نئی دہلی//سائیکلنگ ہندوستان میں ابھرتے ہوئے کھیل کے طور پر پہچان بنا چکا ہے لیکن بین الاقوامی سطح پر تمغہ جیتنا ابھی بہت دورکی بات ہے۔ خاص طور پر، ہندوستانی سائیکل سواروں کو اولمپکس میں تمغہ جیتنے کے لیے میلوں کا سفر طے کرنا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں سائکل ریسنگ بھی ایک مقبول کھیل کے طورپر شناخت بنا چکا ہے۔کئی ملکوں میں اس قسم کے انعقاد کئے جاتے ہیں،جن میں کچھ ہندوستانی بھی حصہ لیتے ہیں لیکن سائکل پر کسی خاص پیغام کے ساتھ پرواز بھرنا ایک الگ طرح کا تجربہ ہے۔ٹریک کے بجائے کھلی سڑک اور اونچے نیچے راستوں پر خطرہ بھی زیادہ ہے۔ایسی ہی ایک مہم میں ہندوستان کے معروف سائیکلسٹ راکیش کمار پون گزشتہ رات حادثے کا شکار ہو گئے۔ اس وقت وہ جے پور میں زیر علاج ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ بہت جلد صحت یاب ہو جائیں گے اور اپنی مہم پر جائیں گے۔انہوں نے ہمت نہیں ہاری ہے۔زخمی ہونے سے پہلے ’اورنگ ا?باد سے واپس اورنگ ا?باد تک‘ چھ ہزار کلومیٹر کی مہم کے چیلنج کو قبول کرنے والے پون اور ان کے ساتھ سائکلسٹ سے دہلی لوٹنے کے دوران بات چیت ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے پون ملک کے بہترین سائکلسٹ بنے۔ پچھلے ساڑھے تین سالوں میں وہ ایک لاکھ کلومیٹر سائکل چلا چکے ہیں۔ ایسا کرشمہ کرنے والے وہ پہلے ہندوستانی ہیں۔ چار سو دن تک ہر روز 400 سے زیادہ اور کل 56000 کلومیٹر طے کرنے کا ریکارڈ بھی ان کے نام ہے۔