نئی دہلی// وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ چین نے لداخ میں معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسی سرگرمیاں انجام دی ہیں جن پر بھارت کو اعتراض ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت بھارت اور چین کے درمیان تعلقات خراب دور سے گزررہے ہیں ۔ وزیر خارجہ نے جمعہ کے روز کہا کہ بھارت اور چین اپنے تعلقات کے حوالے سے "خراب مرحلے" سے گزر رہے ہیں کیونکہ بیجنگ نے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کچھ سرگرمیوں کا ارتکاب کیا ہے جس کیلئے اس کے پاس ابھی تک "قابل اعتماد وضاحت" نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین کی قیادت کو جواب دینا چاہیے کہ وہ دو طرفہ تعلقات کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں۔سنگاپور میں بلومبرگ نیو اکنامک فورم میں "بڑے پیمانے پر طاقت کا مقابلہ: ایک ابھرتا ہوا ورلڈ آرڈر" پر ایک سمپوزیم میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ "مجھے نہیں لگتا کہ چین کو اس بارے میں کوئی شک ہے کہ آیا ہمارے تعلقات متاثر ہوئے ہیں، ہم کس مقام پر کھڑے ہیں اور کیا گڑبڑی ہوئی ہے، میں نے اپنے ہم منصب وانگ یی سے کئی بار ملاقات کی ہے، جیسا کہ آپ نے یہ بھی محسوس کیا ہوگا کہ میں بہت صاف گوئی سے بات کرتا ہوں، لہٰذا یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ صاف گوئی کی کوئی کمی نہیں ہے،اگر وہ اسے سننا چاہتے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ وہ سنیں گے۔"چین کے ساتھ مشرقی لداخ میں سرحد کے ساتھ تعطل کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ "ہم اپنے تعلقات میں خاص طور پر خراب دور سے گزر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ان معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کچھ اقدامات کیے ہیں جس کی ان کے پاس وضاحت نہیں ہے، جس پر ہم اعتماد کر سکیں۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ سوچنا چاہیے کہ وہ ہمارے تعلقات کو کس طرف لے جانا چاہتے ہیں لیکن جواب دینا ان کا کام ہے۔ 10 اکتوبر کو ہوئے فوجی مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے۔جمعرات کو دونوں ممالک کے درمیان 14 ویں دور کی بھی بات چیت ہوئی۔