مجھے بھی کچھ کہنا ہے
۲۰۱۹ء کے لوک سبھا انتخابات ۱۱؍ اپریل سے ووٹنگ کی شروعات ہو جائے گی ۔ بھاجپا قوم سے پھر ایک بار منڈیٹ مانگ رہی ہے ، اس لئے عوام کا فرض بنتا ہے کہ مودی حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کا جائزہ لے کر فیصلہ لیں کہ انہیں کیا کر نا چاہیے ۔ ضروری ہے کہ ہندوستانی عوام مودی سرکار کے وعدوں سمیت’’ اچھے دن‘‘ لانے کے پر از سر نو غور کریں اور جائزہ لیں کہ جن بنیادوں پر ہم سے ہمارا ووٹ مانگا گیا تھا اور ہم نے بھروسہ کرکے اپنا قیمتی ووٹ سے دیا تھا،کیا ان کی تکمیل اس مدت میں ہوئی؟کیا بر سر اقتدار پارٹی نے اپنے وعدوں کا ۲۰؍ فیصد بھی وفا کیا یا نہیں؟
یاد کیجیے ۲۰۱۴ء کو جب چہارجانب ـــــــ’’ہر ہر مودی گھر گھر مودیــــــــــــــــ ‘‘ کا نعرہ بلند ہورہاتھا ،ہندوستانی عوام ایک بہتر تبدیلی کے خواہاں تھے کیونکہ وہ مرکز میں ایک’’ بدعنوان پارٹی ‘‘سے اُکتا چکے تھے اور اس پارٹی کا بہتر متبادل کے طور بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے آپ کو پیش کررہی تھی۔بی جے پی اور مودی کی تقریروں کے مطابق ہندوستان ان کی قیادت میں پوری دنیا میں ایک مثالی ملک بننے والا تھا ۔ ہر طرف ایک جوش اور ولولہ کا ماحول تھا ،بچوں سے بوڑھوں تک کی زبان پر’’ مودی مودی‘‘ تھا ۔ـ اس فضا میںـ’’ــــــــکانگریس مکت بھارت‘‘ کا نعرہ نہ صرف مقبول ہورہا تھا بلکہ سچ ثابت ہونے لگا تھا کیونکہ ۲۰۱۴ء لوک سبھا انتخابات سے قبل مدھیہ پردیش ،راجستھان اور چھتیس گڑھ کے ودھان سبھا انتخاب میں بی جے پی کے اس’’ کانگریس مکت بھارت ‘‘کے نعرے کے سبب بی جے پی کو مکمل اکثریت مل گئی تھی۔لہٰذ ا عوام نے ان کو سنا ، ان کے وعدوں پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرلیا اور اُمید کی کہ شاید ہندوستان بھی اب امریکہ ،چین اور جاپان جیسے ممالک کے ساتھ ترقی کی صفوں میں کھڑا ہوجائے گا ۔ ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ’’ اچھے دن آنے والے ہیں ‘‘اور ملک کے نوجوانوں کو اس بات کا پکا یقین دلایا گیا تھا کہ آپ کو ہرسال دو کروڑ نوکریاں دی جائیں گی،غریبوں اور کسانوں کے حق کے لئے اور ان کے مفاد کی باتیں کی گئیں ۔ہندوستانی فوجی کے’’ ایک سر کے بدلے میں دشمن کے سو سر‘‘ لانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان وعدوں پر یقین کر کے عوام نے اپنا قیمتی ووٹ بی جے پی کو دے ڈالااور اسے مکمل اکثریت کے ساتھ ملک کی باگ ڈور سونپ دی،لیکن دیکھتے ہی دیکھتے حکومت کے پانچ سال بھی مکمل ہوئے تو آج جب ملک کے نوجوان خود کے حالات دیکھتے ہیں تو مسائل کے مہاساگر میں ڈبکیاں مارتے ہوئے پاتے ہیں ۔ وہ ہر سال دو کروڑ نوکریوں کی آس میں اپنا نام دیکھنا چاہتے تھے مگر انہیں کیا دیکھنے کو ملا ؟انہیں پردھان منتری سے پکوڑے تلنے کی صلاح دیتے ہیں،اور چھپن انچ چھاتی پھلا کر اسے روزگار کہتے ہیں ،انہیں یہ سننے کو ملی ’’میں بھی چوکیدار‘‘ کی جملہ بازی۔
ذرا ایک منٹ ذرا غور کریں کہ ان چیزوں سے عوام کو مودی سرکار سے کیا فائدہ حاصل ہوا ؟کیا اُن کی معاشی حالت صحیح ہوئی؟کیا مہنگائی کی شرح میں کمی واقع ہوئی ؟کیا بے روزگاروں کو واقعی روزگار ملا؟ نہیں ! بالکل نہیں ۔NSSO ڈیٹا کے مطابق ہندوستان میں پچھلے ۴۵ سال میں بے روزگاری کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ اسی سرکار کے زیر سایہ ہوا جب کہ اکابرین حکومت اپنی تقریروں میں روزگار دینے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ہمیں نہیں معلوم ان کی نظر روزگار کس چیز کو کہتے ہیں۔
اب ذرا ان وعدوں کا جائزہ لیتے ہیں جن کی بنیاد پر یہ حکومت اقتدار میں آئی تھی تاکہ ملک کی اصل صورت حال کا پتہ لگے۔
بدعنوانی:
جوحکومت بدعنوانی اور کرپشن کا خاتمہ کرنے کے وعدے دے کراقتدار میں آئی تھی آج وہی رافیل طیاروں کے گھوٹالے میں آئیں بائیں شائیں کر رہی ہے۔اگر رافیل سودے بازی کی بات کی جائے تو یہی بات ظاہر ہے کہ جس جنگی جہاز کی قیمت ۲۰۱۴ ء سے قبل ۵۲۶؍ کروڑ روپے تھی، وہی جہاز ۲۰۱۶ء میں حکومت تقریباــ ۱۶۰۰؍ کروڑ روپے میں حکومت خرید رہی ہے ۔
(بقیہ بدھ کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)
فون نمبر 9870843522