، احترام:سرتاج رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقاریر کا ادب و احترام ملحوظ نظر رکھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ِمبارک کا بھی احترام ہو اور نبی کریم ؐ کی بات کا بھی احترام ہو۔ سنن و احادیث کا بھی احترام ہو۔ نبی کریم ؐ کے فرمان کے مقابلے میں کسی اور کا قول و فعل نہ لایا جائے۔ احادیث پڑھتے پڑھاتے وقت تعظیم و توقیر کا خیال رکھیں۔جس طرح محدثین کرام، ائمہ کرام، فقہاء عظام، اولیاء کرام نے نبویؐ ارشادات و فرمودات کو سینے سے لگایا تھا۔ نبویؐ فرامین بحث و تمحیص کے لئے استعمال نہ کئے جائیں بلکہ عملی زندگی میں ان کی پیروی کی جائے، یہی خیر و برکت والا راستہ ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ(ترجمہ) "سو جو لوگ اللہ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آفت آئے یا ان پر کوئی دردناک عذاب نازل ہوجائے".(سورہ نور)
(۳) محبت رسول ﷺ:ایمان کا دعویٰ تب تک ناقص ہے جب تک ہمارے قلب و جگر میں رسول کریم ؐ کی محبت نہ ہو۔ہماری عبادات، ہمارے اجتہادات تب تک باطل ہے جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہ ہو۔ نبی کریم ؐ کی ذات سے بھی محبت اور نبی کریم ؐ کی بات سے بھی محبت ہو۔یہ محبت ہر چیز پر غالب ہو۔ کائنات کا متفق اصول ہے کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کا مطیع و فرمانبردار ہوتا ہے۔ محبت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ مخالفین کا تعاقب کیا جائے، ختم نبوت کا دفاع کیا جائے۔ نبی کریمؐ سے محبت کرنے والوں سے محبت کی جائے اور آپ کے دشمنوں سے براءت کا اظہار کیا جائے۔ منکرین حدیث کا تعاقب دلائل و براہین کی روشنی میں کیا جائے۔
فرمان نبوی ﷺ ہے کہ،(ترجمہ) "تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اُس کے والد (یعنی والدین)، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے محبوب تر نہ ہو جاؤں"(بخاری، مسلم)
(۴) اطاعت و اتباع:سید البشر، سید المرسلین، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو کائنات کے لئے اسوہ حسنہ بنا کر بھیجا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن و انس کے لئے بشیر و نظیر ہیں۔ امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم رشد وہدایت کے علمبردار تھے۔آپ کی پیروی میں ہی اللہ کی پیروی ہے۔ صحابہ کبار کے راستے پر چل کر اپنا تن، من، جان و مال نبی کریم ؐ کے قدموں پر قربان کریں۔ تحریری و تقریری دنیا سے نکل کر عملی زندگی میں نبی کریم ؐ کی فرمانبرداری کی جائے۔ عقائد، عبادات، معاملات، اخلاقیات، سیاست، کاروبار، حدود و قوانین غرض زندگی کے ہر شعبہ میں تاجدار حرم کی اطاعت لازمی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے اشعار میں فرماتے ہیں :
(ترجمہ(:جان کی قم! یہ بہت عجیب کام ہے۔ اگر تمہارے محبت سچے تھے تو اسکی اطاعت کرتے، چونکہ جو کسی سے محبت کرتاہے اسکی پیروی کرتاہے اور اسکی فرمان پر عمل کرتاہے"۔
(۵) کثرت درود:درود ایک عظیم عبادت ہے۔ درود بڑے بڑے مسائل کا حل ہے، درود بڑی بڑی آفات کے مقابلے میں ڈھال ہے۔ درود ہلاکت خیز امراض کی دوا ہے۔ درود خواں پر اللہ کی برکات و رحمتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے۔ درود خواں کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں، درجات بلند کردئے جاتے ہیں اور حسنات میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ درود خواں کی فقیری، غربت غنا میں تبدیل کردی جاتی ہے درود محبت نبویؐ کی دلیل ہے۔ جو درود سے غافل رہا، اس نے جنت کی راہ ٹھکرا دی۔ جس نے درود سے غفلت اختیار کی اس نے اپنی عبادات کو ضائع کروادیا۔
(۶) تنقیص و غلو سے اجتناب:جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو الوہیت کے درجہ پر پہنچا دینا شریعت کی نگاہ میں کفر و سرکشی ہے ،اسی طرح نبی کریمؐ کی شان گھٹانا بھی کفر اکبر اور نفاق عظیم ہے۔ شریعت نے ہمیں ہر وقت راہ اعتدال میں رہ کر معتدل رہنے کی ترغیب و تلقین کی۔افراط و تفریط سے سے بچ کر وسط میں رہنے کی تاکید کی۔غلو اور تنقیص دو ایسے امراض ہیں جو انسان کے ایمان کو زیر زمین سپردخاک کردیتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ اہل اسلام سیرت نبویؐ کا مطالعہ کرکے اپنے گھروں میں شریعت کی مبارک تعلیمات نافذ کریں۔کتب سیر کا مطالعہ اس ضمن میں نہایت ہی مفید رہتا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ سیرت کے حقیقی پیغام سے ہمیں متعارف کروائے اور عملی زندگی میں ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
(مدرس:سلفیہ مسلم ہائر سیکنڈری پرے پورہ۔رابطہ نمبر :6005465614)