۔ 100% قرض کی سہولت فراہم ، اب تک 166کروڑ خرچ ،4800درخواستیں موصول
سرینگر //’ممکن ‘ سکیم بے روزگار نوجوانوں کیلئے ممکن بن رہی ہے اور جموں کشمیر سرکار نے ابھی تک ایسے نوجوانوں میں 2074گاڑیاں تقسیم کی ہیں جو اس سکیم کے اہل تھے ۔حکومتی ذرائع نے بتایا کہ ’ممکن‘ ایک ذریعہ معاش پروگرام ہے جو بنیادی طور پر 18 سے 35 سال کی عمر کے نوجوانوں کیلئے ترتیب دیا گیا ہے جس میں ان لوگوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ۔چیف ایگزیکٹو آفیسر مشن یوتھ جموں وکشمیر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سکیم کا فائدہ نوجوانوں تک پہنچ رہا ہے اور ابھی تک لگ بھگ 2074 گاڑیاں نوجوانوں میں کاروبار کرنے کیلئے تقسیم کی گئی ہیں اور 166کروڑ روپے چھوٹی کمرشل گاڑیوں کو خریدنے پر خرچ کئے گئے ہیں، جس میں 33کروڑ حکومت اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے ادا کئے ہیں جبکہ باقی133کروڑ روپے MUDRA ۱سکیم کے تحت بنک نے ادا کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس چھوٹی کمرشل گاڑی کو حاصل کرنے والوں کو 20فیصد سبسڈی حکومت اور گاڑیاں بنانے والی کمپنی ادا کرے گی جبکہ 80 فیصد سرمایہ MUDRAسکیم کے تحت بنک ادا کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سکیم کے تحت4800درخواستیں موصول ہوئی ہیں ۔معلوم رہے کہ حال ہی میں ایس کے آئی سی سی میں جموں وکشمیر کے گورنر نے قریب 250نوجوانوں کو گاڑیوں کی چابیاں تھما دی تھیں ،جبکہ وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں وکشمیر کے اپنے دورے کے دوران 500گاڑیاں 24اکتوبر کو جموں میں نوجوانوں میں تقسیم کیں اور500گاڑیاں وادی کے نوجوانوں میں ایس کے آئی سی سی میں ایک تقریب کے دوران فراہم کی گئیں، جبکہ باقی اضلاع میں بھی یہ گاڑیاں انتظامیہ کی جانب سے نوجوانوں میں تقسیم کی جا رہی ہیں۔کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب دستاویزات کے مطابق اننت ناگ ضلع میں 16،بانڈی پورہ میں 4،بڈگام میں 32،بارہمولہ میں 26،گاندربل میں 26،کولگام میں 49،کپوارہ میں 21،پلوامہ میں 52،شوپیان میں 45گاڑیاں شامل ہیں اسی طرح جموں کے سانبہ ضلع میں 27،راجوری میں 46،کٹھوعہ میں 56،پونچھ میں 26،کشتواڑ میں 20،ریاسی میں 22، جموں میں 24،ڈوڈہ میں 25،ادھمپور میں 25اور رام بن میں 21گاڑیاں شامل ہیں جو کہ اہل نوجوانوں کو فراہم کی جا چکی ہیں ۔
درخوست کون دے سکتا ہے؟
ذرائع نے بتایا کہ درخواست گزار کا جموں و کشمیر کا رہائشی ہونا ضروری ہے۔ نوجوان کی عمر 18 سے 35 سال کے درمیان ہو ، درخواست دہندہ کا بے روزگار ہونا ضروری ہے (محکمہ روزگار کے ساتھ رجسٹرڈ یا سرپنچ/میونسپل کونسلر سے تصدیق شدہ)ہونا لازمی ہے ۔ڈرائیونگ لائسنس رکھتا ہو۔کوئی بھی شخص جس نے پہلے ہی حکومت کی کسی سیلف ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت مراعات یا سبسڈی حاصل کی ہو، وہ اس سکیم کے اہل نہیں ہو گا ۔
سکیم کیا ہے؟
اس گاڑی کو حاصل کرنے والوں کو 20فیصد سبسڈی حکومت اور گاڑیاں بنانے والی کمپنی ادا کرے گی، جبکہ 80فیصد سرمایہ MUDRAاسکیم کے تحت بنک ادا کرے گا ۔ حکومت جو 20فیصد سبسڈی دے گی اس سے 8لاکھ کی گاڑی کی قیمت 6لاکھ 40ہزار رہ جائے گی اور اس پر بنک کو صارف کی جانب سے سود بھی کم ادا کرنا ہو گا ۔ اگر یہ گاڑی نارمل کار لون کے تحت 5سال تک قرض ادا کرنے کی عوض میں خریدی جائے، تو اس پر 10لاکھ 33ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے، جبکہ اس سکیم کے تحت صرف 7لاکھ 20ہزار ادا کرنے ہوں گے۔ان گاڑیوں کی’ سی جی ٹی ایس ایم ای‘ گارنٹی فیس جو کہ70ہزار روپے ہوتی ہے وہ اس سکیم کے تحت جموں وکشمیر بنک معاف کرے گا، جبکہ گاڑی کی ایک سال کامنٹینس چارج کا خرچہ بھی بینک برداشت کرے گا ۔ ممکن اسکیم تمام بنکوں کو ایک ہی پلیٹ فارم کے ساتھ جوڑتا ہے جس سے لون کی سہولیت آسانی سے صارف کو فراہم ہوسکتی ہے ۔شروع میںیہ اسکیم اشوک لی لینڈ کمپنی کے اشتراک سے شروع کی گئی تھی، تاہم بعد میں ٹاٹا اور مہندارہ بھی اس کا حصہ بنیں ۔
منظوری کیسے ملتی ہے؟
ضلع سطح پر موصول ہونے والی درخواستوں کو ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ضلع سطح پر عمل درآمد کمیٹی (OLIC) کے سامنے رکھا جاتا ہے، تاکہ ضلع میں مخصوص سال کیلئے مختص کوٹے کے مطابق اہل درخواست دہندگان کی فہرست کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ضلع سے درخواست دہندگان کی یکجا فہرست کی وصولی کے بعد مشن یوتھ جے اینڈ کے معاملوں کو باضابطہ منظوری دیتا ہے۔
گورنر کی تقریر
حال ہی میں ایک تقریب کے دوران جموں کشمیر کے لیفٹینٹ گونر منوج سنہا نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں جموں و کشمیر کو 28,400 کروڑ روپے کی نئی صنعتی ترقی کی اسکیم ملی ہے۔ لیکن سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور جوش کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ اعداد و شمار 50,000 کروڑ روپے کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ اسی طرح، نئی صنعتی ترقی کی اسکیم کے تحت روزگار پیدا کرنے کا تخمینہ بھی دوگنا ہو جائے گا۔اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ اس سال 50 ہزار نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو کاروباری بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
نوجوان کیا کہتے ہیں؟
اس سکیم کا فائدہ اٹھانے والے کئی ایک نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ بڑھتی مہنگائی ، مایوسی اور افسردگی کے زبردست احساس میں مبتلا ہو گئے تھے لیکن اس سکیم کے تحت گاڑیاں خرید کر وہ اپنا روزگار آسانی سے کما رہے ہیں اور ان کی مایوسی میں بھی کسی حد تک کمی آئی ہے تاہم کچھ ایک نوجوان کہتے ہیں کہ مسافر گاڑیوں کو بھی ممکن سکیم کے دائرے میں لایا جائے۔