بیروت//شامی فوج نے دمشق کے قریب غوطہ علاقے میں باغیوں کو نشانہ بنا کر مسلسل دو دن سے کئے گئے فضائی حملے میں 250 افراد ہلاک ہو گئے ۔راحت رساں تنظیموں کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق کے نزدیک 2013 کے بعد سے یہ سب سے زیادہ پرتشدد واقعہ ہے ۔ اس میں 50 سے زائد بچے ہلاک ہو ئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ حالات کنٹرول سے باہر ہو رہے ہیں۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پیر اور منگل کے حملے میں کم از کم چھ اسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان ریال لیبلانک نے کہا، "شہریوں،اسپتالوں اور اسکولوں کے خلاف مسلسل تشدد کی ہم مکمل طور مذمت کرتے ہیں۔ انسانی قانون کا یہ انتہائی خلاف ورزی ہے ۔ ہم تمام فریقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ شام میں تشدد کی شدت کو کم کریں''۔مشرقی غوطہ سے آنے والے رپورٹوں کے شامی فوج نے تردید نہیں کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کے خلاف جہاں سے حملے کئے گئے ہیں، وہاں اس نے درست حملے کئے ہیں۔شام کے حالات و واقعات پر نگاہ رکھنے والے اپوزیشن کے مبصر گروپ سیرین آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے اپنے ذرائع سے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔ بھاری اسلحے سے کیے جانے والے اس حملے میں کئی سو افرد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ شہر شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع ہے ۔ شامی باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی غوطہ کا قبضہ چھڑانے کے لیے شامی فوج مسلسل حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ شامی سرکاری ٹی وی کے مطابق دمشق کی حکومت نواز فورسز شمال مغربی شام کے عفرین کے علاقے میں داخل ہونے ہی والی ہیں۔ اسد حکومت کی حامی پاپولر فورسز کا عفرین میں داخلہ اب صرف چند گھنٹوں کی بات ہے ۔ عفرین میں ترک فوجی دستے شامی کردوں کے خلاف اپنی زمینی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ اتوار کے روز شامی کرد فورسزکے ایک مشیر نے کہا تھا کہ عفرین میں مغربی دنیا کے حمایت یافتہ شامی کرد جنگجو اب صدر اسد کی حامی فورسز کے ساتھ مل کر ترک دستوں کے خلاف کارروائیاں کریں گے ۔ اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق ان حملوں کے دوران ملکی دارالحکومت دمشق کے نواح میں مشرقی غوطہ کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں کم از کم چھ ہسپتالوں پر بھی بمباری کی گئی۔ ان حملوں کے بعد کئی اسپتال معمول کے مطابق کام کرنے کے قابل نہ رہے ۔ مشرقی غوطہ میں محصور قریب چار لاکھ شہریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ تاحال تقریبا[؟] مکمل طور پر کٹا ہوا ہے ۔ ادھر ترک مسلح افواج کی طرف سے شام کے علاقے عفرین میں جاری شاخ زیتون آپریشن کے دائرہ کار میں مزیدتین دیہات کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔یو این آئی