اسمبلی کی3 اہم کمیٹیوں کی تشکیل صوتی ووٹ کے ذریعے منظور
سرینگر//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے جمعہ کو ایوان کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران 3 اہم تخصیصی بلوں کو منظور کیا۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بلوں کو غور اور منظوری کے لیے پیش کیا۔ایوان میں منظور کی گئی بلوں میں’’مالی سال 2025-26 کی خدمات کے لیے جموں و کشمیر کے مرکزی علاقے کے کنسولیڈیٹیڈ فنڈ سے اور باہر کچھ مزید رقوم کی ادائیگی اور اختصاص کی اجازت دینے کا ایک بل (ایل اے بل نمبر 04 آف2026)؛مالی سال 2025-26 کی خدمات کے لیے جموں و کشمیر کے مرکزی علاقے کے کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے اور باہر کچھ مزید رقوم کی ادائیگی اور اختصاص کی اجازت دینے کا ایک بل ( ایل اے بل نمبر 06آف2026)؛ اورمالی سال2026-27 کی خدمات کے لیے جموں و کشمیر کے مرکزی علاقے کے کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے اور باہر کچھ رقوم کی ادائیگی اور اختصاص کی اجازت دینے کا ایک بل ( ایل اے بل نمبر 05آف2026) شامل ہیں۔
اس دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایوان کی میز پر جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (JKPDCL) کی سال2016-17، 2017-18، 2018-19 اور 2019-20 کی سالانہ رپورٹوں کی کاپیاں رکھیں ۔دریں اثناء جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے جمعہ کو ایوان کی 3 اہم کمیٹیوں کی تشکیل کی تحریک منظور کی۔قبل ازیں، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قواعد و ضوابط کے قواعد344، 346 اور 349 کے مطابق بالترتیب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، تخمینوں کی کمیٹی اور پبلک انڈرٹیکنگس کی کمیٹی میں گیارہ اراکین کے انتخاب کے لیے تحریک پیش کی۔ ان کمیٹیوں کی میعاد 31 مارچ2027 تک بڑھے گی۔بعد ازاں ان تحریکوں کو اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ووٹ کے لیے پیش کیا اور ایوان سے صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کر لیا گیا۔ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی 3 ایوانوں کی کمیٹی تشکیل دیتی ہے۔