سرینگر //مختلف حلقوں کی جانب سے مسلسل دبائو کے بعد راولپورہ اور برزلہ کے دو شہریوں کی لاشیں ہندوارہ سے 18کلو میٹر دور وڈر پائین راجواڑ میں قبر کشائی کے بعد گذشتہ رات انکے لواحقین کے حوالے کی گئیں، اور رات کے دوران ہی قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں انکی اپنے آبائی قبرستانوں میں تدفین کی گئی۔انکے نماز جنازہ میں صرف رشتہ داروں کو شرکت کی اجازت دی گئی جیسا کہ پولیس کیساتھ پہلے ہی طے پایا گیا تھا۔جمعرات کی صبح ڈاکٹر مدثر گل اور محمد الطاف بٹ کے لواحقین کو پولیس کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی کہ قانونی لوازمات پورا کرنے کیلئے انہیں ضلع مجسٹریٹ سرینگر کو تحریری طور پر درخواست دینی ہوگی کہ وہ لاشیں واپس لیناچاہتے ہیں جس کے بعد انکی درخواستوں کو متعلقہ ضلع مجسٹریٹ کپوارہ بھیج دیا گیاجہاں تحصیلدار ہندوارہ کی موجودگی میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کیساتھ پولیس نے دونوں لاشوں کی وڈر پائین زچلڈارہ راجواڑ میںقبر کشائی کی، جہاں دو روزقبل انہیں دفنایاگیاتھا۔شام ساڑھے 6بجے کے قریب قبرکشائی کا عمل شروع کیا گیا جو رات 8بجے تک جاری رہا جس کے بعد پہلے لاشیں ہندوارہ پولیس لائنز لائی گئیں اور یہاں قانونی لوازمات پورا کرنے کے بعد انہیں پولیس کے حوالے کیاگیاتاکہ انہیں سرینگر لایاجاسکے۔جمعرات کی صبح ہی لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اس واقعہ کی مجسٹریٹ کے ذریعہ انکوائری کرنے کا حکم دیا تھا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سرینگر خورشید احمد شاہ کو انکوائری آفیسر مقرر کرکے انہیں 15روز کے اندر رپورٹ کرنیکی ہدایت دی گئی ہے۔ڈاکٹر مدثرگل کے بہنوئی عرفان احمد نے کشمیر عظمیٰ کوبتایا کہ قبر کشائی کرنے کیلئے انکے ساتھ پولیس نے رابطہ نہیں کیا البتہ انہیں یہ پیغام دیا گیاکہ لاشیں پولیس کنٹرول روم سرینگر پہنچنے کے بعد انکے ساتھ رابطہ کیا جائیگا۔انہوںنے کہاکہ رات کے قریب 12بجے وہ پولیس کنٹرول چلے گئے جہاں کچھ لوازمات کے بعد لاشیں انکے حوالے کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مدثر کی لاش وہ ساڑھے 12بجے واپس گھر لائے اور آدھ گھنٹہ گھر میں رکھنے کے بعد انکی نماز جنازہ ادا کی گئی اور انہیں پرے پورہ میں اپنے آبائی مقبرہ میں لیجایاگیاجہاں اسنکی تدفین کی گئی۔انہوںنے مزید کہا کہ ڈیڑھ بجے سے دو بجے تک یہ عمل مکمل ہوا۔انکا مزید کہنا تھا کہ انکے نماز جنازہ میں کم سے کم 50لوگ شریک ہوسکے جو سبھی قریبی رشتہ دار تھے۔عرفان احمد نے مزید بتایاکہ پرے پورہ کے ارد گرد پولیس نے سیکورٹی کاسخت انتظام کیاتھا اور ہم نے سناکہ ناکہ بندی کی گئی تھی۔محمد الطاف بٹ کو انکے آبائی مقبرہ اولڈ برزہ میں سپرد خاک گیا۔ڈاکٹر مدثر گل اور محمد الطاف بٹ کی لاشیں جب نصف شب انکے آبائی گھروں کو لائی گئیں تو وہاں کہرام مچ گیا۔مدثر گل کی اہلیہ اور انکے دیگر رشتہ درار خواتین سینہ کوبی کرتی ہوئیں شدید ٹھنڈ میںگھر سے باہر آئیں اور یہاں آہوبکاہ کاعالم بپا ہوا۔الطاف کی بیٹی نعرے بازی کررہی تھیں۔دیگر خواتین بھی جذبات پر قابونہ رکھ سکیں اورزاروقطار رونے لگیں۔الطاف کے نماز جنازہ میں بھی بہت قلیل تعداد میں رف رشتہ دار ہی شریک ہوسکے۔
عامر کی لاش کا مطالبہ
والد ضلع انتظامیہ سے ملاقی
بانہال/محمد تسکین/سرینگر انکوانٹر میں مارے گئے رام بن کے سنگلدان علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد عامر ماگرے کی لاش کی واپسی کیلئے مہلوک کے والد محمد لطیف ماگرے نے جمعہ کے روز ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام اور ایس ایس پی رام بن پی ڈی نتیا سے ملاقات کی، ان کے ہمراہ مقامی سرپنچ اور کئی معززین علاقہ بھی تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع حکام نے یہ معاملہ متعلقہ ضلع مجسٹریٹ سے اٹھایا ہے اور انہیں امید ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر ان کی فریاد پر غور کرینگے۔ ڈپٹی کمشنر رام بن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ان کی عرضداشت متعلقہ ضلع مجسٹریٹ کو بھیجی گئی ہے ۔واضح رہے پولیس نے مہلوک عامر کو ملی ٹینٹوں کا ساتھی بتایا ہے جبکہ 2005میں پتھروں سے ایک مقامی ملی ٹنٹ کو ہلاک کرنے والے عامر کے والد محمد لطیف ماگرے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے تحقیقات کی مانگ کر رہے ہیں۔ سنگلدان اور اس کے ملحقہ علاقوں میں امتناعی احکامات جاری کئے گئے ہیں ۔
واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کی جائے
صدر جمہوریہ کے نام گپکار الائنس کا مکتوب
بلال فرقانی
سرینگر//گپکار الائنس نے متنازعہ حیدر پورہ انکاؤنٹرکے حوالے سے صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کو مکتوب روانہ کردیا ہے ، جس میں واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرانے کی مانگ کی گئی ہے۔مکتوب میں صدر جمہویہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملوث’غلطی کرنے والے اہلکاروں‘ کو کتاب اور قانون کے تحت سزا دی جائے۔ گپکارالائنس چیئر مین ممبر پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے لکھے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ15 نومبر 2021 کی شام حیدر پورہ، سرینگر میں پیش آنے والے المناک واقعہ، نے عوام میں زبردست غصہ پیدا کیا ہے اوراس بدقسمت واقعے میں3 شہری مشتبہ حالات میں مارے گئے۔الائنس نے استدعاکی ہے کہ یہ واقعہ ایک وقتی یعنی ٹائم بائونڈ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ اصل حقائق کو بے نقاب کیا جائے اور عوام کے سامنے لایا جائے۔مکتوب میں مزیدکہاگیاہے کہ یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے بدقسمت واقعات جموں و کشمیر کے لوگوں اور حکومت ہند کے درمیان خلیج کو وسیع کرتے ہیں اور اس لئے کسی بھی قیمت پر ان سے گریز کیا جانا چاہیے۔ گپکارالائنس کے ارسال کردہ مکتوب میں صدرجمہوریہ سے کہاگیاہے’’ ہم آپ کو یاد دلائیں گے کہ جموں و کشمیر کا نظم و نسق آپ کے نام پر لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعہ چلایا جا رہا ہے، جو ایک ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور اس لئے آپ پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں، اور ملوث غلطی کرنے والے اہلکاروں کو قانون کے تحت سزا دی جائے‘‘۔الائنس نے مزیدلکھا ہے کہ ہم اس طرح کے واقعات کے متاثرین کی لاشیں اٹھانے اور ان کے اہل خانہ کو مذہبی روایات کے مطابق ان کی تدفین کے انتظام کے حق سے محروم کرنے کے عمل کو بھی آپ کے نوٹس میں لائیں گے۔ حیدر پورہ کے بدقسمت واقعے میں بھی تین شہریوں کی لاشیں سیکورٹی فورسز اٹھا کر لے گئے اور مبینہ طور پر ان کی رہائش گاہوں سے100 کلومیٹر دور دفن کر دی گئیں۔جبکہ نعشوںکی باعزت تدفین کے حق کو ہندوستان کے آئین کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی انسانی قانون میں بھی تسلیم کیا گیا ہے، میتوں کو کسی بھی حالت میں تدفین کے حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا جس میں نام نہاد امن و امان کا مسئلہ بھی شامل ہے، اسی طرح سوگوار خاندانوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہبی رسومات کے مطابق میت کی تدفین کا اہتمام کریں۔ پچھلے کچھ سالوں سے ایسے حقوق کی معافی کے ساتھ خلاف ورزی کی گئی ہے، موجودہ صورت میں ان حقوق سے انکار کیا جا رہا ہے۔PAGDنے مزیدلکھا ہے کہ ہم آپ عالی جناب سے درخواست کریں گے کہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔ یہ معاملہ انتہائی تشویشناک ہے اور فوری کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
عامر کی لاش لواحقین کو واپس کی جائے:محبوبہ اور تاریگامی
سرینگر/بلال فرقانی/ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور سی پی آئی (ایم) لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے حیدر پورہ انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے عامر لطیف ماگرے کی لاش لواحقین کو دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ حیدر پورہ انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے عامر ماگرے کی لاش بھی ابھی تک ان کے سوگوار لواحقین کو مناسب تدفین کے لئے واپس نہیں دی گئی۔ان کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا: ‘حقیقت یہ ہے کہ یہ کنبے انصاف کا تقاضا کرنے کے بجائے میتوں کی واپسی کی بھیک مانگ رہے ہیں جس سے ان کا نظام میں عدم اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے ، ان (عامر ماگرے ) کی لاش کو بھی لواحقین کو واپس دیا جانا چاہئے ’۔دریں اثنا سی پی آئی (ایم ) کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں حکومت سے عامر ماگرے کی لاش لواحقین کے حوالے کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا’’اب یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ عامر احمد ماگرے ساکن رام بن بھی ایک عام شہری ہی تھا ان کے والد لطیف احمد ماگرے کو سٹیٹ بہادری ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ‘۔بیان میں کہا گیا: ‘بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان کے بیٹے کو ملی ٹنٹ قرار دے کر ہلاک کر دیا گیا’۔موصوف لیڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر حکومت کو کم سے کم لاش لواحقین کو واپس دینی چاہئے تاکہ وہ اس کی آخری رسومات انجام دے سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ وہ ہلاکتوں میں ملوثین کو تحت قانون سزا دیے ۔