اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات کے ساتھ ساتھ انسانوں سے دنیا کو آباد کیا۔ جس کا آغاز باضابطہ طور پر اول الذکر پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے کیا ۔ رب العالمین نے اپنی اس خاص مخلوق کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے تمام قسم کے وسائل دستیاب رکھے ہیں۔ انسان کو روحانی سکون اور قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف پیغمبروں کو بحیثیت روحانی پیشوا اور رشد و ہدایت کا ذریعہ بنایا۔ یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ چلتا رہا اور عظیم الشان پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم پر ختم ہوا۔ اس طرح آپ ؐ اس روحانی قلعے کی آخری اینٹ اور سلسلہ روحانیت کی آخری کڑی بنائے گئے ہیں۔
ماہِ ربیع الاول میں دنیا کے تمام مسلمان اللہ کے آخری نبی رحمت للعالمینؐ سے اپنی عقیدت و محبت کا بھرپور اظہار کرتے ہیں ۔ سیرت کی محفلیں، مجلسیں و دیگر پروگرام منعقد کرتے ہیں ۔یہ پیغمبر الآخرالزمان صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت باسعادت اور ظاہری طور دنیا سے پردہ فرمانے کا مقدس ماہ مبارک ہے ۔ اس ماہ میں ہر طرف سیرت رسول ؐ کو اجاگر کر کے بے چین دلوں کو قرار، آنکھوں کو ٹھنڈک اور بے اضطرار جسم کو سکون پہنچایا جاتا ہے ۔غرض اس طرح اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات گرامی سے غیر معمولی محبت کی عکاسی ہوتی ہے ۔
حقیقت یہی ہے کہ آپؐ کی مبارک زندگی کا کوئی بھی پہلو پوشیدہ نہیں ہے۔ آپؐ کی سیرت مبارکہ میں زندگی کے تمام پہلوؤں پر رہ نمائی حاصل ہوتی ہے چہ جائیکہ یہ دینی، اخلاقی، روحانی، سماجی، معاشی یا تعلیمی ہو ، یہاں تک کہ آئے روز جدید سائنس کی تحقیقات سے بھی خاتم مرسلینؐ کے قول و فعل کی تصدیق ہوتی رہتی ہے ۔ سائنس ترقی کے منازل طے کرنے کے باوجود بھی صدیوں تک سونے کا طریقہ بیان کرنے سے قاصر رہی ہے جب کہ اللہ کے نبیؐ نے آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے آرام فرمانے کا طریقہ بتایا۔ جس پر جدید سائنس نے تحقیق کر کے اپنی تصدیق کی مہر ثبت کی ہے۔ اللہ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دائیں کروٹ پر آرام فرماتے تھے اور دایاں ہاتھ داہنے رخسار کے نیچے رکھتے (صحیح البخاری)جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق دائیں کروٹ کے سونے پر دل پر زور کم پڑتا ہے اور خون دل سے جسم کے باقی حصّے تک بہ آسانی گردش کرتا ہے، اسی طرح ایک اور مبارک قول میں اللہ کے آخری نبیؐ نے پیٹ کے بل لیٹنے سے منع فرمایا ہے۔ اس ضمن میں جدید سائنس کی تحقیق یہی معلومات فراہم کرتی ہے کہ منہ کے بل اوندھے لیٹنے سے دل و گردوں پر منفی اثرات پڑتے ہیں اور نظامِ ہاضمہ بھی متاثر ہو جاتا ہے ، مزید اللہ کے نبیؐ عام طور پر دوپہر کے وقت قیلولہ فرمایا کرتے تھے ۔ آپؐ نے فرمایا ’’قیلولہ کرو کیونکہ شیطان قیلولہ نہیں کرتاـ‘‘ (شعیب الایمان، طبرانی)
اس پر ماہرین نے اپنی تحقیق مکمل کرتے ہی رسول اللہ ؐ کے اس مبارک فرمان پر اپنی مہر ثبت کر دی۔ مشہور و معروف پروفیسر جم ہارن، ڈائریکٹر سلیپ ریسرچ لیبارٹری انگلینڈ کے مطابق ’’ دوپہر ۲ سے ۴ بجے تک انسانی جسم میں اتار چڑھاؤ (تغیرات) کا گہرا عمل ہوتا ہے، اس لیے زیادہ تر لوگوں پر اس وقت نیند کا غلبہ ہوتا ہے‘‘ ۔ پروفیسر صاحب تجویز کرتے ہیں کہ اگر دوپہر ۲۰ منٹ تک سویا جائے تو کام کرنے کی قوت بڑھ جائے گی اور جسم میں چستی اور راحت محسوس ہوگی۔
حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے اپنے ایمان لانے سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزوں کے متعلق سوال پوچھا جس میں تیسرا سوال یہی تھا کہ " کیا بات ہے کہ بچہ کبھی باپ پر جاتا ہے اور کبھی ماں پر" ؟ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے درجواب میں فرمایا کہ " بچہ باپ کی صورت پر اس وقت جاتا ہے جب عورت کے پانی پر مرد کا پانی غالب آجائے اور جب مرد کے پانی پر عورت کا پانی غالب آجائے تو بچہ ماں پر جاتا ہے۔ " ( صحيح البخاری )اس ضمن میں سائنس نے حیران کن انکشافات کر کے مرد کو باعثِ حیرت میں ڈال دیا ہے اور عورت کے حق میں مضبوط دلائل دے کر دفاع کیا ہے۔ اس تحقیق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان کو سو فیصد حق قرار دیا، جس نے کسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کئے بغیر آج سے تقریباً چودہ سو سال پہلے اس سے پردہ اٹھایا۔ اس طرح کا مشاہدہ سنہ 1905 ء میں جنسی کروموسوم کے مشہور ماہر Nettie Sterens نے ثابت کر کے دیا۔
مکھی کے حوالے سے حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب مکھی کسی کے پینے ( یا کھانے کی چیز ) میں پڑ جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دے۔ کیونکہ اس کے ایک پَر میں بیماری ہے اور اس کے دوسرے پَر میں شِفاء ہوتی ہے‘‘۔ ( صحیح البخاری، کتاب الطب )
اس حدیث مبارک پر سب سے پہلے ڈاکٹر مورس بکائی نے اعتراض کیا ، جس سے اُس وقت کے مشہور و معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر حمید اللہ نے شاندار جواب دے کر یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ لیکن آج کے کئی جدید محققین نے مکھی پر تازہ تحقیق کر کے اس حدیث کی حقانیت کو ثابت کیا ہے ۔ مشعور و معروف کالم نویس شہباز رشید نے اپنے ایک سائنسی اور اسلامی مضمون میں لکھا ہے کہ اس حوالے سے مصر کے " مائکرو بائیولوجی اینڈ ایمونیالوجی ڈپارٹمنٹ، نیشنل ریسرچ سینٹر کے محقق رہاب محمد عطا نے ورلڈ جورنل آف میڈیکل سائنسز میں 2014ء میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا۔ جو حقیقی طور پر جان کلراک اور ڈاکٹر مصطفیٰ حسن کی تحقیق پر مبنی ہے۔ جان کلراک آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف میکوائر میں کام کرتے ہیں ۔اس کے مطابق "اس موضوع پر اس سے پہلے کوئی سائنسی تحقیق نہیں ہوئی تھی "، رہاب محمد عطا نے اس ریسرچ پیپر کے ابسٹریکٹ میں حدیث کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ " اس تحقیق میں مکھی کی چار قسموں (Species) کا انتخاب ان کی پروں پر دافع جراثیم (Antibacterial) اور ضد فطر (Anti fungal) کی خاصیت دریافت کرنے کے لئے کیا گیا ہے ۔ تجربہ سے اخذ شدہ نتیجہ یہ تھا کہ داہنی پر کے نچوڑ (Extract) کا میڈیا (Media) بیکٹیریل اور فنگل نمو (Bacterial and fungal growth) سے محروم ہے جب کہ بایاں پر والے میڈیا پر بیکٹیریل اور فنگل نمو کا مشاہدہ کیا گیا ۔ اس سے یہ طے کیا گیا کہ مکھی کا دایاں پر ضدِ نامیہ (Antibiotic) یا جراثیم کش چیزوں کا ایک نیا انقلاب شروع کر سکتا ہے جو مزید تحقیق کی متقاضی ہے" ۔
کورونا کی مہاماری ابھی بھی مسلسل جاری ہے ۔ اس حوالے سے بھی اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم نے اُمت کو رہ نمائی فرمائی ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ اور حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے یہ ارشاد فرمایا کہ "طاعون بصورت ایک عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر نازل ہوا تھا، لہٰذا جب تم کسی علاقے میں اس کے متعلق سنو تو وہاں مت جاؤ اور اگر کسی علاقے میں طاعون پھوٹ پڑے تو فرار اختیار کرتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو"۔ (سنن أبي داؤد، صحیح مسلم) اس حدیث مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو ایسے علاقوں سے باہر یا اندر جانے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ وبائی بیماری کو دوسرے علاقوں تک پھیلانے کا سبب نہ بنایا جائے ۔ یہی وجہ تھا کہ عوام الناس کو اس قانون پر عمل پیرا کرنے کے لئے انتظامی سطح پر ذمہ داران نے مارچ ۲۰۲۰ء میں تمام آنے اور جانے والے راستوں کو بند کیا تھا تاکہ اس وباء کو مزید بڑھنے سے روکا جائے ۔
حضرت عُمر فاروقؓ کے دور خلافت میں عام الرمادہ یعنی ہلاکت کا سال (Pandemic year) آیا ،جس میں خطرناک وبائی بیماری پھوٹ پڑی۔ لشکر اسلام حضرت عمرو بن العاصؓ فرماتے ہیں کہ یہ وباء لوگوں کے اجتماع (Crowding) سے پھیلتی ہے تو آپ ؓ نے لوگوں کو پہاڑوں میں محصّور (Isolate) کر دینے کا مشورہ دیا ، چنانچہ سرکاری سطح پر لوگوں کو گھروں میں پابند (Lockdown) کیا گیا تو تین دن میں ہی یہ وباء ختم ہو گئی ۔یہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور آپؐ کے جانثار صحابہ کبار ؓ کی بصیرت افزا حکمت و دانائی کا فیصلہ تھا جس سے اس مہلک وباء کو بھی شکست دینے کا طرز عمل وجود میں آگیا ۔
اس کے علاوہ ہر قسم کی ماحولیاتی آلودگی خصوصاً زمین و فضائی آلودگی کا تدارک، پانی اور پیڑ پودوں کا تحفظ اور دیگر پیدا ہونے والے مسائل کے تدارک کے لئے سیرت النبی ؐ کی طرف رجوع کرنا بے حد ضروری ہے ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات مبارکہ میں ظہور پذیر ہونے والے کئی معجزات کو سائنس ابھی بھی ثابت کرنے سے قاصر رہی ہے۔ جب کہ دیگر کئی اہم معجزات کے متعلق سائنس سوچ بھی نہیں سکتی ہے۔ ہمارے لئے سائنس کی تصدیق ضروری نہیں ہے بلکہ جس رسول اللہ ؐ کے مبارک قول کو سائنس ثابت نہ کر سکی ،وہ سائنس کی ہی کمزوری گنوائی جائے گی ۔
وقت کہ اہم ضرورت ہے اس عظیم الشان پیغمبر الآخرالزمان امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰؐ کی سیرت مبارک کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے اور ہر وقت اس پیغام کو عام کیا جائے ۔ دین اسلام کو جاننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے سیرت رسولؐ کا مطالعہ کرنا بے حد ضروری ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کو بھی اسوہء حسنہ کے رنگ میں رنگنی چاہیے تاکہ " لقد کان لکم فی رسول للہ اسوۃ حسنہ " کا بین ثبوت دیا جائے ۔اللہ پاک ہمیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی مبارک زندگی کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی توفیق بخشے – آمین۔
(ہاری پاری گام ترال۔رابطہ- 9858109109)