نظم
’’گاؤں کی مٹی بلاتی ہے تمہیں‘‘
گاؤں سب ویران ہوتے جا رہے ہیں آج کل
رُخ سبھی کا شہر کی جانب ہوا جاتا ہے اب
ہے زمیں کی گود خالی، آنگنوں میں خامشی
پیڑ کے سائے بھی مرجھانے لگے ہیں دن بدن
صبح جن کھیتوں میں ہل چلنے کی آتی تھی صدا
اب وہاں خاموشیاں چھائی ہوئی ہیں بے طرح
باپ کے ہاتھوں میں محنت کی تھیں جو چنگاریاں
وہ مشینوں کے تلے دبتی ہوئی لگتی ہے اب
ماں کی لوری سن کے میٹھی نیند جو آتی تھی، اب
وہ فلیٹوں کی فضا میں سر پٹختی ہے کہیں
بچپنوں کی دوڑ جن گلیوں میں زندہ تھی کبھی
وہ گلی موبائلوں میں جا کے سمٹی ہے کہیں
اپنی مٹی، اپنی پہچاں کو بھلا کر لوگ سب
روٹی روزی کے تعاقب میں نکلتے ہیں صبح
ریل کے ڈبوں میں بھر کر خواب جاتے ہیں کہیں
پیچھے رہ جاتی ہے مٹی سوچتی اس گاؤں کی
گھر جو سایہ تھے، وہ اب نقشوں میں ڈھلتے ہیں یہاں
دل کے کمروں میں کرایہ دار رہتا ہے کوئی
کھڑکیاں جن سے ہوا رشتے کی آتی تھی کبھی
شہر میں بکتی ہے اب وہ کوڑیوں کے بھاؤ میں
شہر دیتا ہے سہولت، چھینتا ہے چین بھی
وقت ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا ہے ریت سا
لوگ تو زندہ ہیں لیکن چلتی پھرتی لاش سے
مسکراہٹ سب کے چہروں پر ہے مصنوعی یہاں
ڈھونڈھ کے دیکھا کہیں ملتا نہیں سچا خلوص
گاؤں پیچھے یاد بن کر رہ گیا ہے راہ میں
شہر کہتا ہے کہ سانس گن کے لینا وقت پر
ہر قدم اب ناپ کے رکھنا سڑک پر ٹیکس ہے
شہر مانگے ہے ہنر، ڈگری، شناختی کارڈ بھی
زندگی کاڑوں میں ہوکر رہ گئی ہے گُم یہاں
شہر میں سب خواب سجتے ہیں مگر ملتے نہیں
ہر ضرورت کو روپوں سے تولنا پڑتا ہے یاں
شہر کہتا ہے کہ خود کو تم کبھی تھکنے نہ دو
ورنہ ہر انسان پرزہ سا بدلتا ہے جاتا ہے یاں
شہر میں رشتے کیلنڈر سے لٹکتے دیکھئے
وقت نہ ہو تو تعلق کٹ کے رہ جاتے ہیں سب
شہر کہتا ہے رہو خاموش چلاؤ ہاتھ کو
شہر میں قیمت ہے ہر شے کی، ہوا کی آب کی
نفرتیں ہیں مفت، کھاکر ٹھکریں آئے عقل
شہر کے اس شور میں سنتا نہیں کوئی صدا
اپنی ہی آواز کو کانوں میں چُبھاتی فضا
شہر آکر خواب ہوجاتے ہیں الماری میں بند
جیب ہو خالی تو شرما جا تا ہے احساس بھی
اس گھڑی بس یاد آتی ہے ہمیں پھر گاؤں کی
جس زمیں ملتی نہیں میت کی خاطر شہر میں
گاؤں والو چھوڑ کر مت جاؤ اس تہذیب کو
جس کی خاطر آپ کے آباء نے سپنا خوں دیا
لوٹ آؤ گاؤں کی مٹی بلاتی ہے تمہیں
لوٹ آؤ گاؤں کی مٹی بلاتی ہے تمہیں
پرویز مانوس
آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر،کشمیر
موبائل نمبر9622937142
فسانۂ قلب
سفینہ بحرِ ہستی پہ نہ مطلق بار ہوتا ہے
گہہ ساحل پہ یہ ڈوبے گہہ پھر پار ہوتا ہے
عبارت اپنے تالع کی نجومی پڑھ نہیں پایا
نگوں سر گھر پہ اپنے ہی کبھی وہ خوار ہوتا ہے
بڑے عاقل ہیں عالم میں سنو پندونصائح انکی
بیاں اِن کا حقیقت میں بڑا دمدار ہوتا ہے
بشر فطرت سے اپنی خود کبھی آگاہ نہیں ہوتا
یہ کھاکر ٹھوکریں اِک دن خود ہی بیدار ہوتا ہے
روایت سلف کی اکثر نسل در نسل چلتی ہے
کریں تقلید گراِن کی یہی کردار ہوتا ہے
ہوس کے اینٹ گارے سے نہ ہو تعمیر بہتر ہے
بلآخر قصرِ شاہی بھی کبھی مسمار ہوتا ہے
وقت کے زاویئے ہر دم کبھی یکساں نہیں رہتے
اچانک پیکرِ خاکی کبھی بیمار ہوتا ہے
فسانہ کِشت جنت کا نہ چھیڑو سامنے میرے
جہاں کشمیر کو جنت زمیں پہ یار کہتا ہے
کسی کے ہاتھ میں آخر نظامِ دہر ہے عُشاقؔ
مزاجِ مہ بنے تسکیں مہرؔانگار ہوتا ہے
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
قطعات
آپ کو ناگوار کیوں گذرا
آپ کا اس میں نام تھوڑی ہے
کچھ پہ انساں بھی بھونکتے ہیں چونچؔ
صرف کتوں کا کام تھوڑی ہے
سچ بولتا ہوں اس لئے کہتا ہوں کھول کر
مجھ کو نہیں ہے فکر زمانہ کہے گا کیا
اِترا رہے ہو اتنا نئے سال پہ ،مگر
یہ سال بھی اک سال سے زیادہ رہے گا کیا
خدا کے واسطے افواہوں پر دھیان نہ دیں
یہ آپ سب کی دعا ہے ابھی میں زندہ ہوں
کہا یہ نیتا نے پبلک سے چونچؔ محفل میں
ضمیر میرا مرا ہے، ابھی میں زندہ ہوں
چونچؔ گیاوی
نیوزسیکشن،آکاشوانی، پٹنہ(بہار)
موبائل نمبر؛9334754862
ملِنسار
جو اپنے تھے پرائے ہوگئے
پل میں سب بیگانے ہوگئے
دیکھے تھے شاداب سبزہ زار
اب کے نظارے ویرانے ہوگئے
نصیحت تھی کہ رہو ملِنسار
لوگوں میں شمار دیوانے ہوگئے
اب عالم کہ دوُر دوُر تک
لوگ آپس میں بہانے ہوگئے
چل دور ! ہے تنہاؔ سفر تیرا
لوگ رنجشوں کے پیمانے ہوگئے
قاضی عبدالرشید تنہاؔ
چھانہ پورہ، سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛7006194749