۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصنف: راجہ یوسف
سنہ اشاعت: 2021 ء
ناشر: جی۔این۔کے۔ پبلکیشنز
صفحات: 252
قیمت: =/750
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ یوسف کا افسانوی مجموعہ "نقش فریادی" 2021 ء میں شائع ہونے والا ان کے 1988 ء میں مطبوعہ افسانوی مجموعے "کاغذی پیرہن" کے بعد دوسرا مجموعہ ہے۔
دونوں مجموعوں کے عنوانات مرزا غالب کے مشہور و معروف شعر:
نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
سے مستعار ہیں۔ تازہ مجموعے میں شامل 33 افسانوں اور27 افسانچوں کے دقیق مطالعے سے مترشح ہوتا ہے کہ ان کے پلاٹ، کردار، مکالمے، نقطہ ہائے نظر اور آغاز و اختتام عنوان کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔ فنی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہر فن پارہ نوک قلم سے خارج ہوتے ہی لوح قرطاس پر فنکار کے فکر و فہم کا ایک دھندلا سا خاکہ (نقش) پیش کرتا ہے۔ اس طرح الفاظ فنکار کی مجرد فکر سے ہجر اور جدائی کا نوحہ یعنی فریاد کرتے ہیں۔ اب فنکار کا فن یا فکر کاغذی لباس میں مستور ہوتا ہے جو قاری کی قطع و برید کا شکار ہوتے ہوئے نت نئے معانی پیش کرتا ہے۔ اس طرح جو فکر فنکار کے فکری سانچے میں محفوظ تھا، اسی کی اب من مانے طریقوں سے تعبیر کی جاتی ہے اور اس کو آسانی کے ساتھ misinterpret اور misrepresent کیا جاتا ہے۔ الفاظ چیخ چیخ کر پکارتے ہیں کہ ان کا منبع اور سرچشمہ کہاں ہے اور کیا ہے، لیکن قاری کی چیرہ دستیاں انہیں آہو بکا میں مبتلا کرتی ہیں۔ یہ دراصل "نے" کا "نیستان" سے جدا ہونا جیسا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ "لے" پیدا ہوتی ہے جو دلوں کو اپنی اصل کی طرف مراجعت کرنے کے لئے دھڑکاتی رہتی ہے۔ تاہم غالب نے فریاد کو سماعت (صوت، صدا، غنا) سے بے نیاز کرکے اس کا رخ بصارت (الفاظ، نقش، خاکہ) کی طرف موڑ کر کہا:
فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
نالہ پابند نے نہیں ہے
ممکن ہے اس طرح غالب نے صوتی فن کو فن پاروں کا رہین منت بنا دیا ہو! اس کے باوجود غالب نے اپنی غزل سرائی کو "نالوں" سے ہی تعبیر کیا ہے:
بلبلیں سن کر میرے نالے غزل خواں ہوگئیں
بہرحال "نقش فریادی" اس درد کا خاکہ پیش کرتا ہے جس سے وادئ گلپوش کم و بیش پچھلی تین دہائیوں سے کراہ رہی ہے۔ افسانہ نگار یہ تمنا کررہے ہیں کہ کس طرح وادی اپنی اصل (امن، آشتی، انسان دوستی، اخلاقی اقدار) کی طرف رجوع کرنے کو تڑپ رہی ہے۔ تاہم اس مجموعی تاثر کے ساتھ ساتھ مجموعے میں موجود کئی افسانوں کا پلاٹ ظاہری طور پر عنوان سے ذرا ہٹا ہوا معلوم ہوتا ہے، لیکن ان کے بین السطور سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے اندر بھی وہی فریاد اور احتجاج موجود ہے، جس کی تپش نے فنکار کے جگر کو کباب کیا ہے۔ دراصل معاشرے میں حرص و ہوس اور مادیت پرستی کے سیل رواں کے سامنے فنکار ایک بند باندھنا چاہتے ہیں، تاکہ معاشرہ اپنی اصل یعنی سادہ فطرت کی طرف رجوع کرسکے۔ اس طرح یہ مجموعہ افادی ادب کی ایک منفرد مثال پیش کرتا ہے، کیونکہ ادب نہ صرف زندگی کے مختلف رویوں کی تنقید اور تفسیر ہوتا ہے، بلکہ یہ اپنے اندر نئی زندگی کو تخلیق کرنے کا ملکہ بھی رکھتا ہے!
جب ہم پہلے افسانے "نقش فریادی" کو دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ عاشق ایک خاص قسم کی نرگسیت کا اسیر ہے تبھی وہ معشوق سے اس طرح مخاطب ہوتا ہے: " میں تم میں اپنی مرضی کے رنگ بھرنا چاہتا ہوں۔" (ص۔ 23) اس کی ساری تگ و دو کا مقصد بھی نمایاں ہے کہ وہ "سمندر ایسی گہری آنکھوں میں محبت کی سیپ کی تلاش" کو "مقصد حیات" (ص۔ 23) بنا رہا تھا۔ چونکہ غیر سے انسان کا کتنا ہی شغف اور انس ہو، وہ پھر بھی انسان کے اندر موجزن فکر کو سراہنے کا حق ادا نہیں کرسکتا، اس لئے انسان کا اپنا ہاتھ ہی اصل آئینے کا کام دیتا ہے۔ یہ شاید فنکار کا تواضع ہے کہ وہ اپنے فن پارے کو یوں گویا کرتا ہے: "اور نقش فریاد کر رہا تھا کہ تم ناکام رنگ ساز ہو۔" (ص۔ 24) یہ افسانہ اعلی (sublime) ادب کا نمونہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالٰی کی ذات والا صفات کی ایک واحد ذات ہے جس کی تخلیق (فن، انسان) پکار اٹھتی ہے "سبحانک ما ذکرناک حق ذکرک۔"
"مکڑی" کئی اعتبار سے مجموعے کا ایک اہم افسانہ ہے۔ دراصل فکر ہی کسی بھی انسان کی شناخت کا ذریعہ بنتی ہے۔ تاہم مجرد فکر، جو معاشرے کے زندہ پردے پر منقش نہ ہو، کسی توصیف کا موجب بن سکتا ہے نہ ہی کسی تعییب کا! وجہ صاف ظاہر ہے کہ فکر بنیادی طور پر مفکر کے دماغ کا ایک جزو لاینفک ہوتا ہے جسے سراہا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی طعن و تشنیع کا شکار کیا جاسکتا ہے۔ البتہ جب "سوچ، فکر اور احساس کی تکمیل" سے "ہنر" وقوع پذیر ہوتا ہے تو اس کی "سرزنش" بھی ہوسکتی ہے اور اس کو "ستائش" کرنے والے بھی مہیا ہوسکتے ہیں۔ (ص۔ 25) مکڑی بھی اپنا جالا، جسے قرآن نے "بیت، گھر" سے تعبیر کیا ہے، کمال مہارت سے بنتی ہے۔ اس طرح یہ جالا ہنر مندی (تکنیکی لحاظ سے؛ کیونکہ یہ ایک خاص قسم کا ریشم ہوتا ہے!) کا ایک شاہکار ہوتا ہے۔ لیکن یہ جالا یا گھر اتنا ناپائیدار اور غیر مستحکم ہوتا ہے کہ اسے قرآن نے "اوہن البیوت، گھروں میں کمزور ترین گھر" قرار دیا ہے، جسے مکڑی مختلف کیڑوں کا شکار کرنے کے لئے بنتی ہے اور خود کہالت اور کسالت کا خوب مظاہرہ کرکے انہی کیڑوں کو اپنا نوالہ بناتی ہے! یہاں پر مرکزی کردار (protagonist) کا ہنر کسی ستائش کا مستحق نہیں رہتا کیونکہ مکڑی "اس کی سوچوں میں اپنے جالے بننے کی کوشش کرتی رہی اور وہ کامیاب بھی ہوگئی۔" (ص۔ 27) وہ تو اصل میں "اس کے جسم کے ساتھ ساتھ اسے ذہنی طور بھی اپاہج بنانے کی ضد" (ص۔ 27) پر اڑی تھی۔ اور جب اس کو مکڑی نے ایک کیڑے کی طرح شکار کیا تو اس نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ "کاش یہ احساس بھی کبھی مر جاتا" (ص۔ 28) کیونکہ "اسکے ہنر کی چابی" کب کی "زنگ آلود ہوچکی تھی۔" (ص۔ 25) ہاں اسے ایک قسم کی راحت ضرور ملی جب اس نے مکڑی کو اپنے "پھندے پہ جھولتا ہوا پایا!" (ص۔ 28)
افسانہ "ناقابل تنسیخ" ایک طرح سے تانیثیت (feminism) سے متاثر شہزادی کے خدشات کو زبان دیتا ہوا نظر آتا ہے، کیونکہ وہ تخلیق کار کے تخیل کا حصہ بننے سے بھی انکاری ہوتی ہے۔ اسی لئے وہ اپنی وحشت زدگی کو یوں زبان دیتی ہے: "میں تیرے فعل کی مرتکب گردانی جاؤں گی۔ تجھے جنت سے نکال باہر کردیا جائے گا۔ پھر مجھے تیرے ساتھ تیری خواہشوں کی تکمیل میں سرگرداں رہنا ہوگا۔" (ص۔ 31)
چونکہ تخلیق کار کو "تخیل کی وسعتوں کی لامحدودیت" پر یقین کے ساتھ ساتھ "زمینی سوچ میں دلدل" (ص۔ 31) کی موجودگی کا بھی احساس ہوتا ہے، اس لئے اسے شہزادی کے اس رد عمل سے تاسف ہوتا ہے اور وہ کہہ اٹھتا ہے: "اس نے میری تخلیقی صلاحیت کا مذاق اڑایا تھا۔ میری قوت بشری کو چیلنج کیا تھا۔۔۔ میں کافی دیر تک اس بات پر غور کرتا رہا کہ کیا واقعی ایک تخلیق کار خیالی دنیا کا باشندہ ہوتا ہے جس کا ظاہری رچاؤ بساو پھیکا ہوتا ہے۔" (ص۔ 32) تاہم یہ یقین دلانے کے باوجود کہ "میں تخلیق کار ہوں۔ اولاد آدم ہوکر بھی وہ حرکات نہیں دہراؤں گا جن سے تم بے زار ہو"، (ص۔ 31) شہزادی "ساری کی ساری اس کے وجود کا حصہ ہوجاتی ہے" (ص۔33) کیونکہ تخلیق کار کے تخلیقی عمل کی تکمیل ہی حوا کی بیٹی پر منحصر تھی، یعنی "وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ!"
افسانہ "کن فیکون" انسان کی اس آرزو کو زبان دیتا ہے جس کے تحت وہ "ستاروں پر کمند" ڈالنے کی تگ و دو میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ تاہم اس کی چاہت کا منہ زور گھوڑا اسے کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ ہنر اور تکنیک میں ارتقائی طور پر عروج پاکر انسان نے نہ صرف غربت، افلاس اور بیماری سے نجات پائی بلکہ موت سے بھی خلاصی حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے مختلف اجرام فلکی کو اپنا مسکن بنانا شروع کیا۔ تاہم حیات بخش اور آرام دہ اشیاء کی کھوج میں وہ جہاں جہاں پہنچا، وہاں یہ چیزیں اس کی خرد برد کا شکار ہوکر مفقود ہوتی گئیں۔ جب کائنات اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود اس کے لئے تنگ ہونے لگی تو اسے خیال آیا کہ ہم نے اپنی قابلیت پر نازاں ہوکر پوری کائنات کو "آلودہ بنا دیا!" (ص۔ 46 ،47، 48) تاہم فطرت کے ساتھ اپنی بے جا مداخلت کو محسوس کرتے ہوئے جب وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ یہاں پر بھی ایک اخلاق سے عاری وجود معلوم ہوتا ہے، کیونکہ وہ "مذہبی تعصب، فرقہ پرستی، سماجی نابرابری اور اونچ نیچ سے پیدا ہونے والے" (ص۔ 48) فساد سے ذرا بھی متنفر نہیں لگتا۔ صاف ظاہر ہے کہ انسان مادیات کا نظم بگڑنے سے خوفزدہ تو ہے لیکن اسے اپنے اخلاق باختہ ہونے کا کوئی غم نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ انسان بحیثیت مخلوق "خشکی اور تری میں انسانوں کے کرتوتوں کی وجہ سے فساد برپا ہوگیا، تاکہ انہیں ان کے چند کرتوتوں کا مزہ چکھایاجائے" (قرآن) کی آفاقی صدا پر کان دھر کر اپنے رویے میں تبدیلی پیدا کرنے کی سعی کرنے کے ساتھ ساتھ خالق سے اس کی تخلیق (کائنات) کی بازیافت کی التجا بھی کرتا، لیکن اس کے سر پر یہ دھن سوار ہے کہ خالق پھر سے "کن" (ص۔ 49) کے ذریعے نئی اور قابل سکونت کائنات کی تخلیق فرمائے۔ لیکن یہاں پر بھی اسے یہ کھٹکا لگا ہوا ہے کہ کہیں اسے نئی کائنات میں وراثت کے درجے سے ہٹا نہ دیا جائے! (ص۔ 50) ایسا کیوں نہ ہو؛ اسے تو شیطان نے ابتداء آفرینش میں ہی سکھا دیا تھا کہ "اس درخت کا میوہ تمہیں زمین کی ابدی ملکیت سے سرفراز کرے گا!" (قرآن)
"چیل، چنار اور چوزے" مجموعے کا ایک منفرد افسانہ ہے۔ اس میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط وادی کی ناگفتہ بہ حالت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ "ہول ہول" (ص۔ 69) کی آواز کشمیری خواتین کی روایتی صدائے احتجاج رہی ہے جسے وہ چوزوں کو چیل کے پنجوں سے بچانے کے لئے استعمال کرتی آئی ہیں۔ چیل پھر چنار میں چھپ کر ان کو نوچ کھاتی تھی۔ واضح رہے کہ ان چوزوں سے کشمیری خواتین کی گھریلو معیشت چلتی تھی اور یہ چوزے ایک طرح سے ان کو خود کفیل بنانے میں مدد کرتے تھے۔ اگرچہ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ بہت ساری گھریلو صنعتوں کی طرح مرغے (چوزے) پالنا بھی مفقود ہوتا گیا، تاہم کشمیری خواتین کو آئے دن انسان نما چیلوں کے خلاف سینہ سپر ہوکر "ہول ہول" کی فریاد کو دہرانا پڑا۔ اب ان کے لئے بستیوں کا ہر تاریک کونہ ایک چنار کے گھنے سائے کا مترادف تھا (ص۔ 70، 71) جہاں ان کے نونہالوں کو نوچا جاتا تھا۔ "کاغذی پیراہن" میں ملبوس یہ مستورات ہی اس احتجاج کا حصہ بن سکتی تھیں کیونکہ زمانے کی ستم ظریفی نے کشمیری مردوں کو قرنوں سے "احتجاج پر بیگار کو ترجیح دینا" سکھایا تھا۔ تاہم جب سے بھدے گدھ اور چیلوں کے درمیان ساز باز ہوئی تھی، تب سے چوزوں کا جینا اور زیادہ دو بھر ہوگیا تھا کیونکہ گدھ آدم خور ہی نہیں بلکہ مردار خور (ص۔ 71) بھی واقع ہوئے تھے!
کشمیری والدین کے اسی طرح کے درد و کرب کو "درد جب حد سے گزر جائے تو ۔۔۔" اور "صرف اٹھارہ سال" میں بھی الگ الگ انداز بیان کیا گیا ہے۔ "جنگل راج" میں سیاسی بازیگری کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ لومڑی کے اکثریتی سیاسی دبدبے (majoritarianism) کو شیر کی لادین سیاست (secularism، ص۔ 87) کے ساتھ منسلک کرکے اقلیتوں پر ظلم و جور کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ بلی کا خاکہ بھی کامل مہارت سے کھینچا گیا ہے: "شیروں کی سب سے کمزور جاتی بلی کی مدد کرتے رہے اور ان کو ساری شیر کومنٹی کا امام بنا دیا۔ بلیاں آئے روز فتوے جاری کرتی رہتی تھیں۔" (ص۔ 89) افسانے کا خاتمہ بھی نہایت بر جستہ ہے کہ ہر کوئی تمنا کررہا تھا کہ "شیر پھر سے جنگل کا راجہ بن جائے۔ لیکن شیر ۔۔۔ وہ تو فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور آپس میں کافر کافر کا کھیل رہے ہیں۔" (ص۔ 91)
افسانچوں میں "ہمزاد" اور "ہمزاد 2" بدلتی سماجی قدروں کے اظہار پر مبنی ہیں۔ ایک میں سماجی (social) ہونے کے لئے جری (bold) ہونا ضروری قرار دیا جاتا ہے اور اس کے لئے رومانوی (romantic) ہونے کا جواز پیدا کیا گیا ہے۔ (ص۔ 233) دوسرے میں اسی بیباکی سے واضح کیا گیا ہے کہ پیوند کاری (cloning) نے انسان کو اس ڈر سے آزاد کیا ہے کہ کسی حادثے میں اس کا کوئی عضو ضائع ہوجائے۔ حتی کہ "اب تو اسے اپنی ناک کٹنے کا بھی کوئی خوف نہیں رہا" ہے! (ص۔ 238)
دیدہ زیب طباعت اور دلکش سرورق کے ساتھ مجموعہ عام قارئین کی استطاعت سے ذرا زیادہ قیمت پر دستیاب ہے۔ تاہم چھاپ اور املا کے اغلاط کے ساتھ ساتھ سائنسی تراکیب میں چند اسقام کی تصحیح مجموعے کو اور زیادہ پر کشش بناسکتی ہے۔ ساتھ ساتھ اگر غیر تکنیکی انگریزی الفاظ کی بھرمار سے مجموعے کو ان کے مترادفات کے ذریعے آزاد کیا جائے تو اردو معلی کی ایک جائز خدمت ہوگی اور مجموعے کے نقش کی فریاد کی لے اور زیادہ متاثر کن ہوجائے گی!
(رابطہ: 9858471965
ای۔میل: [email protected])