آئی جی کشمیر اور صوبائی کمشنر کانشہ مکت جموں کشمیر ابھیان کا جائزہ
رینگر//صوبائی پولیس سربراہ کشمیر اورصوبائی کمشنر کشمیر نے پی سی آر کشمیر میں نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کی عمل آوری اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ اجلاس کی صدارت کی۔100 روزہ’’نشہ سے پاک جموں و کشمیر‘‘مہم لیفٹیننٹ گورنر، یو ٹی جموں و کشمیر کی جانب سے شروع کی گئی ہے، جس کا مقصد منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف مہم کو تیز کرنا ہے۔ اس کے تحت تمام متعلقہ محکموں اور نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔اجلاس میں کشمیر زون کے تمام رینج ڈی آئی جیز، تمام ڈپٹی کمشنرز، تمام ضلع ایس ایس پیز، جے ڈی پی زیڈ پی ایچ کیو اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں ضلع ایس ایس پیز نے منشیات کے نیٹ ورکس اور اسمگلروں کے خلاف جاری کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں 296 سے زائد منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا، 281 سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے اور اہم ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔
افسران نے یہ بھی بتایا کہ عوام، خصوصاً طلبہ، کو منشیات کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کے لیے تقریباً 460 بیداری پروگرام منعقد کیے گئے۔ مزید برآں، تقریباً 15 کنال اراضی پر غیر قانونی فصلوں کو تلف کیا گیا اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والی کئی میڈیکل دکانوں کو سیل کیا گیا۔ اس کے علاوہ منشیات کی اسمگلنگ سے منسلک جائیدادوں کی نشاندہی کر کے قانون کے تحت ضبط بھی کیا گیا۔ڈپٹی کمشنرز نے اجلاس کو ضلعی سطح پر 100 روزہ مہم کے تحت کیے گئے اقدامات اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں، پنچایتوں اور حساس علاقوں میں بیداری مہمات کو تیز کرنے اور مختلف محکموں کے ساتھ بہتر تال میل پر زور دیا۔آئی جی پی کشمیر نے منشیات کے نیٹ ورکس کے خاتمے اور اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مسلسل اور مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ شری وی کے بردی نے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی، انٹیلیجنس کی بنیاد پر آپریشنز کو مضبوط بنانے اور مؤثر قانونی کارروائی کے ذریعے سزا کی شرح بڑھانے پر زور دیا۔ڈویڑنل کمشنر کشمیر نے بھی کثیر شعبہ جاتی حکمت عملی کی اہمیت اجاگر کی، جس میں سول انتظامیہ، محکمہ صحت، تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی شامل ہوں۔ انہوں نے بحالی کے نظام کو مضبوط بنانے اور نچلی سطح پر آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس میں تمام متعلقہ فریقین کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں، بہتر ہم آہنگی قائم کریں اور جدید حکمت عملی اپنائیں تاکہ نشہ مکت ابھیان کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ مسلسل کارروائی، مربوط کوششوں اور مضبوط احتیاطی و بحالی اقدامات کے ذریعے جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک معاشرہ بنایا جائے گا۔