گاندربل//سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کی طالبہ کے گزشتہ روز دم گھٹنے سے انتقال کرجانے کے خلاف یونیورسٹی میں زیرتعلیم طلباء نے ہوسٹل سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کیا۔اس موقعہ پراحتجاجی طلباء کے کہا کہ ہوسٹل نہ ہونے کی وجہ سے دورافتادہ علاقوں کے طلاب کو کافی مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی میں زیرتعلیم طلاب کیلئے فوری طور ہوسٹل سہولیات کابندوبست کیاجائے۔گزشتہ روز سینٹرل یونیورسٹی کشمیر کے قریب وانی پورہ میں جموں صوبہ کے ضلع پونچھ کی دو طالبات نے ریاض احمد وانی کے مکان میں کرائے کے کمرے میں رہائش اختیار کی جس دوران وہ نماز مغرب کے وقت کھانا پکانے کے بعد تھوڑی دیر آرام کرنے بیٹھ گئی۔مالک مکان ریاض احمد وانی نے ان کی خبر لینے کے لئے دروازہ کھٹکایا۔ دروازہ اندر سے بند ملا، اس موقع پر مالک مکان نے اپنے ساتھ اپنی بہن کولاکر ایک مرتبہ پھر سے دروازہ کھولنے کی کوشش کی جس دوران اندر سے ایک طالبہ نے دروازہ کھول دیا جس کے ساتھ ہی وہ غش کھاکر گرپڑی۔اس موقع پر مالک مکان نے دونوں طالبات کو فوری طور پر ضلع ہسپتال گاندربل منتقل کیا جہاں 23سالہ شبناز دختر ممتاز احمد خان ساکنہ نکم جڈی پونچھ کو ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیا جبکہ 24 سالہ زہین دختر غلام چوہدری کالس کو فوری طور پر ابتدائی علاج کرنے کے فوراً بعد میڈیکل انسٹیچوٹ صورہ منتقل کر دیا گیا.۔ادھر شعبہ سکول آف ایجوکیشن نے ایک تعزیتی اجلاس بلایا جس میں محترمہ شبناز کوثر کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا جو گزشتہ روز اچانک اپنے کرائے کے کمرے میں دم گھٹنے سے انتقال کرگئی۔ تعزیتی اجلاس میں شعبہ سکول آف ایجوکیشن کے تمام فیکلٹی ممبران، سکالرز اور طلباء نے شرکت کی۔ تعزیتی اجلاس کا اختتام مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔اس موقع پر اس بات کا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا گیا کہ مالک مکان کی بروقت کوشش سے دوسری طالبہ ذہین کونثر کی جان بچ گئی.پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے قانونی لوازمات مکمل کرکے شبناز کی نعش لواحقین کے سپرد کرکے مزید تحقیقات شروع کردی۔