یواین آئی
غزہ// اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں تباہ کن بمباری اور اس کے نتیجے میں 100 سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کے بعد ‘جنگ بندی برقرار رہنے’ کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔قطری نشریاتی ادارے ‘الجزیرہ’ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے رہائشی فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی سے متعلق امید کھو رہے ہیں۔ بدھ کو اسرائیل کی جانب سے اب تک کی سب سے ہلاکت خیز خلاف ورزی میں 100 سے زائد افراد جان بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی اب بھی ‘مضبوط’ ہے، جب کہ ثالث ملک قطر نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثالث اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی ‘دوبارہ شروعات’ کر رہا ہے، قبل ازیں اس نے غزہ پر بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے، جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہ حماس کی جانب سے جنوبی غزہ میں ایک اسرائیلی فوجی کو ہلاک کرنے کے بدلے میں کیے گئے تھے، تاہم حماس نے اس الزام کی تردید کی ہے۔الجزیرہ کے نامہ نگار ہانی محمود نے غزہ شہر سے رپورٹ کیا ہے کہ غزہ میں ہزاروں لاشیں اب بھی ملبے کے نیچے دفن ہیں۔فلسطینی خاندان مایوسی کے ساتھ اپنے پیاروں کی باقیات کی تلاش کر رہے ہیں، 2 سالہ جنگ کے بعد، ہزاروں لاشیں ملبے کے ڈھیر تلے موجود ہیں۔ایمرجنسی ٹیموں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اتنی بھاری مشینری یا آلات نہیں ہیں کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں لاشوں کو نکال سکیں یا شناخت کرسکیں۔قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے لیکچرار زیدون الکنانی نے ‘الجزیرہ’ کو بتایا کہ امریکی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی ختم ہونے کے ‘انتہائی قریب’ ہے، کیوں کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ امریکہ کب تسلیم کرے گا کہ اسے اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ اسرائیل کے ‘استثنٰی کے احساس’ کا خاتمہ کیا جا سکے۔الکنانی کے مطابق، اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو امید کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ اپنی توجہ ایشیا میں دیگر سرمایہ کاری پر مرکوز کر لیں گے، اور غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے سے دستبردار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل جتنا ممکن ہو سکے وقت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے، تاکہ اپنی کارروائیوں، زمینوں کے انضمام اور نوآبادیاتی منصوبے کو معمول پر لاسکے۔
غزہ میں ایک اور صحافی جاں بحق
یواین آئی
غزہ// غزہ کے طبّی ذرائع کے مطابق وسطی غزہ کے النصیرات پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے میں فلسطین اخبار کے رپورٹر محمد المنیراوی جان بحق ہوگئے ہیں۔غزہ کے حکومتی میڈیا دفتر نے کہا ہے کہ المنیراوی کی شہادت کے بعد اکتوبر 2023 سے اب تک شہید ہونے والے فلسطینی صحافیوں کی تعداد 256 ہوگئی ہے۔دفتر نے اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینی صحافیوں کو جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے نشانہ بنائے جانے اور قتل کئے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے بین الاقوامی برادری اور ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ، اسرائیلی قبضے کی مذمت کریں، اسے روکیں، اسرائیل کے جنگی و انسانیت سوز جرائم پر مقدمہ چلائیں اور جنگی مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے جو بھی ممکن ہے کریں۔