اشرف چراغ
کپوارہ//محکمہ تعلیم کی جانب سے داخلہ مہم کے تحت زیادہ سے زیادہ بچو ں کا اندارج یقینی بنانے کی کوششوں کے بیچ ا س بات کا پریشان کن انکشاف سامنے آیا کہ شمالی ضلع کپوارہ کے 1376سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم 1لاکھ23ہزار393 طلاب کو پڑھانے کے لئے صرف 3722مدرسین دسیتاب ہیں جبکہ اساتذہ کی 1400اسامیا ں خالی پڑی ہیں اور اس بات کا انکشاف حالیہ اسمبلی اجلاس کے دوران بھی کیا گیا ۔امسال نئی تعلیمی کلینڈر میں گلشن اطفال (پری پرائمری)میں سینکڑوں بچوں کا داخلہ کیا گیا جو محکمہ تعلیم کی ایک بڑی کوشش ہے کہ محکمہ زیادہ سے زیادہ بچو ں کو سرکاری سکولو ں میں دا خلہ دلانے کے لئے سنجیدہ ہے تاہم کپوارہ ضلع میں تدریسی عملے کی کمی کی وجہ سے زیر تعلیم طلاب کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔3سال قبل کپوارہ ضلع میں سرکاری سکولو ں کی کل تعداد 1844تھی لیکن ان میں 468سکولو ں کو دوسرے نزدیکی سکولو ں کے ساتھ ضم کیا گیا اور اب ان سکولو ں کی کل تعداد 1376رہ گئی ہے جن میں 53ہائر سکینڈری سکول ،102ہائی سکول ،655مڈل سکول اور 566پرائمری سکول شامل ہیں۔ضلع میں مدرسین کی کل منظور شدہ اسامیو ں کی تعداد 5136ہے جن میں 3722کام کر رہے ہیں 1414اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ان میں لیکچر ارو ں کی کل منظور شدہ اسامیاں675ہے لیکن ان میں 252کام کر رہے ہیں اور 423اسامیا ں سالہا سال سے خالی پڑی ہیں۔ہیڈ ماسٹر س کی منظور شدہ اسامیا ں 95ہے لیکن 77کام کر رہے ہیں اور 18خالی ہیں جن میں 5اس سال سبکدوش ہوئے اور اب 23پو سٹ خالی پڑے ہیں۔ماسٹرس کی کل منظور شدہ اسامیا ں 866ہے جن میں 514کام کر رہے ہیں اور 352اسامیا ں خالی پڑی ہیں۔ٹیچرس کی کل منظور شدہ اسامیا ں 3500ہے جن میں 2879کام کر رہے ہیں گلشن اطفال (پری پرائمری(میں 18017طلاب زیر تعلیم ہیں جبکہ اول سے پنجم تک 47187بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ششم سے دسویں تک زیر تعلیم بچو ں کی کل تعداد 25894ہے اور اس طرح گیارویں اور بارویں جماعت میں زیر تعلیم طلاب کی تعداد 32284ہے۔۔ضلع کے لوگو ںکا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں مختلف تعلمی ادارے بڑے پیمانے پر عملی کی کمی سے دو چار ہیں جس کی وجہ سے شعبہ تعلیم پورے ضلع میں بری طرح متا ثر ہے۔ایک اور انکشاف میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی ایسے ہائی سکول اور ہائر سیکنڈری سکول ہیں جن کا درجہ تو بڑھایا گیا لیکن ابھی تک انتظامی تخلیق کے بغیر ہیں اور یہ ادارے بغیر کسی منظور شدہ عملہ کے بغیر کام چلا رہے ہیں جس کے نتیجے میں ان کو چلانے کے لئے محکمہ تعلیم دوسرے سکولو ں سے اساتذہ کو تعینات کر کے کام چلاتے ہیں۔بحران سے نمٹنے کے لئے محکمہ تعلیم نے گزشتہ ماہ سے ہی پرائمری اور مڈل اسکولو ں سے لیکر مین سنٹر کلا سز میں اساتذہ کو تعینات کیا گیا اور والدین نے دونو ں میں تشویش کا اظہار کیا۔تدریسی عملے کی کمی نے ضلع میں تعلیمی ڈھانچے کو کا فی کمزور کر دیا ہے اور کئی سال سے اس مسئلہ کو حل نہیں کیا گیا۔ضلع میں 52ہائر سکینڈری سکول قائم ہیں لیکن ان میں 13ہائر سکینڈری سکول آج بھی بغیر پر نسپل کام کر ہی ہیں جوسے تعلیمی منصبوبہ بندی ،نظم و ضبط اور مجموعی نظم و نسق متا ثر ہو رہا ہے۔