سرینگر //جموں وکشمیر کی آبی پناہ گاہوں میں بیرون ممالک سے آنے والے مہاجر پرندوں سمیت دیگر آبی حیات کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے کیونکہ انہیں یہاں خوراک کم او ر پلاسٹک و پالی تھین سے زہر آلودہ پانی دستیاب ہورہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک آبی پناہ گاہوں میں کوڑا کرکٹ ڈالنے کی کارروائیوںکو روکنے کیلئے موثر طور پر اقدامات کو بروئے کار نہیں لایا جاتا،اس وقت تک صورتِ حال بدتر ہوتی چلی جائے گی۔وادی کی جھیلوں اور آبی پناہ گاہوں کی لہروں پر مہاجر پرندوں نے ڈھیرہ ڈال دیا ہے اور فی الوقت 4لاکھ مہمان پرندے کشمیر وارد ہوچکے ہیں۔ ویٹ لینڈ وارڈن کشمیر مس افشاں کے مطابق امسال 10لاکھ پرندوں کی آنے کی توقع ہے ،جس کے لئے فروری میں باضابطہ طور پر سروے کی جائیگی۔ کشمیر کے آبی ذخائر میں ٹھوس فضلہ اور پلاسٹ پھینکنے سے مہاجر پرندوں کی صحت پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے ۔ بیرون ممالک سے کشمیر آنے والے یہ پرندے نہ صرف یہاں کے ایکو سسٹم کو برقرار رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں، بلکہ یہ اُن کیڑوں کو بھی کھاتے ہیں جو ماحول کو آلودہ بنا دیتے ہیں، یہ پرندے اپنی خوراک کے لیے دریاؤں اور جھیلوں پر انحصار کرتے ہیں۔ نئی سائنسی تحقیق میں کہاگیا ہے کہ پلاسٹک کے پانچ ملی میٹر سائز کے ذرات جنہیں مائیکرو فائبر کہا جاتا ہے، ندی نالوں سے بہتے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں پہنچ کر دیگر چیزوں کے ساتھ کیڑوں کی خوراک بن جاتے ہیں، جنہیں آبی پرندے کھا لیتے ہیں۔یہ ریسرچ ایک سائنسی جریدے گلوبل چینج بیالوجی میں شائع ہوئی ہے جس میں تحقیق کار ایرک وان سیبل کہتے ہیں کہ ندی نالے اور سمند اب پلاسٹک سے بھر چکے ہیں اور ’یقینی امکان‘ ہے کہ 2050 میں اگر کوئی مردہ آبی پرندہ ملتا ہے تو’اس کے معدے میں پلاسٹک کی کچھ مقدار موجود ہو گی۔ پانی سے خوراک حاصل کرنے والے پرندوں پر تجربات کے دوران سائنس دانوں کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ان کے معدے میں پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات موجود ہیں، جب کہ وہ زمین کی سطح یا پانی سے براہ راست کچھ نہیں کھاتے۔جموں وکشمیرمیں سالانہ 15لاکھ آبی پرندے بیرون ممالک سے کشمیر پہنچتے ہیں اور یہ یہاں جھیل ڈل ، ولر ، ہوکرسر، ہائیگام اور دیگر آبی ذخائر میں مارچ تک اپنا ڈھیرہ ڈالتے ہیں، یہاں ابھی تک ایسی کوئی بھی تحقیق نہیں کی جا سکی ہے کہ ان آبی زخائر میں ڈالے جانے والے کوڑا کرکٹ اور پلاسٹ سے ان پرندوں کو کتنا نقصان ہو رہا ہے اور اس کے مستقبل میں کیا منفی اثرات رونما ہو سکتے ہیں ، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ندی نالوں اور آبی زخائر میں پلاسٹ ڈالنے سے گریز نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں یہ تنو بھی متاثر ہو سکتے ہیں ،کیونکہ ڈل اور جھیل ولر اورجہلم میں ایسا کوئی کنارہ نہیں جہاں پر پاسٹک نہ پھینکا جاتا ہو۔وادی کی مچھلیاں ہوں یا پھر دیگر آبی پرندے، وہ یہاں کے آبی زخائر پر ہی انحصار کرتے ہیں ۔ اسلامک یونیورسٹی کے وائس چانسلر و ماہر ارضیات پروفیسر شکیل آحمد رومشو نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پلاسٹک نہ صرف انسانوں بلکہ آبی پرندوں کیلئے بھی سم قاتل ہے ۔ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے رومشو نے کہا کہ اس میں کوئی دوہرائے نہیں کہ لوگ ٹھوس فضلہ، جس میں پالی تھین زیادہ ہوتا ہے ندی نالوں کی نذر کر دیتے ہیں ،اس سے نہ صرف آبی پرندوں بلکہ مچھلیوں اور انسانوں کی صحت پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پانی کو انسان پینے کیلئے استعمال کرتے ہیں ، اور مچھلیاں اگر یہ زہر آلودہ پانی اور پالی تھین کھائیں گی تو اُن کا اثر صرف ان کی صحت پر ہی نہیں بلکہ مچھلیاں کھانے والے لوگوں پر بھی پڑسکتا ہے ۔شکیل رومشو نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بیرون ممالک سے آنے والے آبی پرندے یہاں کے ایکو سسٹم کو برقرار رکھنے میں مفید ثابت ہو رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا ماحول ان کی وجہ سے کسی حد تک صاف ہے، اس کیلئے حکام کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ندی نالوں میں پلاسٹک ڈالنے والوں پر روک لگائی جائے اور پلاسٹک پر مکمل پابندی لگائی جائے کیونکہ پلاسٹک یا پالی تھین مضر صحت ہے ۔ ویٹ لینڈ وارڈن کشمیر مس افشان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اب تک وادی میں محکمہ کے پاس موجود آبی زخائر کے حوالے سے دستیاب اعدادوشمار کے مطابق قریب 4لاکھ سے زائد مہاجر پرندے پہنچے ہیں اور اْمید ہے کہ اس سال 10 لاکھ کے قریب پرندے آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہوکرسر میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پرندے پہنچ چکے ہیں، پانپور میں 40ہزار ، ڈل جھیل میں 1 لاکھ سے زیادہ پرندوں کی آمد ہوچکی ہے۔ ہائیگام میں 20ہزار اور جھیل ولر میں 2لاکھ سے زائد پرندے آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امسال آبی پناہ گاہوں میں آبی پرندوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ان کے آنے کا سلسلہ مارچ کے آخری ہفتے تک جاری رہے گا ۔معلوم رہے کہ یخ بستہ سردیوں میں رہنے کیلئے سائبریااور وسطیٰ ایشیاء کیساتھ ساتھ دیگر ممالک سے کشمیر آنے والے مہاجر آبی پرندوں کی آمد کا سلسلہ اکتوبر مہینے کے آخری دنوں میں شروع ہوجاتا ہے اور مارچ میں یہ پرندے پھر اپنے اپنے ممالک میں واپس چلے جاتے ہیں۔