عوام کی سکیم، عوام کی شراکت‘ مہم کا آغاز | انتظامیہ تک لوگوں کی رسائی اورجوابدہ حکومت بنانے کا لازمی حصہ
نیوز ڈیسک
جموں// جموں کشمیرمیں مجموعی ترقی کے عمل میں عوامی شراکت کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بڑی پہل میں، حکومت نے 'جنتا کی سکیم،جتنا کی شراکت مہم شروع کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد لوگوں کی شراکت کو مضبوط کرنا اور اسے شفاف اور جوابدہ حکومت کا لازمی حصہ بنانا ہے۔خیال یہ ہے کہ پروجیکٹ کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے پورے عمل کو عام لوگوں کے لیے کھلا رکھا جائے جو پروجیکٹوں کے حتمی مستفید ہوں گے۔ اچھی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ عوام کو کافی معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ قواعد و ضوابط کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر، منوج سنہا نے کہا کہ انتظامیہ پورے گورننس ڈھانچے کو شفاف اور عوام کی رسائی کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔"ہر شہری اب بٹن کے کلک پر اپنے علاقے یا یونین کے کسی بھی حصے میں کام کی نوعیت اور حد کی تفصیلات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کے علاقے میں ترقیاتی کاموں پر کتنی رقم خرچ ہو رہی ہے اور کیا یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہو رہا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، میں چاہتا ہوں کہ حکومت کی طرف سے لیا جانے والا ہر فیصلہ مناسب وقت کے اندر عوام کی خدمت کے لیے ہو اور اسے مساوات اور جامعیت کے قانون پر عمل کرنا چاہیے۔مرکوز کرے گا تاکہ کسی علاقے/گاں میں آن لائن دستیاب تمام جاری کاموں کی تفصیلات تک رسائی حاصل کی جا سکے، اور معلومات کو استعمال کرنے کے لیے حکومت کو زیادہ سے زیادہ جوابدہی اور جوابدہی لانے میں مدد ملے، اس کے علاوہ اسٹیک ہولڈرز کی زیادہ سے زیادہ شرکت۔ ان کے علاقے میں ترقی کا عمل جاری ہے۔
پاکستان کی امن بگاڑنے کی کوششوں کا منہ توڑ جواب دینگے:راجناتھ
سرینگر//وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ نیا اور طاقتور ہندوستان، پاکستان کی طرف سے ملک میں امن کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کا منہ توڑ جواب دے گا۔ کے این ایس کے مطابق وزیردفاع اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ میں شہید سمان یاترا سے خطاب کر رہے تھے، نے کہا کہ پاکستان ہندوستان میں امن کو غیر مستحکم کرنے کی تمام کوششیں کرتا ہیں لیکن ہم نے انہیں واضح پیغام بھیجا ہے کہ ہم جوابی وار کریں گے۔ یہ ایک نیا اور طاقتور ہندوستان ہے۔ سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی صورت میں فراہم کی جانے والی ایکس گریشیا رقم کو مرکز نے بڑھا کر 8 لاکھ روپے کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے، جنگ میں ہلاک ہونے والوں کے لیے ایکس گریشیا رقم 2 لاکھ روپے تھی ،جس میں چار گنا اضافہ کیا گیا ہے۔18نومبر کو لداخ میں ریزانگ لا کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ’’میں ریزنگ لا گیا تھا، جہاں مجھے بتایا گیا تھا کہ کماون بٹالین کے 124 جوانوں کے معجزے کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے بتایا گیا کہ کارروائی میں 114جوان مارے گئے، لیکن انہوں نے 1200 سے زیادہ چینی فوجیوں کو مار دیا۔ مجھے اس جگہ کا دورہ کرنے کا شرف حاصل ہوا‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اتراکھنڈ میں پانچواں دھام ہے اتراکھنڈ میں چار دھام ہیں اور اگر ’سائیں دھام‘ بنتا ہے تو ہمارے یہاں پانچواں دھام ہوگا۔ اس دھام میں شہداء کے گھروں کی سرزمین ہوگی ان کے نام اور ان کے گاؤں کے نام بھی (سائیں) دھام میں لکھے جائیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ بی جے پی کے سربراہ جے پی نڈا نے اتراکھنڈ کے فوجیوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے 15 نومبر کو چمولی میں شہید سمان یاترا کا افتتاح کیا تھا۔
چین کا مقابلہ کرنے کیلئے روس کی بھارت کومدد | شمال مشرقی سرحد پر400-Sمیزائیل نظام نصب کریگا
سرینگر//شمال مشرقی سرحدوںپر ہندوستان 400-Sمیزائل نظام کو نصب کرے گا جس سے چینی فوج کی جارحیت پر روک لگ سکتی ہے اور اس سے بھارتی فوج سرحد پر چینی فوج کی صلاحیت کی برابری کرسکے گی اور یہ میزائل سسٹم روس نے بھارت کو کم وقت میں ہی فراہم کیاہے ۔سی این آئی کے مطابق ہندوستان سال 2022 تک شمالی اور مشرقی سرحد پر S-400 میزائل سسٹم کے کم ازکم دو فوجی ٹیم تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ جدید میزائل سسٹم کے ذریعہ ہندوستانی فوج سرحد پرچینی فوج کی صلاحیت کی برابری کرسکے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پتن کے قریبی تعلقات کے سبب ہندوستان کو دو S-400 میزائل سسٹم کم وقت میں مل گئے ہیں۔ وہیں ولادیمیر پتن بھی 6 دسمبر کو ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دوران وہ وزیر اعظم مودی سے ملاقات کریں گے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق، ماسکو میں ڈپلومیٹس کے مطابق، S-400 سسٹم کے ایڈوانس ایلیمنٹس ہندوستان کو ملنا شروع ہوگئے ہیں۔ وہیں گہرائی تک کام کرنے کے اہل رڈار بھی آئندہ ماہ موصول ہونے جا رہے ہیں۔ دراصل، چین کی فوج نے لداخ اور اروناچل پردیش میں حقیقی کنٹرول لائن کے پاس اسی روسی تکنیک سے لیس میزائل سسٹم کو تعینات کیا ہے ۔ ایسے میں ہندوستان سرحد پر اپنی فوجی طاقت میں توازن بناسکے گا۔ رپورٹ کے مطابق، دو S-400 سسٹم 2022 کی شروعات تک کام کرسکیں گے۔ روس میں ٹریننگ حاصل کرنے والی ہندوستانی فوج کی دو ٹیمیں S-400 سسٹم کی ٹریننگ کے لئے تیار ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ یہ دشمن کے علاقے میں 400 کلو میٹر تک مار کرسکتا ہے۔ ہندوستانی سرزمین پر S-400 سسٹم کے تعینات ہونے کے ساتھ ہی مودی حکومت بھی چینی میزائل اور فضائیہ کو جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ ایک سسٹم کو اترپردیش میں تعینات کیا جائے گا، جو لداخ میں دو محاذ وںپر کام کرے گا۔ کیونکہ گہرائی تک کام کرنے والے راڈار پر ہندوستان کو ہدف بناکر داغی گئی میزائل یا حملے کا جواب دینے کے لئے تیار رہیں گے۔
وزیر خزانہ کا 23 نومبر کو جموں و کشمیر کے دورے کاامکان
سرینگر//مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے 23 نومبر کو جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے پر پہنچنے کا امکان ہے،جس دوران وہ جموں میں 2019اور کورونا کی وجہ سے متاثرہ معیشت کی صورتحال کا جائزہ لے گی اور جموں میں وہ ٹریڈ اورمینوفیکچررس کے ساتھ بھی میٹنگ کرے گی ۔ کے این ایس کے مطابق سرکاری ذرائع نے بتایا کہ موصوف مرکزی وزیر خزانہ اپنے دو روزہ دورہ کے لئے 23 نومبر کو جموں پہنچے گی۔انہوں نے بتایا کہ نرملا سیتا رمن دفعہ 370 کی تنسیخ اور کورونا وبا کے بعد متاثرہ معیشت کی صورتحال کا جائزہ لیں گی ۔انہوں نے بتایا کہ وزیر خزانہ اپنے دورے کے پہلے روز جموں ہاٹ میں تجارت و صنعت سے وابستہ وفود کے ساتھ بات چیت کریں گی۔انہوں نے کہا کہ نرملا سیتا رمن یونین ٹریٹری میں سرمایہ کاری، ترقی اور مینو فکچرنگ سرگرمیوں سے متعلق معاملات کے بارے میں جانکاری حاصل کریںگی۔یہ ان کا پانچ اگست 2019 کو مرکزی حکومت کے جموں وکشمیر کے خصوصی درجے کے خاتمے اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے بعد پہلا دورہ جموں و کشمیر ہوگا۔
زرعی قوانین کی منسوخی جمہوریت کی جیت:محبوب بیگ | 5اگست کوچھینے گئے حقوق واپس کئے جائیں
بلال فرقانی
سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محبوب بیگ نے مرکزکی طرف سے زرعی قوانین کی منسوخی کے اعلان کو جمہوریت کی جیت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اب وہ قوانین بھی منسوخ کئے جائیں جن سے جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں کو حقوق سے دستبردار کیا گیا۔سرینگر میں پارٹی ہیڈ کواٹر پر ہفتہ کو پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر محبوب بیگ نے کہا کہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے سے یہ بات صاف ہوئی ہے کہ ملک میں عوام ہی طاقت کااصل سرچشمہ ہے۔ان کا کہنا تھا ’’ اگر وزیر اعظم واقعی دل کی دوری اور دلی سے دوری کی بات کرتے ہیں ،تو انہیں ہمیں بھروسہ دلانا ہوگا کہ یہاں حیدر پورہ جیسے واقعات دوبارہ وقوع پذیر نہیں ہوں گے اور یہاں آکر ہمارا درد بانٹنا ہوگا۔‘‘ انہوںنے کہا کہ اسی طرح ان قوانین کو بھی منسوخ کرنے کی ضرورت ہے جن سے 5اگست2019 کے بعد جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے حقوق چھینے گئے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب سے غلطیاں ہوئی ہیں اور ہمیں ماضی میں جھانکنے کی بجائے ان غلطیوں سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔پی ڈی پی جنرل سیکریٹری نے کہا’’ حیدر پورہ واقعے سے پورے قوم نے درد محسوس کیا اور ہم نے مل کر نا انصافی کے خلاف ایک ہو کر آواز بلند کی،جو خوش آئندہ ہے۔‘‘بیگ نے ملک کے دانشوروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کو اجنبی نہ سمجھیں بلکہ انہیں ہی اپنا سمجھیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی طرف سے زرعی قوانین کی منسوخی کا اعلان کسی پارٹی کی ہار یا جیت نہیں ہے بلکہ یہ جمہوریت کی جیت ہے۔مقامی جنگجوں کی لاشوں کو لواحقین کے حوالے کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا’’ جنگجو ہو، ملک دشمن عنصر ہوں یا کوئی اورہوں، لاشوں کو لواحقین کے حوالے کیا جانا چاہئے۔‘‘ ڈاکٹر بیگ نے کہا کہ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے وجود کا مقصد ہی یہ تھا کہ ہم حقوق کے لئے مل کر آواز اٹھائیں۔انہوں نے کہا’’ ہماری جماعت پتھر بازی اور بندوق اٹھانے کے بجائے پر امن احتجاج سے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کی حمایت کرتی ہے۔‘‘
کانگریس عوامی اہمیت کے مسائل پربھاجپا سے لڑے گی:میر
سرینگر// پردیش کانگریس کمیٹی نے ہفتہ کو تین زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو کسانوں کی قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔پارٹی نے کھیتی کے ناپسندیدہ تین قوانین کے خلاف راہول گاندھی کی بے مثال مضبوط مخالفت کی بھی ستائش کی۔ کے این ایس کے مطابق پردیش کانگریس صدر غلام احمد میر نے یہ باتیں ضلع اننت ناگ کے علاقے ویری ناگ میں پارٹی ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔یہ میٹنگ پارٹی کے جن جاگرن ابھیان کا حصہ تھی، اسے کسان وجے دیوس کے طور پر بھی منایا گیا جب مرکز کی طرف سے کاشتکاری کے قوانین کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔پردیش کانگریس صدر نے پارٹی کارکنوں کو راہل گاندھی کے ان دعووں کے بارے میں یاد دلایا جب مرکز کی طرف سے کاشتکاری کے تین قوانین لائے گئے، جس میں انہوں نے واضح طور پر مرکز کے نظریہ کو مسترد کر دیا ۔ انہوں نے قوم سے کہا کہ مودی حکومت کو اس کے خلاف اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس پارٹی نے مرکز کی کاشتکاری پالیسیوں کے خلاف بڑی مضبوطی کے ساتھ لڑائی لڑی اور کسانوں کی مکمل حمایت کی، نتیجے کے طور پر، مرکز نے ان کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔کسانوں کی سینکڑوں قیمتی جانوں کے زیاں کے بعد بھی مرکز بیک اپ نہ لینے پر اٹل رہا، لیکن آئندہ انتخابات میں شکست کو محسوس کرنے کے بعد، عوامی رائے کے علاوہ جو بی جے پی کے خلاف ہے، اس (مرکز) نے قوانین کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میر نے مزید کہا کہ قوم تبدیلی کے لیے تڑپ رہی ہے اور رائے عامہ بی جے پی کی پالیسیوں اور اس بوجھ کے خلاف تھی، ہے اور رہے گی ،جو اس نے ان کے کندھوں پر ڈالا ہے۔ خاص طور پر قیمتوں میں بے مثال اضافے، نوٹ بندی، بے روزگاری اور متوسط طبقے اور غریبوں کو درپیش معاشی بحران کی وجہ سے پورے ملک میں یکساں طور پر لوگ مایوس ہیں۔میر نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے شروع کی گئی جنجاگرن ابھیان کا مقصد عوام کے تئیں مرکز کی پالیسیوں کو اجاگر کرنا اور اس کے خلاف سخت احتجاج کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی عوامی اہمیت کے مسائل پر بی جے پی حکومت کے خلاف لڑتی رہے گی تاکہ اسے لوگوں کے سامنے جوابدہ اور جوابدہ بنایا جا سکے۔
حکومت نوجوان کودرپیش مسائل سے آنکھیں چرارہی ہیں:نیشنل کانفرنس
سرینگر//گزشتہ برسوں سے کشمیری نوجوان ہرطرح سے متاثر ہوا ہے اور یہاں کی نئی پور مکمل طور پشت بہ دیوار ہوگئی ہے۔ان باتوں کااظہار یوتھ نیشنل کانفرنس کے اجلاس میں صوبائی صدر سلمان ساگر نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ایک بیان کے مطابق اجلاس میں کشمیر کے یوتھ ونگ کے مرکزی عہدیداران اور بلاک صدور صاحبان موجود تھے جنہوں نے اپنے اپنے علاقوں میں نوجوانوں کو درپیش مسائل و مشکلات خصوصاً بے روزگاری، بلاجواز تنگ طلبی اور منشیات کے استعمال میں اضافے کے رجحان جیسے معاملات اُجاگر کئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سلمان علی ساگر نے کہا کہ گذشتہ برسوں کے دوران کشمیری نوجوان ہر طرح سے متاثر ہوا ہے اور یہاں کی نئی پود مکمل طور پر پشت بہ دیوار ہو کر رہ گئی ہے۔ موجودہ حالات نے نوجوانوں میں مایوسی کے بھنور میں ڈال دیا ہے اور ایسی صورتحال میں نوجوان منشیات جیسے غلط کاموں کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں اُمید کی کرن پیدا کرنا اور ان میں مایوسی اور نااُمیدی کو ختم کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس کیلئے ایک بڑے اور وسیع منصوبے کی ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کیلئے حکومتی سطح پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ حکمران اس جانب کوئی بھی توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کررہے ہیں۔
کنزرٹنگمرگ میں نوجوان کی پراسرار موت
مشتاق الحسن
ٹنگمرگ//ہردہ شورہ ٹنگمرگ میں ایک نوجوان کو اپنے گھر میں پراسرار طور مردہ پایاگیا۔اطلاعات کے مطابق کنزرکے ہردہ شورہ گائوں میں24برس کے فردوس احمد شیخ ولدعبدالغنی شیخ کواپنے گھر میں مردہ پایا گیا۔پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے جبکہ پرائمری ہیلتھ سینٹر کنزرمیں لاش کا پوسٹ مارٹم کئے جانے کے بعد اُسے آخری رسومات اداکرنے کیلئے اہلخانہ کے سپرد کیا گیا۔ جونہی مذکورہ نوجوان کی موت کی خبر علاقے میں پھیل گئی تووہاں صف ماتم بچھ گئی۔
۔68واں امدادباہمی ہفتہ اختتام پزید
مالیات کاموثر بندبست امدادباہمی اداروں کی بحالی کیلئے لازمی:صوبائی کمشنر
سرینگر//معیاری قیادت،مالیات کاموثر بندوبست اورکام کاج امداد باہمی اداروں کو بحال کرنے کیلئے لازمی ہے۔ان باتوں کااظہار صوبائی کمشنر کشمیرپانڈورانگ پولے، نے 68ویں کل ہند امدادباہمی ہفتے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی کمشنر نے کہا کہ امدادباہمی تحریک مختلف سطحوں پراُبھری ہیں اوراس میں لوگ اکٹھے اپنے عمومی پیداوارپر سرمایہ لگاکرتجارت کرتے ہیں۔ انہوں نے کواپریٹومحکمہ کی سراہنا کی جووہ کامیاب تعاون دینے کی حوصلہ افزائی کررہا ہے جنہوں نے اپنے یونٹوں کی سالانہ پیداوار کروڑ وں روپے تک پہنچائی۔پانڈورانگ پولے نے امدادباہمی یعنی کواپریٹوکے کام کاج اور بندبست کے بنیادی اصولوں کواُجاگر کیا جس میں ایک فرد کوایک ووٹ کاحق انتظامیہ کے انتخاب میں دیاجاتا ہے۔انہوں نے اس وقت ملک کے ہرضلع میں فارمرپروڈیوسرآرگنائزیشن (FPO)کی اہمیت کو بھی بیان کیا ۔انہوں نے مزیدکہا کہ ایف پی او اکیسویں صدی میں کھیل کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتاہے اور اس سے کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا۔ایڈیشنل کمشنر کشمیر قاضی سروررجسٹرار کواپریٹوزشفقت اقبال اور دیگر حکام اس موقعہ پر موجود تھے۔صوبائی کمشنرنے اس موقعہ پر دودھ سے بنی اشیاء،زراعت اور دستکاریوں مصنوعات کے اسٹالوں کا معائنہ کیا۔اس موقعہ پر ڈائریکٹر امداد باہمی شفقت اقبال نے کہا کہ امداد باہمی تحریک کونئے طریقے اورٹیکنالوجی تلاش کرنے ہوں گے تاکہ بازار کے مقابلے میں کامیاب ہو۔انہوں نے کئی امدادباہمی یونٹوں کا ذکر کیا جو وادی میں کام کررہے ہیں جن میں اسکول،دواخانے،سپربازار،بینک اور دیگرشامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب فارمرپروڈیوسر آرگنائزیشنزکو قائم کیاجارہا ہے جو امدادباہمی اداروں کے طور درج ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کا محکمہ امدادباہمی اداروں کے اندراج کے مقررہ ہ ہدف کو پانے کی کوشش کررہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کے ساتھ جڑجائیں۔
ڈپٹی کمشنر سرینگرنے بہبودی اسکیموں کی عمل آوری کا جائزہ لیا
رواں برس54000مستحقین کو65کروڑ روپے کی امدادفراہم
سرینگر//ڈپٹی کمشنر سرینگر محمد اعجاز اسد نے سنیچرکوایک میٹنگ کے دوران مختلف فلاحی اسکیموں اوربہبودی پروگراموں کی پیش رفت اور عمل آور کا جائزہ لیا۔میٹنگ کے دوران حکومت کی مختلف بہبودی اسکیموں جن میں وظائف کی فراہمی،بزرگ شہریوں ،جسمانی طورخاص افراد اور خواجہ سرائوں کو کارڈوں کی اجرائی ،بچوں،حاملہ خواتین اوربالغ لڑکیوںمیں خون کی کمی ،آنگن واڑی سے مستفید ہونے والوں میں خوراک کی کمی ،مختلف اسکیموں کیلئے اہل افراد کی سروے کے علاوہ مختلف سماجی بہبوداسکیموں کے تحت پنشن کی تقسیم شامل ہیں،پر تبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقعہ پرڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام پر زوردیا کہ وہ سماجی تحفظاتی اور دیگراسکیموں کی مکمل عمل آوری کیلئے تندہی سے کام کریںاورسماجی بہبوداسکیموں کی صدفیصدعمل آور کو یقینی بنانے پرزوردیا۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اہل مستفیدین تک پہنچ جائیں۔انہوں نے حکام پرزوردیا کہ وہ تمام اہل مستحقین تک رسائی کریںجس سے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بہبودی اسکیموں کے فوائد مل جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے میٹرک سے قبل ،میٹرک کے بعد اورمیرٹ کم مینزاسکالرشپ کیلئے10دسمبر تک تمام درخواستوں کی جانچ کریں تاکہ ان اسکالرشپ اسکیموں کے فائدے متعلقین کو وقت پر ملے۔اس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر کو بتایا گیا کہ ضلع میں54000مستحقین کو رواں برس کے دوران مختلف اسکیموں کے تحت65کروڑروپے کی امداد فراہم کی جارہی ہیں۔
اسٹاف انسپکشن آڈٹ کیلئے5رکنی ٹیم
فائنانشل کمشنر فائنانس سربراہی کرینگے
بلال فرقانی
سرینگر// جموں کشمیر حکومت نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری( فائنانشل کمشنر فائنانس) کو افرادی قوت کے معائنہ(مین پائور آڈٹ) سے متعلق5رکنی کمیٹی کے قیام کی نگرانی کیلئے چیئرمین مقرر کیا ہے،جبکہ پرنسپل سیکریٹری داخلہ کو اس ذمہ داری سے فارغ کیا گیا۔ سرکار کی جانب سے جموں کشمیر میں عملے کے معائنہ(مین پائو آڈٹ) کی کمیٹی کی نگرانی سے متعلق پہلے اآرڈر میں ترمیم کی ہے اور محکمہ داخلہ کے پرنسپل سیکریٹری کی جگہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری( مالیاتی کمشنر برائے خزانہ) کو اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے۔مین پاور آڈٹ( اسٹاف انسپیکشن) انتظامیہ کی مدد کرنے کا طریقہ کار ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے ادارے کام کو درست طریقے سے کریں۔ پرنسپل سیکریٹری مکانات و شہری ترقی،کمشنر سیکریٹری محکمہ عمومی انتظامی،کمشنر سیکریٹری محکمہ شہری رسدات امور صارفین و عوامی تقسیم کاری اور ڈائریکٹر جنرل کوڈس اس کمیٹی کے ممبر ہونگے۔ اس کمیٹی کو جموں و کشمیر میں مختلف محکموں کے لئے افرادی قوت کے کام کے دائرہ کار کو حتمی شکل دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔حکم نامہ کے مطابق5رکنی کمیٹی سائنسی ساز و سامان کو بروئے کار لاتے ہوئے عملی اور پیشہ ورانہ انداز میں افرادی قوت آڈٹ کروانے کے لئے کسی سرکاری ونجی ایجنسی کو شارٹ لسٹ کریں گی۔ آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیٹی مختلف محکموں و اداروں کے پاس دستیاب عملے کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لیے ایک طریقہ کار تجویز کرے گی اور اس مقصد کے لیے کسی ایجنسی کی مختصر فہرست سازی 15 دن کی مدت میں فراہم کرے گی۔ حکم نامہ کے مطابق کمیٹی مختلف محکموں میں افرادی قوت کے آڈٹ کی نگرانی کرے گی جو چھ ماہ کی مدت میں مکمل کی جائے گی،جبکہ کمیٹی جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت کام کرے گی۔
حیدرپورہ ہلاکتیں
عوامی مجلس عمل اورشرعی شیعیان وفود کی تعزیت پرسی
سرینگر//عوامی مجلس عمل اور انجمن شرعی شیعیان کے وفود نے حیدرپورہ جھڑپ میں جاںبحق کئے گئے الطاف احمدبٹ اورڈاکٹرمدثرگل کے گھر جاکر لواحقین کی ڈھارس بندھائی۔ایک بیان کے مطابق عوامی مجلس عمل کے ایک اعلی سطحی وفد نے نظر بند رکھے گئے تنظیم کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق کی طرف سے حیدرپورہ جھڑپ کے دوران جاں بحق کئے گئے الطاف احمد بٹ اور ڈاکٹر مدثر گل کے لواحقین اور عزیزوں کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کے اظہار کیلئے حیدر پورہ گیا جہاں وفد نے قیادت کی جانب سے سوگوار کنبوں کے ساتھ اس سانحہ پر یکجہتی کا اظہار کیا اور انہیں یقین دلایا کہ عوامی مجلس عمل اور اس کی پوری قیادت ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ادھرجموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کا ایک وفد حیدر پورہ سانحہ میں جاں بحق ہوئے الطاف احمد بٹ اور ڈاکٹر مدثر گل کے گھر جاکر غمزدہ کنبوں سے تعزیت و تسلیت کا اظہار کیا۔ وفد نے سوگوار کنبوں کو انجمن شرعی شیعیان کے صدرآغا سید حسن کی طرف سے دلی ہمدردی اور ہدیہ تعزیت پیش کیا ۔
بارہمولہ کے3 علاقے کنٹینمنٹ زون قرار
مکمل لاک ڈائون کاحکم،لازمی پابندیاں عائد
سوپور//غلام محمد//کووِڈ – 19معاملوں میں اضافے کے پیش نظربارہ مولہ ضلع میں مزید تین علاقوں کو کنٹینمنٹ زون قرار دیاگیا ہے۔ان علاقوں میں داراگٹلیاں اوڑی،سنگری وٹلب سوپوراورجلال آباد (اے)نزدیک جامع مسجد سوپور شامل ہیں۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر بارہ مولہ بھوپندرکمار نے سنیچرکوایک حکم جاری کیا۔حکم کے تحت ان علاقوں میں مکمل پابندیاں عائد ہوں گی،جن میں مکمل لاک ڈائون بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ ان علاقوںسے کسی کو باہر آنے نہیں دیاجائے گا اور نہ ہی کسی کو ان علاقوں کے اندرجانے دیاجائے گا۔حکام نے ان علاقوں کے لوگوں کیلئے ٹیسٹنگ کے عمل کو بھی لازمی قراردیا ہے ۔اس دوران ایس ایس پی بارہ مولہ اور ایس پی سوپور نے ان علاقوں میں پابندیوں پر عمل درآمد کرانے کیلئے مزیدنفری کی تعیناتی کابھی حکم دیا ہے۔
ڈرون کی مشتبہ نقل و حرکت
راجوری اور پونچھ میں تازہ الرٹ جاری
سرحدی علاقوں میں فضائی اشیاء کی موجودگی کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں اور فورسز چوکس
راجوری//سمیت بھارگو// ڈرون سے مشابہہ فضائی اشیاء کو دیکھنے کے متعدد واقعات نے سیکورٹی فورسز اور ایجنسیوں کو چوکس کردیا ہے جس کے بعد جڑواں اضلاع راجوری اور پونچھ میں 'ڈرون الرٹ' کے نام سے ایک تازہ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔پونچھ کے مینڈھر سب ڈویژن میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع علاقوں میں مشتبہ ڈرون جیسے فضائی اشیاء کو دیکھنے کے متعدد واقعات کے بعد یہ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ایل او سی علاقے کے قریب اس طرح کی چیز کو اڑتے ہوئے دیکھے جانے کے بعد تین دن قبل مشتبہ ہوائی شے کے پائے جانے کا پہلا واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔سرکاری ذرائع نے بتایا"مشکوک چیز کو بہت کم لوگوں نے دیکھا جس میں سیکورٹی فورس کے اہلکار بھی شامل تھے جس سے اس کی صداقت کو تقویت بخشی "۔تاہم انہوں نے مزید کہا کہ جمعہ کی شام کو مینڈھر کے دیہاتوں سے بھی ایسا ہی ایک منظر سامنے آیا تھا اور اب یہ تقریباً ثابت ہو گیا ہے کہ مینڈھر کے دیہاتوں پر ایک ڈرون پرواز کر رہا تھا۔سرکاری ذرائع نے بتایا"جمعہ کی شام، جب شام ساڑھے چھ بجے کے قریب گاؤں کے کچھ لوگ اپنے معمول کے کام میں مصروف تھے، تو ایک ڈرون جیسی چیز علاقے میں گھومتی ہوئی دیکھی گئی اور مینڈھر کے بالاکوٹ سیکٹر میں ایل او سی کے قریب سوئیان، لانجیوٹ، دھرگلون اور دیگر گاؤں کے لوگوں نے اس کودیکھا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹمٹماتی روشنیوں والی چیز سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک فضائی چیز تھی اور ممکنہ طور پر ڈرون تھی۔سرکاری ذرائع نے بتایا"فوج اور پولیس نے ہوائی چیز کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد مینڈھر کے ان دیہاتوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی شروع کی" ۔انہوں نے مزید کہا کہ لائن آف کنٹرول کے قریب علاقوں میں ڈرون دیکھنے کے ان متعدد واقعات کے بعد ایک تازہ الرٹ جاری کیا گیا ہے جسے عام طور پر 'ڈرون الرٹ' کہا جاتا ہے جس میں تمام سیکورٹی تنصیبات اور کیمپوں کو ہائی الرٹ رہنے کو کہا گیا ہے اور ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی جموں ٹیکنیکل ہوائی اڈے جیسے حملہ کو ناکام بنانے کے لیے سخت فضائی نگرانی کو برقرار رکھنے کو کہاگیا ہے‘‘۔سرکاری ذرائع نے مزید کہا"اس طرح کی فضائی اشیاء کے استعمال کی متعدد وجوہات ہیں اور ان میں ہتھیاروں اور گولہ بارود کی کھیپ کو چھوڑنا، فضائی نگرانی، فضائی گاڑیوں کی طرف فوجیوں کی چوکسی کی سطح کی جانچ کرنا شامل ہے" ۔سرکاری ذرائع نے مزید کہا کہ ڈرون کے ذریعے ہتھیاروں کا گرانا اب کوئی نئی بات نہیں ہے اور کسی بھی علاقے میں ایسا کیا جا سکتاہے۔ان کا مزید کہناتھا"ان متعدد واقعات کے بعد تمام فیلڈ ایجنسیاں اور زمینی دستے ہائی الرٹ پر ہیں اور سیکورٹی ایجنسیاں اور فورسز چوکسی پرہیں" ۔
مزید نقصان پہنچنے سے پہلے اسکولوں کو دوبارہ کھولاجائے
آن لائن موڈ نے مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کئے:پرائیوٹ اسکول ایسو سی ایشن
سرینگر//عالمی یوم اطفال کے موقع پر پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن جموں و کشمیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسکولوں کو دوبارہ کھولاجائے جو تقریباً ڈھائی سال سے بند ہیں۔ایک بیان کے مطابق ایسوسی ایشن کے صدرجی این وار نے کہا کہ 20 نومبر نے ہمیں بچوں کے حقوق کی اہمیت کی یاد دلائی جس میں زندہ رہنے کا حق، شناخت، خوراک، غذائیت، صحت، ترقی، تعلیم اور تفریح، نام ، قومیت، خاندان اور مانوس ماحول نظر انداز ہونے سے تحفظ شامل ہے۔انہوں نے کہا ’’ان تمام حقوق میں ہم تعلیم کے حق کو سب سے اہم حق سمجھتے ہیں اور حکومت اور سول سوسائٹی کو اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے کہ ہر بچے کو اچھی تعلیم تک رسائی حاصل ہو‘‘۔موصوف بچوں کے عالمی دن کی مناسبت سے فردوس ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ پٹن میںایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت مزید نقصان پہنچنے سے پہلے اسکولوں کو دوبارہ کھولے۔ایسوسی ایشن نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے امکان کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا۔وار نے کہا ’’ہمیں یہ عجیب لگتا ہے کہ جب بھی لوگ اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کیلئے آوازیں اٹھانا شروع کر دیتے ہیںتو کووِڈ کیسز اچانک بڑھنے لگتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں کے درمیان کچھ پراسرار تعلق ہے۔ایسوسی ایشن نے کہا کہ تعلیمی نظام تقریباً تباہ ہو چکا ہے اور آن لائن موڈ نے مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کئے ہیں۔ایک مخصوص وقت تک آن لائن تعلیم سے مدد مل سکتی ہے لیکن اس سے بہت زیادہ مسائل بھی پیدا ہو گئے ہیں۔وار نے کہا کہ ہمارے بچوں کی ایک بڑی تعداد کو آن لائن تعلیم تک رسائی نہیں ہے اور کچھ کے پاس بنیادی اسمارٹ فون تک نہیں ہیں۔ وہ بچے بہت بڑے نقصان میں ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ ان کا مستقبل کس قسم کا انتظار کر رہا ہے۔ وارنے مزید کہا’’حکومت اس مسئلے اور بحران کو نہیں سمجھتی جو ہمیں گھور رہا ہے۔ سیکھنے کے ایک بڑے نقصان کی وجہ سے ہم نسلی فرق کو دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے کیلئے اس سے نمٹنا بہت مشکل ہوگا‘‘۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان میں ویکسین کی بہترین جگہوں میں سے ایک ہے اور 1.6 کروڑ سے زیادہ ویکسین کی خوراکیں دی گئی ہیں جس میں 65 لاکھ افراد بھی شامل ہیں جن کی دونوں خوراکیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا ’’ویکسی نیشن کے علاوہ اگر ہم کووڈایس او پیز پر سختی سے عمل کریں تو کووڈ کے پھیلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ حکومت کو ایسے وقت میں اسکول کھولنے سے کیا روک رہا ہے جب کالج اور ہائیر سیکنڈری کام کر رہے ہیں اور سماجی اجتماع بلا روک ٹوک جاری ہیں‘‘۔اس موقع پر زونل ایجوکیشن افسر محمد مقبول ڈار نے کہا ’’ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور حکومت بچوں کی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے پرعزم ہے اور وبائی امراض کے باوجود کلاس رومز کی بندش سے پڑھائی کے نقصان کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔تمام مقررین نے فردوس ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے چیئر مین عشرت ٹنکی کے کردار کو سراہا۔ عشرت پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کی خواتین ونگ کی بھی سربراہ ہیں۔تقریب سے ایسو سی اشن کے صدر سنگھ پورہ، پٹن اور نہالپورہ زونز محمد اکبر ڈار اور زونل صدر محمد یوسف نے بھی خطاب کیا۔
معروف شیعہ عالم شیخ محمد حسن واعظی فوت
جلوس جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت
کرگل/ضیا ء الاسلام /ہندوستان کے معروف شیعہ عالم ، اسلامیہ اسکول کرگل کے امام جمعہ ،حوزہ علمیہ مدرسہ اثناعشریہ کرگل کے سابق قاضی حسن واعظی ہندرمانی مختصرعلالت کے بعد19اور20کی درمیانی رات کو انتقال کرگئے۔مرحوم حوزہ علمیہ مدرسہ اثناعشریہ کے قاضی رہ چکے ہیں اور اس وقت آپ اسلامیہ سکول کے متولی تھے۔ موصوف گزشتہ کئی سالوں سے پوین میں عارضی طور پر رہائش پذیر تھے اورمقامی مسجد کے امام تھے۔اُن کی اچانک رحلت سے اسلامیہ سکول خاص طورپر پوین اوراُن کا آبائی گائوں ہندرمان ایک عالم دین سے محروم ہوگیا۔ سنیچر کی صبح ان کے جلوس جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔
گنڈ کنگن میں چوروں نے ماروتی کار اڑالی
غلام نبی رینہ
کنگن//گنڈ کنگن میں چوروں نے 19اور 20نومبر کی درمیانی رات کو ایک آلٹو کاراڑالی۔ عابد نبی رینہ ولد غلام نبی رینہ ساکن گنڈ کے مطابق اُس کی آلٹو کار(LXI)دوران شب اڑالی ۔پولیس نے اس سلسلے میں ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 45/2021زیر دفعہ 379 IPCدرج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔
صوفی شاعرمحمود گامی کی یاد میں تقریب کا انعقاد
اننت ناگ//ڈورو اننت ناگ کے محمود آباد علاقے میں سنیچر کو یوم محمود’’صوفی وراثت‘‘کے بینر تلے منایا گیا۔ پروگرام کا اہتمام کشمیر سوسائٹی انٹرنیشنل، محمود گامی ورکنگ کمیٹی، جماعت الاعتقاد انٹرنیشنل نے آر اینڈ بی ڈیپارٹمنٹ اور شعبہ آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز کے اشتراک سے کیا تھا۔اس موقع پر مقررین نے کشمیری زبان و ادب کیلئے محمود گامی کی شاعری، تحریری صلاحیتوںاور نثری خدمات پر روشنی ڈالی۔پروگرام میں مختلف گلوکاروں فاروق گنائی، حافظ محمد اشرف اور غلام محی الدین شاہ نے حاظرین کو محظوظ کیا۔پروگرام میں ایس ڈی ایم ڈورو، صدر ایم سی ڈورو، تحصیلدار ڈورو، چیئرمین محمود گامی ورکنگ کمیٹی، ممبران کمیٹی، سیکریٹری کشمیر سوسائٹی انٹرنیشنل کے علاوہ عوام اور شعراء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
ویری ناگ میںکانگریس کاجن جاگرن ابھیان | حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں:میر
ویری ناگ // جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے ہفتہ کو تین کاشتکاری قوانین کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو کسانوں کی قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔پارٹی نے راہل گاندھی کی ہمت کی بھی داد دی جو ان قوانین کے خلاف ہمیشہ پرعزم رہے۔جے کے پی سی سی صدر غلام احمد میر نے یہ باتیں ویری ناگ میں پارٹی ورکروں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔کانگریس ورکرز کنونشن پارٹی کے جن جاگرن ابھیان کا حصہ بھی کسان وجے دیوس کے طور پر منایا گیا جب مرکز نے کاشتکاری قوانین کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔جے کے پی سی سی کے نائب صدر اور سابق وزیر رمن بھلا، نائب صدر حاجی عبدالرشید ڈار، گلزار احمد وانی ، جنرل سکریٹری سریندر سنگھ چنی اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے بھی کنونشن سے خطاب کیا۔جی اے میرنے پارٹی کارکنوں کو راہل گاندھی کے ان دعوئوں کے بارے میں یاد دلایا جب مرکز نے کاشتکاری کے تین قوانین لائے تھے، جس میں انہوں نے ان قوانین کے حوالے سے مرکز کے نظریہ کو واضح طور پر مسترد کر دیا تھا۔میر نے کہا کہ قوم تبدیلی کے لیے تڑپ رہی ہے، رائے عامہ بی جے پی کی پالیسیوں اور بوجھ کے لیے بی جے پی کے خلاف رہی ہے اور رہے گی ۔میر نے کہا کہ پارٹی کی طرف سے شروع کی گئی جن جاگرن ابھیان کا مقصد عوام کے تئیں مرکز کی پالیسیوں کو اجاگر کرنا اور اس کے خلاف سخت احتجاج کرنا ہے۔ پارٹی عوامی اہمیت کے مسائل پر بی جے پی حکومت کے خلاف لڑتی رہے گی تاکہ اسے جوابدہ اور جوابدہ بنایا جا سکے۔ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے میر نے کہا کہ سیکورٹی ،روزگار اور دیگر مختلف محاذوں پر حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کا مرکزی حکومت کی پالیسیوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔اس موقع پر پارٹی کے دیگر لیڈران نے بھی خطاب کیا۔
لوگ پریشان کُن دور سے گزررہے ہیں:جاوید ڈار
سیاسی انتشار اور انتظامی خلفشار سے جینا محال
سرینگر//نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کی آبادی فی الوقت پریشان کن دور سے گزر رہی ہے جبکہ سیاسی انتشار اور انتظامی خلفشار نے زمینی سطح پر لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ ان باتوں کا اظہار پارٹی کے شمالی زون صدر جاوید احمد ڈار نے پارٹی ہیڈکوارٹر پرایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ موصولہ بیان کے مطابق اس موقع پر سینئر لیڈران میر سیف اللہ، نذیر احمد خان گریزی، قیصر جمشید لون، شفقت احمد شاہ وٹالی، جگدیش سنگھ آزاد، نذیر احمد ملک، غلام نبی بٹ، ایڈوکیٹ عبدالمجید وانی اور بلاک صدور بھی موجود تھے۔ جاوید ڈار نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لو گ اس وقت نہ صرف روزمرہ کے مسائل سے دوچار ہیں بلکہ سیاسی طور پر بھی ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کیلئے نت نئے حربے اپنائے جارہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا’’ ہمارے دشمنوں نے اس مقصد کیلئے موقع پرست سیاستدانوں کو کام پر لگادیا ہے ‘‘۔ڈارنے کہا کہ مشکلات سے بھرے اس دور میں نیشنل کانفرنس صرف اس لئے ثابت قدم ،پُرعزم اور رواں دواں ہے کیونکہ اس جماعت کو یہاں کے عوام کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے پارٹی لیڈران اور کارکنان پر زور دیا کہ وہ دشمنوں کی چالوں سے ہوشیار رہیں اور سوچ سمجھ کر چلیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیرمیں موجود فرقہ پرستوں کی پراکسی جماعتیں اپنے آقائوں کو خوش کرنے کیلئے کشمیریوں کے مفادات، احساسات اور جذبات کو روند رہے ہیں اور اپنے حقیر مفادات کیلئے یہاںکے عوام کے حقوق کا سودا کررہے ہیں۔جاوید ڈار نے کہا ’’ موجودہ دور آزمائشوں اور امتحانات سے بھر ہوا ہے اور ایسے میں ہمیں ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے اور پارٹی اور لیڈر شپ کے احکامات پر من و عن عمل کرنا چاہئے اور عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں ۔ اس موقع پر قیصر جمشید لون نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔
بھدرواہ میںیتیم فائونڈیشن کے نئے دفترکا افتتاح
سرینگر//جے اینڈ کے یتیم فانڈیشن نے ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے اور غریبوں و ناداروں کی امداد اور بحالی کو مزید منظم اور ادارہ جاتی انداز میں جاری رکھنے کیلئے بھدرواہ یونٹ کے اپنے نئے تحصیل دفتر کو عوام کیلئے وقف کیا۔اس سلسلے میں ضلع ڈوڈہ میں گورنمنٹ لوئر ہائی اسکول نگر محلہ بھدرواہ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں فائونڈیشن کے رضاکاروں، اعزازی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ نودیپ وزیر چیف ایگزیکٹیو افسر بھدرواہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور انچارج ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے یتیم فائونڈیشن کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت مند لوگوں کو راحت پہنچانے کیلئے وقت نکالنا قابل تعریف ہے ۔انہوں نے سماج کے تمام طبقوں سے اپیل کی کہ وہ سماجی خدمت کے مقصد میں یتیم فائونڈیشن کی مدد کریں۔ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی یتیم فائونڈیشن کے رکن محمد رفیق لون نے کہا کہ یتیم ہر ایک کے لیے اور ہر کسی کے لیے ایک امتحان ہے اور سماج کے ہر ایک طبقے کیلئے انکی پرورش کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے سماجی خدمت کے مقصد کے لیے چوبیس گھنٹے کام کرنے کے لیے تمام رضاکاروں کی سراہنا کی۔تحصیل نمائندہ بھدرواہ جاوید احمد قاضی نے تحصیل یونٹ کی سماجی خدمات کے بارے میں مختصر گفتگو کی۔فائونڈیشن کے ضلعی نمائندے ڈوڈہ شوکت حیات ملک نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔اس موقع پر 20000روپے کی لاگت والی سلائی مشینیں تقسیم کی گئیں۔