۔5 اگست2019کے فیصلوں کوواپس لیاجائے: کمال
سرینگر//نیشنل کانفرنس روز اول سے ہی انسانی حقوق کی پاسدار جماعت رہی ہے اور ہمیشہ امن کی فضا قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ ریاست کے تینوں خطوں کے مذہبی رواداری اور بھائی چارے کی علم کو فروزاں رکھنے میں پیش پیش رہی ہے۔ تشدد کے خلاف اور عدم تشدد کی حامی یہ جماعت ناانصافی، ظلم و ستم، غلامی، جبرواستبداد کے خلاف اس جماعت نے ہمیشہ تحریک چلائی۔ اس بات کا اظہار پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے وادی کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے پارٹی لیڈران اور کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے وزیراعظم ہند سے اپیل کی کہ وہ 5اگست 2019 کے ان فیصلوں کو بھی واپس لے جو مرکز کی موجودہ سخت گیر سرکار نے غیر جمہوری طور صادر کرکے ریاست کو حصو ں میں یعنی UT میں تبدیل کیا اور وہ ریاست کے خصوصی درجے کی واپسی کیلئے پر عزم اور متحد ہیں اوران کی بحالی سے ہی ریاست میں امن وامان اور ترقی ہوسکتی ہے
نیشنل کانفرنس وفد نے حیدرپورہ جاکر تعزیت پرسی کی
سرینگر//نیشنل کانفرنس کے ایک وفد نے صوبائی صدرناصراسلم وانی کی قیادت میں وفد برزلہ اور کنی پورہ جاکر حیدرپورہ تصادم میں مارے گئے شہریوں کے لواحقین کی تعزیت پرسی کی اوران کی ڈھارس بندھائی۔ اُن کے ہمراہ سینئر پارٹی لیڈران علی محمد ڈار اور سیف الدین بٹ بھی تھے۔ پارٹی لیڈران نے دونوں مرحومین کے لواحقین اور پسماندگان کیساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور کہا کہ نیشنل کانفرنس اس صدمہ عظیم میں ان کے برابر شریک ہے۔ پارٹی لیڈران نے دونوں جگہوں پر مرحومین کے حق میں دعائے مغفرت کے علاوہ لواحقین کے صبر جمیل کیلئے دعا کی۔
ہوٹل مالکان مقامی ایجنٹوں کی مدد پرآمادہ | TASKکی ہوٹلیئرس کلب ممبران سے ملاقات
سرینگر// ہوٹل مالکان کو مقامی ایجنٹوں کی حمایت کرنے اور یکساں نرخوں پر عمل کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے، ٹریول ایجنٹس سوسائٹی آف کشمیر نے جے اینڈ کے ہوٹلیئرزکلب اور ویونتا تاج سری نگر کے منتظمین کے ساتھ میٹنگ کی۔ ٹرایول ایجنٹس سوسائٹی آف کشمیرکے جنرل سکریٹری کے مطابق طرفین کے درمیان میٹنگ ہوٹل ریڈیسن سری نگر میں ہوئی۔ اس موقع پر چیئرمین ہوٹلرزز کلب مشتاق احمد چایہ اور دیگر ممبران بشمول ریاض احمد شہداد سینئر وائس چیئرمین، ناصر احمد خان جوائنٹ سیکرٹری جنرل، فاروق حافظ، صدر سونہ مرگ چیٹر اور طارق گانی سیکرٹری جنرل موجود تھے۔’ ٹاسک ‘نے ہوٹلرز کلب پر زور دیا کہ وہ ہفتہ وار بنیادوں پر نرخوں میں تبدیلی نہ کریں اور کم از کم 2 ماہ تک یکساں شرح برقرار رکھیں۔ ان کا کہنا تھا’’ہم بہت مشکور ہیں کہ ہوٹلرز کلب کے چیئرمین مشتاق احمد چایہ نے ہماری بات سے اتفاق کیا اور یقین دلایا کہ کم از کم 2 ماہ تک قیمتیں یکساں رہیں گی۔‘‘ بیان میں کہا گیا کہ چایہ نے مزید یقین دلایا کہ ہوٹل مالکان نہ صرف سیاحوںکے لیے بنیادی سہولیات میں تجدیدکریں گے بلکہ ہوٹل اور سیاحت کی صنعت سے وابستہ مقامی ایجنٹوں کی بھی مدد کریں گے۔ ہوٹلز کلب کے سربراہ مشتاق احمد چایہ نے ٹریول ایجنٹس سوسائٹی آف کشمیر کے ساتھ میٹنگ کی تصدیق کی۔ ٹرایول ایجنٹس سوسائٹی آف کشمیرنے اس سلسلے میں جنرل منیجر ویونتا تاج جتیندر چند اور سیلز ہیڈ بشارت احمد کے ساتھ میٹنگ بھی کی۔انہوں نے بتایا کہ ویونتا تاج نے یہ بھی یقین دلایا کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر مقامی ایجنٹوں کی مدد کرے گا اور ہوٹل انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ٹرایول ایجنٹس سوسائٹی آف کشمیر کے جنرل سیکرٹری وسیم گوسانی کے علاوہ اس انجمن کے صدر محمد اکرم سیاح، جوائنٹ سیکرٹری مقصود بدیاری، سا بق صدر میر انو ربھی موجود تھے۔
سرینگر جموں شاہراہ پر سفر کرنے والوں کی کورونا ٹیسٹنگ | ناظم صحت کا قاضی گنڈ پرائمری ہیلتھ سینٹرمیں سہولیات کا جائزہ
سرینگر // ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر مشتاق احمد راتھر نے اتوار کو قاضی گنڈ میں قائم پرائمری ہیلتھ سینٹر قاضی گنڈ کا دورہ کیا اور وہاں سرینگر جموں شاہراہ پر کورونا ٹیسٹنگ سہولیات کا جائزہ لیا ۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر کے ہمراہ چیف میڈیکل آفیسر کولگام اور بلاک میڈیکل آفیسر قاضی گنڈ بھی تھے۔ڈائریکٹر نے اسپتال میں ایمرجنسی خدمات کا معائنہ کیا اور مریضوں کو ملنے والی سہولیات کا بھی جائزہ لیا ۔انہوں نے اسپتال میں ایمرجنسی مریضوں کیلئے دستیاب آکسیجن سہولیات کا بھی جائزہ لیا ۔ دورے کے ددوران ناظم صحت کو بتایا گیا کہ ایمرجنسی اسپتال میں 300لیٹرفی منٹ کی رفتار سے آکسیجن فراہم کرنے والے پلانٹ کو نصب کیا گیا ہے اور بہت جلد اس کا افتتاح کیا جائے گا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے اس اسپتال کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے سرینگر جموں شاہراہ پر زگ ٹنل(Zig Tunnel) کے مقام پر قائم کی گئی کویڈ ٹیسٹنگ سہولیات کا بھی معائنہ کیا ۔ انہوں نے چیف میڈیکل آفیسر کولگام کو ہدایت دی کہ وہ روزانہ ہونے والی ٹیسٹنگ میں اضافہ کرے اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کشمیر آنے والا کوئی بھی شخص ٹیسٹ کے بغیر داخل نہ ہو۔ ڈائریکٹر نے قاضی گنڈ میں مقامی لوگوں اور بزرگ شہریوں سے بھی بات چیت کی جنہوں نے اسپتال میں سی ٹی سیکین نصب کرنے کی مانگ کی ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر نے مقامی لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ اسپتال میں سی ٹی سیکین سہولیات کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کریں گے۔
بھدرواہ کاچیناراگائوں | پانی کی قلت کا شاخسانہ ،متعددلڑکیوں نے تعلیم ادھوری چھوڑی
بھدرواہ//ڈوڈہ ضلع کے دوروافتادہ علاقے میں گزشتہ دوبرس کے دوران پینے کے صاف پانی کی قلت کی وجہ سے متعددلڑکیوں کی اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ دی ہے۔بھدرواہ سب ڈویژن کے مسراتاپنچایت کے چیناراگائوں جوضلع صدرمقام ڈوڈہ سے57کلومیٹر دور ہے،میں غریبی کی سطح سے نیچے گزربسرکرنے والے لوگ رہتے ہیں۔کم بارشوں کی وجہ سے گزشتہ دوبرس کے دوران یہاں کے قدرتی آبی سائل خشک ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے یہاں پینے کا پانی کابحران پیداہواہے۔ لڑکیوں کا کہناہے کہ پینے کاپانی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اسکول چھوڑناپڑاجبکہ حکام کاکہنا ہے کہ گائوں کوجل جیون مشن کے ساتھ عنقریب جوڑ دیاجائے گا۔تاہم اس پروجیکٹ کو عملانے میں کچھ وقت لگے گااورگائوں والوں کو پینے کاصاف پانی مہیا ہوگا۔گائوں کے لوگوں کے مطابق خواتین خاص طور سے لڑکیوں کو گھنے جنگل سے گزر کر ہرروزمیلوں دور پانی لانے جانا پڑتا ہے تاکہ خود اور مویشیوں کیلئے پانی کا بندوبست کرسکے۔انہوں نے کہا کہ متعدد مرتبہ وہ گدلاپانی لے کر آتی ہیں جو پینے کے لائق نہیں ہوتااورانہیں اُسے پینے کے لائق بنانے کیلئے کافی محنت کرناپڑتی ہیں ۔18برس کی رابعہ بانو نے کہا کہ مجھے پڑھنے کا کافی شوق ہے اور میں نے بڑی مشکل سے 12ویں جماعت تک پڑھائی حاصل کی ۔تاہم مجھے گزشتہ سال پڑھائی چھوڑنی پڑی کیوں کہ مجھے گھر کیلئے پانی لانے ہرروزدورجاناپڑتا ہے اور مجھے پڑھائی کو موقعہ ہی نہیں ملتا۔بانو نے کہا کہ لڑکیوں کے پاس اس کے سواکوئی چارہ نہں ہے کہ وہ تعلیم ادھوری چھوڑیں اور گھر کیلئے پانی لانے جائیں۔16برس کی فاطمہ نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ وقت کی کمی کے سبب وہ پڑھ نہیں پاتے۔اُس نے دوبارآٹھویں کا امتحان دیا لیکن پاس نہ ہوئی۔فاطمہ نے اپنی ناقص تعلیمی کارکردگی کیلئے وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے روزگھنٹوں پانی لانے کیلئے دوردرازجانا پڑتا ہے اور میں ُپڑھ نہیں پاتی ہوں۔اس نے کہا کہ اُسے دن میں کئی کئی بار قدرتی چشموں پرپانی لانے جانا پڑتا ہے۔ایک مقامی شہری عبدالرشیدگوجر نے کہا جب نل سے گھروں کو پانی مہیا نہیں کیاجاتا،تو پانی لانے کاکام خواتین خاص طور سے بچوں پرپڑتا ہے۔اس نے کہا کہ ان حالات نے لڑکیوں کی تعلیم پربرے اثرات ڈالے ہیں اوراب تک15طالبات کے تعلیم ادھوری چھوڑدی ہے ۔گجر کی دخترنازیہ نے پانچویں جماعت میں ہی تعلیم چھوڑ دی۔اُس نے بتایا کہ لڑکیوں کوروزانہ 10گھنٹے پانی لانے پرصرف کرنے پڑتے ہیں۔جس سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہیْ۔اس نے کہا کہ ہمارے گائوں میں لوگوں کو اس بات کا غم ہوتا ہے کہ کیسے پانی حاصل کرے یااگر کسی کی شادی ہو یاکوئی مرجائے تب بھی ہمیں پانی کی کمی کامسئلہ ہوتا ہے۔ اس دوران پنتھرس پارٹی کے ضلع یوتھ صدر رشیدچودھری نے دعویٰ کیا کہ وہ گائوں کے کئی وفود کے ہمراہ مختلف سرکاری محکموں میں گیالیکن جل شکتی محکمہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے سردمہری کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں حیرت ہوئی جب جل شکتی محکمہ کے متعلقہ اسسٹنٹ ایگزیکٹوانجینئر ہماری بات سننے کے بجائے طیش میں آئے اورکہا کہ میرے پاس کوئی الہ دین کا چراغ نہیں ہے جو میں آپ کو پانی مہیاکروں۔مسراتاپنچایت کے سرپنچ ستیش کوتوال نے کہاگائوں میں پانی کی شدید قلت ہے اور حکومت کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے۔ایگزیکٹوانجینئرجل شکتی ڈوڈہ ہرجیت سنگھ کے مطابق فیلڈ اسٹاف کے مطابق گائوں میں نلکے سے پانی مہیا نہیں ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ کیلئے وہ ٹیم کووہاں بھیجے گے تاکہ گائوں کو پینے کاصاف پانی مہیا کیاجاسکے۔
مصنوعات کوبہتر بنانے کا جنون | جوان سال مدرس نے150سے زیادہ چیزوں کااختراع کیا
بلال فرقانی
سرینگر// جنون کی حد تک چیزوں و مصنوعات کو بہتر بنانے کی چاہ میں نوجوان مدرس روف عالم نے 150سے ز ائد الیکٹرانک اور الیکٹریکل اشیاء کے علاوہ موسیقی اور میکنیکل چیزوں کے اختراع میں کامیابی کے جھنڈے گاڑدیئے ہیں۔روف عالم بٹ اس وقت کشمیر یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، زکورہ کیمپس میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر کام کر رہے ہیں۔سرینگر کے حبک علاقے کے رہنے والے 35 سالہ روف عالم بٹ کو بچپن سے ہی نئی ایجادات کا شوق تھا،جب وہ دس برس کے تھے، تبھی انہوں نے ایک موسیقی آلہ ’رباب‘ کو نئے انداز سے تیار کیا تھا اورتب سے لے کر اب تک وہ تقریبا 150 سے زائد چیزیں بنا چکے ہیں جس کے لیے انہیں قومی اور بین الاقوامی دونوں طرح کے اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہیں۔ روف عالم بٹ نے کہا’’جب میں5 یا سات برس کا تھا تبھی ہمارے علاقے میں رباب نواز نور محمد آیا کرتے تھے اور میں بھی ان کو سننے جایا کرتا تھا ،تاہم میرا رجحان موسیقی کی طرف نہیں بلکہ رباب سے نکلے اس ساز پر تھا جس نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ ‘‘ان کا کہنا تھا کہ جب اس نے اپنے والد سے رباب لانے کی فرمائش کی ،تو ان کے والد نے اس فرمائش کو نکارااور اس نے تہیہ کرلیا کہ وہ از خود رباب تیار کرے گااور اس میں کامیاب بھی ہوا۔ انہوں نے کہا’’اکثر لوگ اختراع اور ایجاد کو ایک ہی مانتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ ایجاد کا تعلق نئی مصنوعات کی تخلیق سے ہے اور اختراع کا مطلب ہے اس کی قدر میں اضافہ کرنا یا موجودہ مصنوعات میں تبدیلی لانا ہے۔‘‘ روف نے بتایا کہ کشمیر کے لوگ ہر قدم پر مشکلات سے دوچار ہیں جیسے بجلی، سردی، سڑک، ٹرانسپورٹ سب سے ہمیں پریشانی ہوتی ہے اوراختراع سے ہم عوام کی مشکلات کم کر سکتے ہیں۔اپنے انوویشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’’اکثر بجلی کے کھمبوں پر کام کرتے ہوئے کئی بجلی اہلکار کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوچکے ہیں، یا پھر بورویل صاف کرنے والے مزدوروں کی بھی کام کرتے وقت دم گٹھنے سے موت ہوجاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کی جان بچانے کے لیے بھی انہوں نے انوویشن کیا۔ اس کے علاوہ درختوں سے اخروٹ اتارنے والوں کے لیے بھی مستقبل میں کام کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اصل میں ترقی یافتہ ممالک اور ہم میں یہی فرق ہے کہ وہاں انوویشن کے لیے زیادہ کچھ نہیں ہے اور یہاں بہت کچھ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 2014 میں، انہوں نے اپنے ایک طالب علم کے ساتھ مل کر مفلوج افراد کے لیے ڈائپر بنایا۔ جب ان افراد کو رفع حاجت محسوس ہو تو یہ ڈائپر قبل از وقت الرٹ کر دیتا ہے۔ روف کا کہنا تھا ’’ خوشی کی بات ہے کہ اس انوویشن سے متاثر ہو کر جاپان کی کمپنی ’’جاپان یونیلیور‘‘ نے ان سے رابطہ کیا اور اس کو خریدنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ٹیکنالوجی دنیا میں کئی پر بھی موجود نہیں ہے۔
لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کوپوراکیاجائے:جمعیت ہمدانیہ
سرینگر//جمعیت ہمدانیہ نے وادی میں شہری ہلاکتوں اور زورزبردستی پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام میں عدم تحفظ پیداہواہے ۔ایک بیان میں جمعیت نے کہا کہ وادی میں ہرجگہ نوجوانوں کو ہراساں کیاجارہا ہے ۔بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ کشمیرمیں بے چینی،اقتصادی اور معاشی بدحالی کاحل اس بات میں مضمر ہے کہ لوگوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے ہیں انہیں پورا کیاجائے۔
پلوامہ کے نعت گو شاعر غلام مصطفیٰ فوت
سرینگر// رتنی پورہ پلوامہ علاقے سے تعلق رکھنے والے کشمیری زبان کے معروف نعت گو شاعر سید غلام مصطفی امید انتقال کر گئے ۔وہ پچھلے دو ماہ سے بیمار تھے۔انکے انتقال سے کشمیر کے ادبی حلقوں میں زبردست رنج وغم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ معروف شاعر، ادیب اور قلمکار عبدالرحمن فدا نے دکھ کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ مرحوم نہایت شریف انسان تھے۔انہوں نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے کہا کہ انکے انتقال سے کشمیری زبان کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ سماجی کارکن اور شاعر جی ایم دلشاد نے کہا کہ موصوف کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا اُس کی بر پائی نا ممکن ہے۔ نوو ادبی کاروان پلوامہ کے صدر سکندر ارشاد نے سوگوار کنبے کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کی درجات بلندی کے لئے دعا کی۔
باغبانی محکمہ کی جانب سے کنگن میںتربیتی کیمپ | کسانوں کو مختلف اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کی تلقین
غلام نبی رینہ
کنگن//ڈائریکٹر جنرل ہاٹی کلچر کی سربراہی میں وسطی ضلع گاندربل کے دورا فتادہ علاقے سرفراو کنگن میں تربیتی اور بیداری کیمپ کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈی ڈی ممبران اور دوسرے ذی عزت شہریوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہاٹی کلچر نے لوگوں کو یقین دلایا کہ محکمہ کی جانب سے شروع کی گئی اسکیموں کے بارے میں گھر گھر جا کر جانکاری فراہم کی جائے گی۔ سرفراو کنگن میں ہاٹی کلچر محکمہ کی جانب سے تربیتی و بیداری کیمپ منعقد کیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل ہاٹی کلچر اعجاز احمد بٹ نے اس موقع پر بتایا کہ دور افتادہ علاقوں کے لوگوںکو راحت فراہم کرنے کی خاطر محکمہ کاربند ہے۔ انہوںنے کہاکہ یوٹی اور مرکزی سطح پر ہاٹی کلچر محکمہ نے کئی اسکیمیں شروع کی ہیں جس سے استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہاٹی کلچر محکمہ نرسریوں ، پالی ہاوسز ، بور ولز ، پیک ہاوسز ہاٹی کلچر ساز و سامان کی فراہمی کی خاطر زمینی سطح پر اقدامات اٹھا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ وسطی ضلع بڈگام خاص کر کنگن میں ہاٹی کلچر شعبے کو فروغ دینے کے ذرائع موجود ہیں۔ انہوںنے باغ مالکان پر زور دیا کہ وہ اخروٹ ، اور دوسرے پھلوں کی اور توجہ مبذول کریں جس کیلئے محکمہ ان کی رہنمائی کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دور افتادہ نوجوانوں کو ہاٹی کلچر شعبے میں روزگار فراہم کرنے کی خاطر بھی بہت سی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کسانوں اور باغ مالکان کو ان اسکیموں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
عوام کو تحفظ کا احساس دلانا وقت کی ضرورت | لائیگرو کا حبہ کدل میں پارٹی اجلاس سے خطاب
سرینگر// پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے حلقہ انچارج حبہ کدل عارف لائیگرو نے اتوار کو حبہ کدل میں علاقہ کے لوگوں کے ساتھ میٹنگ کی اور کئی مسائل پر غور و خوض کیا۔ملاقات کے دوران پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔انہوںنے ملاقات کے دوران کارکنوں سے کہا کہ الیکشن کوئی ترجیح نہیں ہے بلکہ عوام کو تحفظ کا احساس دلاناوقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ بامعنی بات چیت شروع کریں تاکہ مستقبل میں جانیں بچ سکیں۔پی ڈی پی نے لوگوں سے پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے کہا اور سماجی برائیوں کے خلاف مہم چلائی جس میں سماج میں منشیات کا استعمال شامل ہے۔لائیگرو نے کہا کہ وہ اپنے علاقے کے نوجوانوں پر نظر رکھیں اور معاشرے کی بہتری کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کشمیر کے موجودہ حالات پر غم و غصے کا اظہار کیا اور دیرپا امن کی واپسی کے لیے دعا کی۔ میٹنگ میں محمد منیب بٹ، یونس احمد سجاد احمد اعجاز احمد اور کئی دیگر نے شرکت کی۔
ڈی آئی جی جنوبی کشمیر نے پلوامہ میںسیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا
سرینگر// ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس جنوبی کشمیر عبدالجبارنے ضلع پلوامہ کا دورہ کیا اور سیکورٹی صورتحال، عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں، امن و امان، منشیات کے خلاف مہم اور دیگر مسائل سے متعلق جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ پولیس لائنز پلوامہ میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میںایس ایس پی پلوامہ غلام جیلانی وانی، اے ایس پی پلوامہ، ایس ڈی پی او لیتر، ڈی وائی ایس پی ڈار ڈی پی ایل پلوامہ اور ضلع کے دیگر سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران سیکورٹی صورتحال، جرائم کی صورتحال اور پولیسنگ کے مختلف پہلوؤں کے علاوہ عوام پر مبنی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈی آئی جی نے ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پلوامہ میں پولیس کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے مجموعی سیکورٹی صورتحال، انسداد بغاوت کی کارروائیوں اور ضلع میں Covid-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے پولیس اور پبلک ریلیشنز کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ڈی آئی جی نے افسران پر زور دیا کہ وہ انسداد بغاوت کی کارروائیوں سے نمٹنے کے دوران پیشہ ورانہ انداز اپنائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قوم کے دشمنوں کے کسی بھی مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے افواج کے درمیان ہم آہنگی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
نیشنل فارمیسی ویک پرآرینز کالج میں تقریب، فارماسسٹ اہمیت کے حامل قرار دئے گئے
سرینگر//آریانز کالج نے ’نیشنل فارمیسی ویک‘ کے سلسلے میں ویب نار اور دیگر پروگراموںکا انعقاد کیا۔ ان پروگراموں میںمریضوں کی دیکھ بھال کیلئے فارماسسٹ اور تکنیکی ماہرین کی شراکت کو اہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔ اس موقع پر پوسٹر پرزنٹیشن، مباحثہ، کوئز، رنگولی مقابلہ سمیت مختلف سرگرمیاں انجام دی گئیں۔فارما ماہر بشمول ڈاکٹر میانک متل نیشنل کنسلٹنٹ سنٹرل ٹی بی، ڈاکٹر سشما سنگھ فیکلٹی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فارماسیوٹیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (NIPER) موہالی، راجیش کے چوپڑا پلانٹ ہیڈ، فارماسیوٹیکل اینڈ ویکسین پلانٹ Panacea Biotec، ڈاکٹر پونیت کپور، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیڈ ڈیولپمنٹ کنسلٹنگ اینڈ سائنٹفک افیئرز، فارمالیکس انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، ڈاکٹر جگمہندر سہراوت، پروفیسر فارماسیوٹیکل اینتھروپالوجی، شعبہ بشریات پنجاب یونیورسٹی، ڈاکٹر انوراگ کْہاد فیکلٹی، فارماکولوجی، یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ نے بی فارما اور آرینز کالج آف فارمیسی اور آرینز فارمیسی کالج کے ڈی فارما کے طلباء کے ساتھ بات چیت کی۔ ڈاکٹر انشو کٹاریہ، چیئرمین آریانز گروپ نے تقریب کی صدارت کی۔ڈاکٹرمتل نے اس موقع پر کہا کہ اس ہفتہ کو منانے کا بنیادی مقصد تمام فارماسسٹ اور فارمیسی شعبوں کا اعتراف اور شکریہ ادا کرنا ہے جو بڑی غیر یقینی صورتحال اور چیلنجوں کے دوران انتھک محنت کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ سوسائٹی نے یقینی طور پر فارماسسٹ کی طرف سے دی جانے والی خدمات اور وبائی صورتحال کے دوران فارمیسی خدمات کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔راجیش چوپڑا نے کہا کہ ’’فارمیسی ویک‘‘ صحت کی دیکھ بھال کرنے والی ٹیم میں فارماسسٹ کے اہم کردار کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا ایک موقع ہے۔ ڈاکٹر کپور نے کہا کہ اس سال COVID-19 نے فارماسسٹ کی قدر کو ظاہر کیا ہے اور فارما پروفیشن صحت کی دیکھ بھال کی ترتیبات میں اضافہ کرتا ہے۔ڈاکٹر سہراوت نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ معاشرے میں فارماسسٹ کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے جیسا کہ اگر فارماسسٹ نہیں تو دوائیں نہیں؛'اور اگر دوائیں نہیں تو سوستھ بھارت نہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ پچھلی چند دہائیوں میں ہندوستان میں فارمیسی کی ترقی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ آج دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں سے ایک ہے۔انہوںنے مختلف مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح فارماسسٹ کی طرف سے فراہم کردہ مشاورت دواؤں کی تاثیر کو بہتر بنا سکتی ہے۔ انہوں نے فارماسسٹوں کو مشورہ دیا کہ وہ انسانی اخلاقیات اور اقدار کو فروغ دیں اور مریضوں کی مؤثر طریقے سے مشاورت کے لیے مناسب مواصلاتی مہارتیں بھی تیار کریں۔ ڈاکٹر کے کے سنگلاز پرنسپل آرینز فارمیسی کالج تقریب کے ناظم تھے۔
ڈاکٹر فاروق کا کرگل کے عالم دین کے انتقال پر اظہار تعزیت
سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے صوبہ لداخ کے معروف شیعہ عالم دین شیخ محمد حسن واعظی کے انتقال پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے جملہ سوگواران ، اہل خانہ اور کرگل کے عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ موصوف نے زندگی بھر تبلیغ دین کرکے اسلام کی بے لوث خدمت انجام دی۔انہوں نے کہا کہ ان کے انتقال سے ایک ملی نقصان ہوا ہے جس کو پُر کرنا انتہائی مشکل ہے۔ پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ ،جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر مصطفی کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، آغا سید روح اللہ ، آغا سید محمود، قمر علی آخون، تنویر صادق، حنیفہ جان، فیروز احمد خان اور غلام حسن خان نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
ولر اردو ادبی فورم کی جانب سے نعتیہ مشاعرہ
سرینگر//ولر اردو ادبی فورم بانڈی پورہ نے بزم سخن اجس کے اشتراک سے سید جعفر الدین بخاری پبلک سکول میںایک ضلعی سطح کا نعتیہ مشاعرہ منعقد کیا جس میں ضلع بھر سے آئے ہوئے شعراء نے شرکت کی ۔فورم کے ایک بیان کے مطابق مشاعرے کی صدارت فورم کے صدر طارق شبنم نے کی جبکہ ایوان صدارت میں سکول کے چیئر مین محمد ممتاز راتھر، فورم کے سر پرست غلام رسول راتھر ،تحصیل ویلفیئر کمیٹی اجس کے صدر محمد شعبا ن بٹ موجود تھے ۔مشاعرے میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان میں سراج الدین ثنائی ،غلام نبی ڈار ، قرت العین، بشیر اجسی ،عاشق یوسف،،بشیر متی پوری ،پیر محمد یوسف اورمہتاب منظور وغیرہ قابل ذکر ہیں۔طارق شبنم نے فورم کی کار کردگی کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ فورم کا بنیادی مقصد ہی زبان و ادب کا فروغ اور نوجوان پود کو خرافات سے باز رکھ کر ادب کی طرف مائل کرنا ہے جس کے لئے فورم اپنی مقدور بھر کوششں جاری رکھے گا۔اس موقعے پر فورم کے سرپرست غلام رسول کوہی اور سیکریٹری فہیم جاوید نے سیرت طیبہؐ پر روشنی ڈالی ۔مشاعرے کے آخر پر عاشق یوسف کے کشمیری شعری مجموعہ’ گلاب تھر‘ کی رسم رونمائی بھی دی گئی جبکہ بشیر اجسی نے اس کتاب پر تبصرہ پیش کیا َ۔ مشاعرے کی نظامت کے فرائض مہتاب منظور نے انجام دئے ۔