سرنکوٹ //سرنکوٹ کا گائو ں ہاڑی دور افتادہ ہونے کیساتھ ساتھ تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہے جبکہ علاقہ کو آر بی اے زمرے میں شامل کرنے کیلئے 7برس قبل ایک فائل تیار کر کے سیول سیکریٹریٹ پہنچائی گئی تھی لیکن اس فائل کی جانب کوئی توجہ ہی نہیں دی گئی جس کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانون کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔سرنکوٹ قصبہ سے لگ بھگ 15کلو میٹر دوری پر آباد گائوں کی چار پنچایتوں میں اس وقت تک آمد ورفت کیلئے کوئی معیاری سڑک ہی تعمیر نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے مکینوں کو اکثر پیدل سفر کرنا پڑرہا ہے ۔مکینوں نے ضلع انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ 28وارڈوں پر مشتمل مذکورہ پنچایتوں میں رابطہ سڑک اور موبائل ٹاور نصب نہ ہو نے کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے کئی جگہوں پر بجلی موجود نہیں جبکہ اکثر مقامات پر بجلی کی فراہمی کیلئے سبز درختوں اور لکڑی کے کھمبوں کو استعمال کیا گیا ہے ۔بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کا پیشہ مزدوری اور کھیتی باڑی ہی ہے ۔مکینوں نے ضلع و یو ٹی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ چار پنچایتوں پر مشتمل علا قہ کو صرف ووٹوں کیلئے ہی استعمال کیا جاتا ہے تاہم انتخابات کے دوران بلندو بانگ نعرے لگائے جاتے ہیں لیکن عملی اور زمینی سطح پر کوئی بھی سہولیت دستیاب نہیں ہے ۔ایک مقامی سرپنچ سکندر نورانی نے بتایا کہ ہاڑی میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مکینوں کی تعمیر وترقی پر گہرا اثر پڑرہا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس دور افتادہ علا قہ کو آر بی اے کے زمرے میں شامل کرنے کیلئے ایک فائل پوری طرح سے مکمل کر کے سیول سیکریٹریٹ میں سات برس قبل جمع کروائی گئی تھی لیکن آج تک کوئی دھیان ہی نہیں دیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ہاڑی کی فائل پہلے نمبر پر تھی اور کئی بار آر بی اے دیئے جانے کی مانگ کو لیکر سابقہ گورنر مشیر خورشید گنائی کے پاس گئے مگر ان کی یقین دہانی کے باوجود گاؤں ہاڑی کو آر بی اے زمرے سے باہر رکھا گیا۔سرپنچ نے کہا کہ علاقہ ہاڑی بنیادی سہولیات سے محروم ہے اس کو فوری طور پر آر بی اے کا درجہ دیا جانا چائیے تا کہ اس علاقے کی عوام کی دیرینہ مانگ پوری ہو سکے اور خاص کر اسکولی بچوں کو وظیفے اور پڑھے لکھے اعلی تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو روزگار ملنے میں آسانی پیدا ہو سکے۔مقامی لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہا کہ ہاڑی گائوں میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیساتھ ساتھ مذکورہ علاقہ کو آر بی اے زمرے میں شامل کیا جائے ۔