سرینگر //پوری وادی سردی کی شدید لپیٹ میں آچکی ہے اور درجہ حرارت لگاتار نقطہ انجماد سے نیچے درج ہو رہا ہے ۔سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پوری وادی میں منفی درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ نومبر کے مہینے میں پہلی بار پوری وادی کے سبھی علاقوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے درج کیا گیا اور سب سے کم در جہ حرارت شوپیان میں ریکارڈ کیا گیا جو منفی 5 ڈگری درج ہوا۔شدید ٹھنڈ کی وجہ سے اہل وادی رات کے علاوہ صبح و شام ٹھٹھر رہے ہیں۔درجہ حرارت میں بتدریج گراوٹ کے نتیجے میں وادی کے اکثر علاقوں میں گہری دھند چھائی رہتی ہے جس سے گاڑیوں کی روانی متاثر ہونے لگی ہے ۔ محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ اگلے 3روز تک وادی میں موسم کی صورتحال جوں کی توں رہے گی۔محکمہ نے کہا کہ 24اور 25نومبر کو چھوڑ کر نومبر کے مہینے میں کوئی بڑی موسمی تبدیلی نہیں آئے گی۔ محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ سرینگر شہر میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات درجہ حرارت منفی 1.3ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ گذشتہ رات منفی1.5ڈگری تھا ۔قاضی گنڈ میں منفی 2.2،پہلگام میں منفی 4.2 ، کپوارہ میں منفی3.0 ،کوکرناگ میں منفی 1.3 اور گلمرگ میں منفی 1.4ڈگری سلسیش ریکارڈ کیا گیا ۔پانپور میں منفی 4،اونتی پورہ میں منفی 4.5، اننت ناگ میں منفی 4.1،بانڈی پورہ میں منفی 2.7 ، بارہمولہ میں منفی 1.5، پلوامہ میں منفی 3.4، بڈگام میں منفی 2.8، کولگام میں منفی 1.2 اور شوپیان میں منفی 5.0 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ منفی درجہ حرارت کا آنے والے دنوں میں بڑھنے کے امکان ہے ۔ادھر لداخ خطہ میں بھی شدید سردی پڑ رہی ہے اور وہاں کے لوگ سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں۔ سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات لیہہ میں منفی 6.4ڈگری ، کرگل میں منفی 6.5 اور دراس میں منفی 12.0ڈگری ریکارڈ کیا گیا ۔وادی میں جہاں درجہ حرارت میں گراواٹ دیکھنے کو مل رہی ہے وہیں صبح اور شام بھی دھند چھائی رہتی ہے۔ دھند کی وجہ سے صبح کے وقت گاڑیوں کی آمد و رفت اور فضائی سروس بھی متاثر ہورہی ہے۔ اتوار کے صبح بھی شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں شدید دھند چھائے رہنے کے نتیجے میں حد نگاہ معمول سے کم تھی جس سے گاڑیوں کو روشنیاں جلا کر چلنا پڑا۔