عظمیٰ ویب ڈیسک
کٹھوعہ// جموں صوبہ میں سنیچر کی شام ہوئی شدید بارش کے بعد کئی مقامات پر سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، جس دوران کٹھوعہ ضلع کے بلاور علاقے میں سنیچر کی شام نالے میں ڈوبنے سے 2 طالبات کی موت واقع ہو گئی جبکہ 2 دیگر کو بچا لیا گیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ کٹھوعہ کے بلاور علاقے میں شدید بارشوں کے بعد ایک نالے میں چھٹی جماعت کی 4 طالبات ڈوب گئیں، جس کے بعد بچاﺅ کاروائی شروع کی گئی۔
اُنہوں نے بتایا کہ یہ حادثہ بلاور کے مچیڈی میں نالہ میں اس وقت پیش آیا، جب شدید بارش کے بعد لڑکیاں سکول سے واپس گھر جا رہی تھیں۔ واقع کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگوں اور پولیس کی جانب سے بچاﺅ کاروائی شروع کی گئی۔
ایس ایچ او بلاور جتیندر سنگھ نے بتایا کہ فوری طور پر ایک ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس دوران مونیکا دیوی اور رادھا دیوی کی لاشوں کو برآمد کیا گیا، دونوں چھٹی جماعت کی طالبات ہیں، تاہم اس دوران دو دیگر طالبات کو بچا لیا گیا۔
سنگھ نے بتایا کہ بچائی گئی زخمی لڑکیوں میں سے ایک، چھٹی جماعت کی طالبہ ارچنا دیوی کو علاج کے لیے بلاور کے سب ضلع ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ایک ٹویٹ میں مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔
اُنہوں نے کہا،”افسوسناک واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد ابھی ابھی ڈی سی کٹھوعہ، راکیش منہاس سے بات ہوئی ہے … میرا دفتر انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن مدد کے لیے رابطہ کر رہا ہے۔ والدین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خراب موسم کے دوران گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں”۔
اسی دوران جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ایک ٹویٹ میں کہا، “کٹھوعہ میں سیلاب کے ایک المناک حادثے میں قیمتی جانوں کا ضیاع دل دہلا دینے والا ہے۔ میرے جذبات اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں۔ ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے”۔
ادھر، اسی طرح ایک اور واقعہ میں، ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ادھم پور ضلع میں سمرولی کے قریب ایک ندی میں سیلاب کے بعد دو لوگ پھنس گئے تھے لیکن پولیس، فوج، سٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس کی مشترکہ ٹیم نے انہیں بچا لیا۔ وہیں، سرحدی ضلع پونچھ میں موسلادھار بارش کی وجہ سے مینڈھر بازار میں پانی جمع ہوگیا جس سے لوگوں بالخصوص دکانداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔پانی کئی دکانوں میں داخل ہونے سے ٹریفک کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی۔