ٹی ای این
سرینگر/ / بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام *یونائیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) نے گزشتہ دس برسوں میں ایک غیر معمولی انقلاب برپا کرتے ہوئے معیشت اور روزمرہ لین دین کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اب 20 روپے کی چائے سے لے کر کروڑوں روپے کے کاروباری لین دین تک سب کچھ چند سیکنڈ میں موبائل فون کے ذریعے ممکن ہو چکا ہے۔اقتصادی ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، یو پی آئی کے ذریعے ہونے والے سالانہ لین دین کی مالیت بڑھ کر تقریباً 285 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت تیزی سے بغیر نقد معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔یہ نظام 2016 میں متعارف کرایا گیا تھا، جس کا مقصد بینکوں کے درمیان فوری، محفوظ اور آسان ادائیگی کو یقینی بنانا تھا۔ ابتدا میں یو پی آئی کا استعمال محدود تھا، مگر اسمارٹ فون کے بڑھتے استعمال، سستی انٹرنیٹ سروس اور حکومتی اقدامات نے اسے عام آدمی تک پہنچا دیا۔
آج یو پی آئی صرف ایک ادائیگی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل مالیاتی ماحولیاتی نظام بن چکا ہے، جس سے چھوٹے دکانداروں، ریہڑی والوں، ٹیکسی ڈرائیوروں اور بڑے کاروباری اداروں تک سبھی مستفید ہو رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق یو پی آئی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اس کی سادگی، رفتار اور مفت یا کم لاگت پر دستیابی ہے۔ اس کے ذریعے رقم کی منتقلی نہ صرف فوری ہوتی ہے بلکہ اس میں کسی قسم کی پیچیدگی بھی نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے دیہی علاقوں میں بھی اس کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔حکومت اور نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) نے یو پی آئی کو فروغ دینے کے لیے مسلسل نئی سہولیات متعارف کرائی ہیں، جن میں QR کوڈ ادائیگیاں، آٹو پے، اور بین الاقوامی ادائیگیوں کی سہولت شامل ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یو پی آئی نے نہ صرف ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دیا بلکہ معیشت میں شفافیت بھی بڑھائی ہے۔ اس سے ٹیکس نظام بہتر ہوا ہے اور غیر رسمی معیشت کو باضابطہ نظام میں لانے میں مدد ملی ہے۔اسکے علاوہ یو پی آئی نے چھوٹے کاروباروں اور اسٹارٹ اپس کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کیے ہیں، کیونکہ اب وہ آسانی سے ادائیگیاں وصول کر سکتے ہیں اور اپنے کاروبار کو وسعت دے سکتے ہیں۔ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں یو پی آئی کا دائرہ مزید وسیع ہوگا، خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر، جہاں بھارت دیگر ممالک کے ساتھ اس نظام کو جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔یوں ایک دہائی میں یو پی آئی نے نہ صرف ادائیگیوں کا طریقہ بدل دیا بلکہ بھارت کو ڈیجیٹل معیشت کی عالمی دوڑ میں ایک نمایاں مقام بھی دلایا ہے۔