عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں و کشمیر اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوبارہ آغاز سے قبل ایوان کے باقی ماندہ کام کو نمٹانے کیلئے حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کے تحت تقریباً 450 زیر التوا سوالات کو آئندہ سات نشستوں میں نمٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس مقصد کیلئے تمام سرکاری محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متعلقہ سوالات کے جوابات فوری طور پر جمع کرائیں تاکہ انہیں بروقت ایجنڈے میں شامل کیا جا سکے۔اسمبلی کے اسپیکرعبدالرحیم راتھر نے واضح کیا کہ 27 مارچ سے دوبارہ شروع ہونے والے اجلاس میں تمام باقی سوالات کو ترجیحی بنیادوں پر پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال اجلاس میں توسیع کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی، تاہم اگر کسی اہم سرکاری کام کی ضرورت پیش آئی تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کو مجموعی طور پر تقریباً 1500 سوالات موصول ہوئے تھے، جن میں سے بڑی تعداد نمٹائی جا چکی ہے جبکہ اب بھی تقریباً 450 سوالات باقی ہیں۔ ان سوالات کو مکمل کرنے کیلئے روزانہ اوسطاً 70 سوالات کو ایجنڈے میں شامل کرنا ہوگا، جس کیلئے محکموں کی جانب سے بروقت ردعمل ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اسمبلی سیکریٹریٹ نے متعلقہ محکموں کو پہلے ہی ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ سوالات کے جوابات میں تاخیر نہ کریں، جبکہ صرف وہی سوالات ایوان میں پیش کیے جائیں گے جنہیں اسپیکر کی منظوری حاصل ہوگی۔قواعد کے مطابق ہر رکن اسمبلی کو بجٹ اجلاس کے دوران 20 سوالات (10 ستارہ اور 10 غیر ستارہ) پوچھنے کا حق حاصل ہے۔ستارہ سوالات پر ایوان میں بحث ہوتی ہے جبکہ نان اسٹارڈ سوالات کے تحریری جوابات فراہم کیے جاتے ہیں۔ 90 رکنی ایوان میں وزراء اور اسپیکر کو نکال کر 83 اراکین سوالات پیش کرنے کے مجاز ہیں۔ادھر اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے نجی اراکین کے بل بھی متعلقہ محکموں کو بھیج دیے گئے ہیں تاکہ ان پر پیشگی رائے حاصل کی جا سکے۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت 72 نجی بل زیر غور ہیں، جن میں بعض گزشتہ اجلاسوں سے زیر التوا ہیں۔بجٹ اجلاس کا آغاز 2 فروری کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاکے خطاب سے ہوا تھا، جبکہ 20 فروری کو رمضان المبارک اور بعد ازاں نوراتروں کے پیش نظر اجلاس میں وقفہ لیا گیا تھا۔ اب اجلاس کے دوبارہ آغاز پر بجٹ کو منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا اور 4 اپریل کو اجلاس کے اختتام کا امکان ہے۔اسمبلی کے آخری مرحلے میں تیز رفتار کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت اور ایوان دونوں زیر التوا معاملات کو مقررہ وقت میں نمٹانے کیلئے سنجیدہ ہیں، تاکہ قانون سازی اور عوامی مسائل کے حل کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔