۔764یاتریوں نے پوتر گپھا کے درشن کئے
سری نگر/ شری امر ناتھ جی یاترا کے54 ویں روز764یاتریوں نے پوتر گپھاکے درشن کئے۔ یاترا شروع ہونے سے اب تک2,83,140 یاتری اب تک پوتر گپھا میں شو لنگم کے درشن کرچکے ہیں۔
طالب حسین کی ضمانتی عرضی پربحث
سنوائی کی اگلی تاریخ 31اگست طے
طارق ابرار
طارق ابرار
جموں//کٹھوعہ واقعہ کے متاثرین کوانصاف دلانے کی جدوجہد پیش پیش رہنے والے اورکیس کے اہم گواہ سماجی کارکن طالب حسین کی ضمانتی عرضی کی سنوائی سانبہ سیشن کورٹ میں ہوئی۔اس دورن ملزم کی طرف سے ایڈوکیٹ انورچوہدری اورایڈوکیٹ اکرم چوہدری پیش ہوئے ۔اس دوران چندروزپہلے پولیس کی طرف سے ملزم کے خلاف الزامات کاچالان سانبہ سیشن کورٹ میں پیش کیاتھا جس کے بعدسنوائی کی تاریخ 20اگست کوطے پائی تھی۔ سنوائی کے دوران ایڈوکیٹ انورچوہدری اور ایڈوکیٹ محمداکرم نے چالان میں طالب حسین پرلگائے گئے الزامات پربحث کی اوراس دوران متاثرہ لڑکی کی طرف سے اے کے ساہنی نے درخواست دی کہ اسے پرائیویٹ پراسیکیوٹرمیں پیش ہونے کی اجازت دی جائے جس کے بعدمعززعدالت نے اسے پرائیویٹ پراسیکوٹرکے طورپرانہیں تحریری طورپر اعتراضات دائرکرنے کی اجازت دے دی۔اسی دوران عدالت ہذانے کیس کی سنوائی کیلئے اگلی تاریخ 31 اگست 2018 طے کی ۔بعدازاں میڈیاسے بات کرتے ہوئے ایڈوکیٹ انورچوہدری اورایڈوکیٹ محمداکرم نے کہاکہ طالب حسین پرلگائے گئے الزامات بے بنیادہیں کیونکہ گواہوں کے بیانات میں واضح تضادہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ ایک کمزورکیس ہے اورتوقع ہے کہ موکل کی ضمانت ہوجائے گی۔انہوں نے کہاکہ کورٹ نے اگلی تاریخ 31اگست مقررکی ہے۔
گورنر، مشیر،سیکریٹری اطلاعات کااظہارافسوس
جموں// گورنر این این وہرہ ، مشیر کے وجے کمار نے ریڈیو کشمیر کے سابق ڈائریکٹر غلام حسن ضیا ٔکے انتقال پر دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے وہ کل شام انتقال کر گئے ۔ اپنے تعزیتی پیغام میں گورنر اور ان کے مشیر نے سوگوار کنبے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے روح کے سکون کیلئے دعا کی ۔ دریں اثنا سیکرٹری اطلاعات ، کھیل کود و امور نوجوان سرمد حفیظ نے ریڈیو کشمیر سرینگر کے سابق ڈائریکٹر غلام حسن ضیا ء کئے انتقال پر رنج و الم کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے مرحوم کی ایصالِ ثواب کیلئے دعا کی ۔ انہوں نے بحیثیت براڈ کاسٹر اور ایک بہتر منتظم کے مرحوم کے رول کو یاد کیا ۔ اُنہوں نے سوگوار کنبے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ۔
سابقہ ڈائریکٹر ریڈیو کشمیرسرینگر چوہدری غلام حسین ضیا کاانتقال
پرنم آنکھوں سے سپردخاک ،ادبی وسماجی تنظیموں کااظہارتعزیت
طارق ابرار
طارق ابرار
جموں//جموں کی معروف سماجی شخصیت اور سابقہ ڈائریکٹر ریڈیو کشمیرسرینگر چوہدری غلام حسین ضیا کااتوارشام کواچانک دِل کادورہ پڑنے کی وجہ سے مہجور نگر سرینگر میں انتقال ہو گیاتھا۔موصوف کواتواراور سوموارکی درمیانی رات سرینگرکے باغات برزلاقبرستان میں سپردخاک کیاگیا۔مرحوم کی نمازجنازہ میں کثیرتعدادمیں لوگوں نے حصہ لیا۔غلام حسین ستربرس کی عمرمیں انتقال کرگئے۔موصوف ریاست جموں کشمیر کی ان معروف شخصیات میں گنے جاتے تھے جنہوں نے گوجری زبان وادب کی خدمت کے ساتھ متعددسماجی کام انجام دینے کے ساتھ مرکزی حکومت کے ملازم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں ۔انہوں نے ستر کی دہائی میں ریڈیو کشمیر جموں میں بحیثیت پروڈیوسر اپنی ملازمت کا آغاز کیا اور گوجری زبان کو جدید موسیقی سے ہمکنار کرنے کیلئے خدمات انجام دیں اورلگ بھگ دس ہزار گوجری گانے ضیا صاحب کی نگرانی میں ریکارڈ کراویے گئے۔گوجری کے مشہور شاعر اسرائیل اثر سے لے کر خدا بخش زار اور نذیر احمد نذیر سے لے کر اقبال عظیم چوہدری تک کے گانوں کو ریڈیو سے جدید موسیقی میں ریکارڈ کروانے کا سہرا غلام حسین ضیا کو ہی جاتا ہے.۔ انہوں نے گوجری لوک فنکاروں کو سینکڑوں میل کا سفر چل کر ریکارڈ کیا۔مثلاً محمد حسین مراثی جیسے صدا بہار لوک گلوکاروں کی آواز آج بھی ریڈیائی لہروں سے سامعین کو محظوظ کرتی ہے۔ضیا بیک وقت ادیب، شاعر محقق ہونے کے ساتھ ساتھ انسان دوست شخصیت کے حامل تھے۔موصوف نوجوانوں کیلئے ایک تحریک کا کام کرتے تھے… وہ 2008 میں اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوئے اور بدستور گوجربکروال قوم اورگوجری زبان کی خدمت میں مشغول رہے۔ مرحوم بلاک بھلوال کے رائے پور ۔کھیری علاقہ کے رہنے والے تھے ۔ مرحوم کی رسم چہارم اور فاتحہ خوانی 24 اگست بروز جمعہ کو باغات برزلا میںانجام دی جائے گی۔چودھری غلام حسین ضیاء کی وفات پرریڈیوکشمیرجموں کے نیوزریڈروں نے دکھ کااظہارکیااورساتھ ہی سوگوارکنبہ کے ساتھ ہمدردی بھی ظاہرکی ۔گوجری فلاحی سنگت نامی تنظیم نے بھی غلام حسین ضیاء کی موت ور گہرے دکھ اور صدمے کااظہار کرتے ہوئے سوارگوارکنبہ کے ساتھہمدردی ظاہرکی اور مرحوم کے ایصال وثواب کیلئے دعاکی۔پسماندگان میں ضیا صاحب اپنی تین بیٹیوں کو چھوڑ گئے ہیں۔ضیا صاحب کے اچانک اس دنیافانی سے کوچ کرجانے سے ادبی،سماجی ،سیاسی وصحافتی حلقوں میں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔بڑے پیمانے پرتعزیتی پیغامات موصول ہورہے ہیں۔ان کے عزیزواقارب سماجی رابطہ ویب سائٹوں کے ذریعے بھی اپنے غم وصدمے کااظہارکررہے ہیں اورلواحقین کیساتھ ہمدردی اور مرحوم کی مغفرت وجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاکرنے کیلئے دعاکررہے ہیں۔
دفعہ 35 کامعاملہ
بھیم سنگھ کی سماجی کارکنوں اورمفکرکو بحث کی دعوت
جموں//جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی جموں وکشمیر کے ایکزیکیوٹیو چیرمین پروفیسر بھیم سنگھ نے کچھ اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں اور دیگر کے آرٹیکل 35(A)کے تعلق سے بے معنی بیانات جاری کرنے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے یہاں معروف وکلا اور سماجی کارکنوں کی نئی دہلی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے سابق کرکٹر اور پنجاب کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو کے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی18اگست ، 2018کو تقریب حلف بردار ی میںپاکستان کے آرمی چیف باوجوا کو لگانے کی تعریف کرتے ہو ئے کہا کہ ان لوگوں کو سابق کرکٹر سے سبق لینا چاہئے جو ہندستان۔ پاکستان مسئلہ کو بندوق کے ذریعہ حل کرنے کے حق میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے لوگ امن کے ساتھ مل کر رہنے کے حق میں ہیں جو 1947تک ایک ہی کنبہ (ملک) کے لوگ تھے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے کچھ موقع پرست اورناراض گروپ اس آمرانہ، غیرقانونی اور غیرآئینی آرٹیکل 35(A)کے نام پر جموں وکشمیر کے لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 35(A)غیر آئینی ہے کیونکہ اسے اس شخص نے نافذ کیا جس کو اس کا کوئی اختیار یا اتھارٹی حاصل نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 35(A)حکومت جموں وکشمیر کو ریاست کے لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ انہوں نے وکلا برادری ، سماجی کارکن اور سیاسی مفکرین سے درخواست کی کہ وہ آرٹیکل 35(A)کا مطالعہ کرکے اپنی رائے دیں ، کیا آرٹیکل 35(A) جموں وکشمیر میں رہنے والے ہندستانی شہریوں کے بنیادی حقوق پر حملہ نہیں ہے۔انہوں نے نیشنل کانفرنس کے ذریعہ آرٹیکل 35(A)کے تعلق سے لوگوں گمراہ کرنے پر حیرت کا اظہار کیا۔پروفیسر بھیم سنگھ نے حریت کانفرنس کے تمام کارکنوں اور ، جماعت اسلامی کو، جموں وکشمیر، جیسا کہ وہ دعوی کرتی ہے،کشمیرسے کنیا کماری تک اور کنیا کماری سے اسلام آباد تک کسی بھی معاملہ پر ان کے ساتھ بحث کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہاکہ خواہ وہ کشمیر کے لوگ ہوں اسلام آباد کے یاپھر بنگلہ دیش کے تمام لوگ امن کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
پسماندہ طبقوں کے ملازمین کی ترقیوں میں ریزرویشن بحال کی جائے نیشنل کانفرنس
جموں//نیشنل کانفرنس ایس سی سیل نے حکومت سے ریزروڈکیٹاگریوں کے ملازمین کی ترقیوں میں ریزرویشن کی بحالی سے متعلق عدالتی حکامات کی من وعن عمل آوری کامطالبہ کیاہے۔یہ مطالبہ نیشنل کانفرنس ایس سی سیل کی ایک میٹنگ کے دوران کیاگیا۔اس دوران مقررین نے ریزروڈکیٹاگریوں کے ملازمین کی ترقیوں میں ریزرویشن کی بحالی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی آئین کی دفعہ 35 اے کے تحفظ کے لیے عزم کااعادہ کیا۔انہوں نے کہاکہ ڈوگرہ عوام کو دفعہ 35اے کے نقصانات کے بارے میں کچھ لوگ بتاکرگمراہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ درحقیقت دفعہ 35اے ڈوگرہ عوام کے تحفظ کی ضمانت ہے ۔اس دوران تقریب کاانعقاد راکیش ڈوگرہ صوبائی سیکریٹری ایس سی سیل نے سلیہڑ آرایس پورہ سیکٹرمیں کیاگیاجس کی صدارت کو۔چیئرمین نیشنل کانفرنس ایس سی سیل جموں صوبہ وجے لوچن کررہے تھے۔اس دوران تقریب میں ریاستی سیکریٹری نیشنل کانفرنس رتن لال گپتامہمان خصوصی تھے۔وجے لوچن نے ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت ایس سی /ایس ٹی/اوبی سی طبقوں کی طرفوں سے ریزروڈکیٹاگریوں کے ملازمین کی ترقیوں میںریزرویشن بحال کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔لوچن نے کہاکہ عدالت عظمیٰ نے ہدایات دی ہیں کہ ریزروڈکیٹاگریوں کے ملازمین کی ترقیوں میں ریزرویشن بحال کی جائے لیکن دومہینے گذرچکے ہیں ابھی تک حکومت نے عدالتی احکامات پرعملدرآمدنہیں کیاہے۔رتن لال گپتانے بی جے پی پرعوام کوتقسیم کرنے کاالزام عائد کیا۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی ایڑی چوٹی کازورلگاکرجموں وکشمیرکے خصوصی درجے کوزک پہنچانے پرتلی ہوئی ہے اورڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کی دوراندیشی کونظرانداز کررہی ہے جوکہ جموں کے ساتھ ناانصافی ہے۔انہوں نے کہاکہ دفعہ 35اے کے تحفظ کیلئے جنگ لڑنے کیلئے پرعزم ہے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکی ہے ۔انہوں نے پارٹی ورکروں پرآئندہ پنچایتی ولوکل اربن باڈیزکے انتخابات کے سلسلے میں تیاریوں پرزوردیا۔اس موقعہ پر ٹھاکرکشمیراسنگھ ،سابق ایم ایل سی اورسینئرلیڈرنے کہاکہ دفعہ 35A کوزک پہنچانے کیلئے نیشنل کانفرنس کسی کواجازت نہیں دے گی۔اس موقعہ پر سمرداس صوبائی سیکریٹری ایس سی سیل، سوم راج تروچ ودیگرایس سی سیل کارکنان بھی تھے۔
پٹولی منگوتریاں میں ٹرانسفارمرسے انسانی جانوں کوخطرہ لاحق
محکمہ بجلی کی غفلت سے کسی بھی وقت بڑاحادثہ ہوسکتاہے:پونیت جموال
جموں//جموں وکشمیرپیپلزڈیموکریٹک پارٹی کے جموں ویسٹ سے تعلق رکھنے والے لیڈر پونیت سنگھ جموال نے پٹولی منگوتریاں میں محکمہ بجلی کی طرف سے نصب کیے گئے ٹرانسفارمر کوعوام اورمویشیوں کیلئے خطرے کاسبب قراردیتے ہوئے اسے محکمہ کی غفلت سے تعبیرکیا۔انہوں نے کہاکہ محکمہ بجلی کے ملازمین کی غفلت کے سبب کسی انسان یامویشی کی جان جاسکتی ہے ۔انہوں نے علاقہ میں ٹرانسفارمرسے انسانوں اورمویشیوں کے غیرمحفوظ ہونے پرتشویش ظاہرکی۔ انہوں نے کہاکہ ایک وفدنے ان سے ملاقات کرکے لوگوں کی پریشانیاں بیان کیں۔انہوں نے کہاکہ اکیسیوی صدی کے دورمیں بھی محکمہ بجلی غفلت کامظاہرہ کررہاہے اورپٹولی منگوتریاں میں ٹرانسفارمرکوغیرمحفوظ طریقے سے رکھاگیاہے جوکہ بدقسمتی کی بات ہے۔پی ڈی پی لیڈرپونیت سنگھ جموال نے جموں کے کچی چھائونی اورپنج تیرتھی میں بھی پانی کے بحران پرمحکمہ پی ایچ ای کوتنقیدکانشانہ بنایا۔انہوں نے کہاکہ لوگوں نے متعددبارشکایت درج کرائی ہے لیکن اس کے باوجودمتعلقہ حکام کوئی توجہ نہیں دے رہاہے جوکہ لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔انہوں نے کہاکہ لوگوں کوپانی کی قلت کی وجہ سے ترسناپڑرہاہے ۔انہوں نے کہاکہ اعلیٰ حکام کوقصورواراہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لاکرلوگوں کوبہترپانی سپلائی کی دستیابی یقینی بنانی چاہیئے۔انہوں نے کہاکہ لگ بھگ پوراپراناشہرجموں اوراس کے گردونواح کے علاقہ جات کے لوگ پانی کی قلت سے پریشان ہیں۔انہوں نے ریاستی گورنرسے پرزورمطالبہ کیاہے کہ شہرمیں آمدہ تہواروں کے پیش نظر جلدازجلد پانی سپلائی یقینی بناکرلوگوں کوپریشانیوں سے نجات دلانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔جموال نے پٹولی منگوتریاں کے ٹرانسفارمرکے گرد جنگلہ باندھنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی مانگ کی ہے۔