سرینگر//لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر اگلے دفاعی مقامات پر فورسز اور فوج کو سٹیل سے بنائی گئی رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن میں ہر طرح کی سہولیات میسر رہیں گی۔لائن آف کنٹرول پر اونچائی والے مقامات پر تعینات نیم فوجی دستوں اور فوج کیلئے نہ صرف پختہ رہاشی سہولیات تعمیر کی جائیں گی بلکہ سٹیل سے بنے مورچے تعمیر ہونگے۔اس حوالے سے ایک بڑے منصوبے پر کام ہورہا ہے۔جموں اور کشمیر میں 772کلومیٹر لمبی ایل او سی ، 430کلومیٹر سے زیادہ انتہائی برف سے جڑے ہوئے یا گھنے جنگل والے علاقوں میں واقع ہے اور ہندوستان کے اینٹی انفلٹریشن گرڈ کا حصہ ہیں تاکہ اس غیر حد بندی والے سرحد کے پار سے کی جانے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ان برفانی مقامات پر فوجی دستے، جن کی اونچائی 8ہزار سے 16ہزارفٹ ہے، اس وقت نالیوں دار ٹین کی چادر سے بنے مورچوں میں اپنے راشن اور ہتھیاروں کے ساتھ رہتے ہیں، اور انہیں منفی درجہ حرارت کی بے قاعدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ ذرائع نے بتایا کہ بی ایس ایف اپنے تقریباً 115 اگلے دفاعی مقامات کو بڑے اسٹیل (لوہے اور کاربن کے مرکب) کمپارٹمنٹس میں تبدیل کرے گا جس کی مجموعی رقم تقریباً 35کروڑ روپے ہوگی۔یہ فیصلہ بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پنکج کمار سنگھ نے حال ہی میں کشمیر میںدورہ کرنے اور ان کی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد لیا ہے۔بی ایس ایف کے سربراہ نے بعد میں کشمیر فرنٹیئر کے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ وہ ان اگلے مورچوں کو اسٹیل میں تبدیل کرنے کے لیے ایک ایکشن پلان تیار کریں تاکہ کام تیزی سے شروع کیا جا سکے۔اسٹیل کو موجودہ انفراسٹرکچر کے متبادل کے طور پر سمجھا جاتا ہے ۔ایک سینئر افسر نے کہا، ’’ایک باتھ روم، بیت الخلا، کچن اور رہنے کا یونٹ سٹیل سے تیار کیا جائے گا اور ہر ایک کو تقریباً 115 ایف ڈی ایل پر نصب کیا جائے گا۔‘‘