سرینگر// وادی میں جاری بجلی کے بدترین بحران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کی سپلائی پوزیشن بہتر بنانے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے جبکہ عام لوگ حکومت کی اِس غفلت شعاری اور نااہلی سے مختلف نوعیت کے مشکلات و مصائب سے دوچار ہیں۔ ایک بیان میں ساگر نے کہا کہ بجلی سپلائی کی ابتر صورتحال کے باوجود بھی حکومت سپلائی پوزیشن بہتر بنانے کیلئے کچھ نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹر والے علاقوں میں گاہ گاہ ہی بجلی روشن ہوتی ہے جبکہ غیر میٹر شدہ علاقوں کا حال بہت برا ہے۔ پی ڈی ڈی نے کٹوتی شیڈول تو جاری کردیا ہے لیکن کٹوتی کیلئے کسی بھی شیڈول سے کام نہیں لیا جارہا ہے، بجلی کی آنکھ مچولی 24گھنٹے جاری رہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2016 سے ہم مسلسل ہر سال یہ سنتے آرہے ہیں کہ اگلے برس سے 24گھنٹے بجلی کی فراہمی ہوگی جبکہ حقیقی معنوں میں بجلی کی سپلائی پوزیشن بہتر ہونے کے بجائے بد سے بدتر ہی ہوتی جارہی ہے۔ اگر انتظامیہ 2014جیسی بجلی سپلائی پوزیشن ہی بحال کر پائے تو یہ عوام کیلئے بہت بڑی راحت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات ہے کہ بجلی کی پیداوار میں ایک میگاواٹ کا اضافہ بھی نہیں کیا گیا۔