اللہ اور رسول اللہؐ اور آخرت پر ایمان رکھنے والا شخص مومن ہے اور مومن کسی کی امانت میں خیانت نہیں کر سکتا کیونکہ امانت داری پر عمل بھی ایمان کا حصہ ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’جس کے اندر امانت نہیں اس کے اندر ایمان نہیں۔(مسند احمد)۔ گویا کہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ آدمی امین ہو، امانت میں خیانت نہ کرتا ہو۔ عربی زبان میں ’’امانت ‘‘کے معنیٰ یہ ہیں کہ کسی شخص پر کسی معاملے میں بھروسہ کرنا۔ امانت میں خیانت کرنا منافق کی علامت بتائی گئی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’منافق کی تین علامتیں ہیں:جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اسکے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے۔(مسلم)۔ اس حدیثِ پاک سے یہ واضح ہوگیا کہ ہر وہ چیز جو دوسرے کو اس طرح سپرد کی گئی کہ سپرد کرنے والے نے اس پر بھروسہ کیا ہو، یہ اس کا حق ادا کرے گا۔ یہ ہے امانت کی حقیقت۔ لہٰذا کوئی شخص کوئی کام یا کوئی چیز یا کوئی مال جو دوسرے کے سپرد کرے اور سپرد کرنے والا اس پر بھروسہ سے سپرد کرے کہ یہ شخص اس سلسلے میں اپنے فریضے کو صحیح طور پر بجالائے گا اور اس میں کوتاہی نہیں کرے گا ،یہ امانت ہے، اور امانت کی اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو بے شمار چیزیں اس میں شامل ہوجاتی ہیں۔
امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے اور بہت ساری چیزیں امانت میں داخل ہیں، جن کے بارے میں اکثر وبیشتر ہمارے ذہنوں میں خیال بھی نہیں آتا کہ یہ بھی امانت ہے اور ان معاملات میں ’امانت‘جیسا سلوک کرنا چاہئے۔ امانت میں دیئے ہوئے مال کی حفاظت کرنا بلکہ اسی حالت میں واپس کرنا ہر کسی کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنا، جس کا حق اس پر ہے اداکرنا، حق تلفی نہ کرنا، دغانہ دینا، دھوکا نہ دینا، غبن نہ کرنا، بددیانتی نہ کرنا،کسی کے مال کو دبالینا جو کسی نے بطور امانت رکھاہو، کسی کام کو پورانہ کرنا یعنی ڈیوٹی پوری نہ کرنا، کسی کے خفیہ راز جو تم کو معلوم ہیں ،دوسرے کو نہ بتانا وغیرہ وغیرہ یہ سب امانت ہی میں آتے ہیں۔ خیانت جرم ہے: امانت میں خیانت کرنا انتہائی گھناؤنا گناہ ہے اور ایساگناہ ہے جس کے دائرے میں عبادات سے لے کر معاملاتِ زندگی کے تمام شعبے داخل ہیں۔ سچا مومن وہی ہے جو کسی طرح کسی بھی شعبہ میں اپنی امانت داری پر آنچ نہ آنے دے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو اور اپنی امانتوں میں(دانستہ) خیانت مت کرو۔‘‘(الانفال آیت 27)۔
ہر طرح کی خیانت و بددیانتی سخت ممنوع ہے ،خواہ اس کا تعلق قومی و ملکی یا گھریلو معاملات سے ہوں یا ذاتی انفرادی معاملات سے ہو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ ایک حدیث پاک میں چار نشانیاں بیان فرمائی ہیں اور اشارہ اس بات کی طرف فرما دیا کہ یہ کام مومن کے نہیں اور جس میں یہ چار باتیں پائی جائیں وہ اصل معنیٰ میں مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ’’ چار عادتیں جس کسی میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس کسی میں ان چاروں میں سے ایک بھی عادت ہو تو وہ بھی نفاق ہی ہے جب تک اسے چھوڑ نہ دے (وہ یہ ہیں): جب امین بنایا جائے تو (امانت میں) خیانت کرے اور بات کرتے وقت جھوٹ بولے اور جب کسی سے عہد کرے تو اسے پورا نہ کرے اور جب کسی سے لڑے تو گالیوں پر اتر آئے۔(بخاری)
امانت داری کے مفہوم کے دائرے میں عبادات سے لے کر معاملاتِ زندگی کے تمام شعبے داخل ہوجاتے ہیں۔ سچا مومن وہی ہے جو کسی بھی شعبہ میں اپنی امانت داری پر آنچ نہ آنے دے۔ قرآن مجید پوری وضاحت سے امانت میں خیانت کرنے والوں کی منافقت کا اعلان فرما رہا ہے۔ اللہ ہم تمام مسلمانوں کو امانتداری کو سمجھنے اوراس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
طالب علم یونیورسٹی آف کشمیر