سرینگر// سرینگر چلنے والی’ ایس آ رٹی سی‘ بس سروس کے غائب ہونے کے نتیجے میں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہیں،جبکہ محکمہ کے منیجنگ ڈائریکٹر یہ معاملہ کارپوریشن کے چیئرمین کے ساتھ اٹھا رہے ہیں۔ جموں اور سرینگر میں ’ایس آر ٹی سی ‘ نے ای بسوں کی خریداری کی تھی جو جہاں ماحول دوست تھی وہی مسافروں کو بھی سفر میں آسانی فراہم ہوتی تھی،تاہم اچانک یہ بسیں سرینگرمیں غائب ہوگئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس آر ٹی سی ساڑھے چار کروڑ روپے کی بسوں کی خریداری کا منصوبہ بنا رہا تھا،تاہم اچانک انتظامی سطح پر ان بسوں کو بند کرنے کے فیصلے نے اس منصوبے پر بھی پانی پھیر دیا تھا۔ آلودگی سے پاک الیکٹرک بس سروس کا افتتاح2019 میں سابق لیفٹیننٹ گورنر ستیہ پال نے کیاجس کا مقصدمسافروں کو جدید سفری سہولیات کے ساتھ ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کی جانب ایک قدم تھا۔ ای بسوں کا مقصد شہر میں آلودگی کی سطح کو کم کرنا ہے اور لوگ بڑے پیمانے پر اپنے روزمرہ کے سفر کے لیے ان کا استعمال کرتے تھے۔ محکمہ کے منیجنگ ڈائریکٹرانگریز سنگھ رانا نے کہا کہ محکمہ کی جانب سے وہ یہ معاملہ ایل جی کے مشیر آر آر بھٹناگرجو کہ آر ٹی سی کے چیئرمین بھی ہیں ، کے ساتھ اٹھا رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہیں ایک مکتوب روانہ کیا جائے گا۔مسافروں کا کہنا ہے کہ یہ سروس زیادہ سستی ہے اور اس کو بند کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس آر ٹی سی خدمات کو طلباء سول سیکرٹریٹ، ہائی کورٹ اور دیگر محکموں کے ملازمین کی سہولت کے لیے چلایا جارہا تھا تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے دفاتر پہنچ سکیں۔