کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے جنگلات میں سبز سونے کی لوٹ مسلسل جاری ہے جس کے سبب جنگلات تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں جبکہ متعلقہ محکمہ و ضلع انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جو کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔کشمیر عظمیٰ کو ملی تفصیلات کے مطابق ضلع کے متعدد علاقہ جات سے مسلسل سرسبزجنگلات کوختم کرنے کی شکایات موصول ہوتی ہیں اور مسلسل کہاجارہا ہے کہ ان علاقہ جات کے جنگلوں میں سرسبز درختوں کی بے دریغ کٹائی کی جارہی ہے۔ تازہ تفصیلات تحصیل مغل میدان کے علاقہ کوچھال کے کمپارٹمنٹ نمبر 28و 29 میں سے سامنے آئیںجہاں سرسبز درختوں کا بے دردی سے کٹاﺅ جاری ہے۔ چھوٹے دیودار کے درختوں کو کاٹا گیا ہے تاہم متعلقہ محکمہ کوئی ٹھوس کاروائی کرنے سے قاصر ہے ۔عوامی حلقوںنے کہا کہ جہاں ایک طرف ملازمین شجرکاری مہم چلاکر ہر وقت ماحول کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں وہیں چند عناصر ان سرسبز درختوں کی بےدردی سے کٹائی کررہے ہیںاور انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ضلع کے متعدد علاقوں کے جنگلات میں سمگلروں نے سینکڑوں سرسبز درختوں کو کاٹ کر استعمال کرنا شروع کیا ہے جبکہ علاقہ بونجواہ، ٹھکرائی ،مڑواہ ، دچھن ، کنتواڑہ کے جنگلات میں سرسبز درختوں کو کاٹنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور آئے روز شکایتیں موصول ہوتی رہتی ہےں۔لوگوں نے بتایا کہ محکمہ کے ملازمین کی مبینہ ملی بھگت کے سبب جنگل سمگلر اس طرح کی کاروائی انجام دے رہے ہیںاوراگر سرسبز درختوں کی کٹائی پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو آنے والے چند برسوں کے اندر یہ ماحول کیلئے خطرناک ثابت ہوگا۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ سرسبز درختوں کی کٹائی پر متعلقہ محکمہ کے افسران کو ہدایت جاری کرکے کاروائی کریں ۔