۔ 2026میں گھریو صارفین سے موجودہ نرخ پر بجلی فیس وصولیابی کی ہدایت
اشفاق سعید
سرینگر// جموں و کشمیر حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سمارٹ میٹروں کی تنصیب کے فورا ًبعد سبسڈی میں کمی اور ٹیرف کو موثر بنایا جائے گا اور تب تک مجوزہ20فیصد سرچارج کا فیصلہ التوا میں رکھا جائیگا۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کو سردیوں میں توانائی کے خسارے کا سامنا ہے اور وہ اپنی بجلی کا تقریباً 90 فیصد باہر سے درآمد کر رہا ہے، کیونکہ دریائوں میں کم اخراج کی وجہ سے پن بجلی کی پیداوار 150 سے 200 میگاواٹ کے درمیان سب سے کم ہو گئی ہے۔ جموں و کشمیر حکومت کو مرکز نے اس بات کی ہدایت کی ہے کہ وہ گھریلو صارفین سے جاری مالی سال میں نئے متعارف کرائے گئے ٹیرف کے بجائے بجلی کے موجودہ نرخوں پر فیس وصولی جاری رکھیں ۔ حکام نے بتایا کہ اس نے مرکزی وزارت بجلی کے 20 فیصد سرچارج کو TOD سسٹم کے تحت روک دیا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے گھریلو صارفین کو سبسڈی والی بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹرمحمود شاہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جو رعایت صرف گھریلو صارفین کو دی جارہی ہے البتہ ان صنعتوں کیلئے یہ رعایت نہیں دی جائیگی جو زیادہ بجلی خرچ کرتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈنے صبح اور شام کے اوقات میں صارفین پر 20 فیصد سرچارج بڑھانے کے لیے مشترکہ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن(جے ای آر سی)سے درخواست کی تھی۔ اضافی ٹیرف گھریلو اور غیر گھریلو شعبوں میں مصروف اوقات کے دوران تجویز کیا گیاتھا، جس کی تعریف روزانہ صبح 6 بجے سے صبح 9 بجے اور شام 5 بجے سے رات 10 بجے تک کی گئی تھی۔
زرعی شعبے کو چھوڑ کر، گھریلو صارفین، صنعتوں، حکومت اور عوامی سہولیات کے لیے سرچارج لگانے کی تجویز کی گئی ہے ۔ یونین ٹیریٹری میں دونوں پاور یوٹیلیٹیز کے لیے حکومت کی گرانٹ ان ایڈ کی تجویز کو قبول کیا گیا ہے۔پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، جس کی سربراہی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کر رہے ہیں، نے ایک خط کے ذریعے الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن کو بتایا ہے کہ حکومت جموں کے ساتھ ساتھ کشمیر دونوں پاور یوٹیلیٹیز کو گرانٹ ان ایڈ فراہم کر کے ریونیو کے فرق کو پر کرے گی۔لیکن حکومت نے واضح کیا ہے کہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی یونٹوں کو بجلی کے نرخوں پر سبسڈی نہیں دی جانی چاہیے، “کیونکہ ان کی بجلی کی کافی ضرورت کے لیے اکثر زیادہ قیمتوں پر بجلی کی خریداری کی ضرورت ہوتی ہے”۔ حکومتی فیصلے کے مطابق”تاہم، صارفین کی دیگر اقسام کو موجودہ مالی سال، یعنی 2025-26 کے دوران ٹیرف میں کسی اضافہ کے بغیر پہلے سے ہی مطلع شدہ سبسڈی والے نرخوں پر بجلی ملتی رہے گی۔”بجلی کی وزارت کے ذریعہ ٹی او ڈی ٹیرف سسٹم جموں اور کشمیر سمیت پورے ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOMS) کو آٹھ گھنٹے(شمسی اوقات)کے دوران ٹیرف کو سرچارج کرنے کا حکم دیتا ہے۔نیا ٹیرف سسٹم بجلی(صارفین کے حقوق)رولز، 2020 میں ترمیم کے ذریعے متعارف کرایا گیا تھا۔ بجلی کی نئی قیمتیں دن کے وقت کی بنیاد پر مختلف قیمتیں وصول کرتی ہیں، جس میں زیادہ مانگ کے اوقات میں زیادہ اور دن کے اوقات میں کم نرخ ہوتے ہیں۔ یہ ڈھانچہ صارفین کو دن کے وقت کے مطابق بجلی کے لیے چارج کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چوٹی کے اوقات میں ٹیرف دن کے وقت کے مقابلے میں 10 سے 20 فیصد زیادہ ہوگا۔