ایل جی ویشنودیو ی میڈیکل کالج داخلوں میں کسی بھی بے ضابطگی کی تحقیقات کرے:ستیش شرما
سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر حکومت نے پورے جموں و کشمیر میں 1600نئے راشن ڈیپو کھولنے کے عمل کو تقریباً حتمی شکل دے دی ہے تاکہ علاقوں میں عوامی ترسیل کے نظام کو آسان بنایا جا سکے۔یہ بات جموں و کشمیر حکومت کے متعلقہ وزیر ستیش شرما نے بتائی ہے جنہوں نے یہ بھی بتایا کہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن میں ایک سو بسوں کا نیا بیڑا شامل کیا جا رہا ہے۔اپنے ریاسی دورے کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر ستیش شرما نے کہا کہ عمر عبداللہ کی سربراہی میں جموں و کشمیر حکومت لوگوں کے مسائل کو حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے۔وزیر نے کہا’’ہم جموں و کشمیر میں 1600 نئے راشن ڈیپو کھولنے جا رہے ہیں اور ضروری عمل کو تقریباً حتمی شکل دے دی گئی ہے”۔انہوں نے کہا کہ ان نئے ڈیپووں کو کھولنے کا فیصلہ ان لوگوں کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے خاص طور پر جنہیں ابھی بھی اپنا راشن لینے کے لیے کئی کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے یا ایسی جگہوں پر جہاں موجودہ راشن ڈیپووں میں راشن کارڈز کی تعداد زیادہ ہے۔مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے تئیں عوامی ردعمل زبردست ہے۔ انہوں نے کہا”پہلے شاید ہی کوئی آرٹی سی کا نام لیتا تھا لیکن یہ یوٹی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہے کہ کچھ قدم اٹھائے گئے ہیں اور اب آر ٹی سی عوام کو سہولت فراہم کر رہا ہے”۔وزیر ستیش شرما نے مزید بتایا کہ ایک سو بسوں کا اضافی بیڑا آر ٹی سی کو بڑھا دے گا۔ستیش شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے تحت نئے قائم ہونے والے میڈیکل کالج کے داخلے کے عمل میں اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی جانچ کا حکم دیں۔تاہم انہوں نے مزید کہا کہ طلباء کی میرٹ ہی داخلے کا معیار ہے۔انکاکہناتھا’’یہ واضح ہے، میرٹ صرف معیار ہے اور اگر میرٹ کی بنیاد پر داخلے میں کوئی بے ضابطگی ہے تو ایل جی کو انکوائری کرنی چاہیے”۔ستیش شرما نے کہا کہ جنہوں نے تاہم مزید کہا کہ مذہب کبھی بھی داخلے کا معیار نہیں ہو سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی حالات کو فرقہ وارانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے جیسا کہ وہ ہمیشہ ان علاقوں میں کرتی ہے جہاں پارٹی اپنی حکومت بنانے میں ناکام رہتی ہے۔انہوں نے مزید کہا”ماتا ویشنو دیوی مندر پر نئے روپ وے سے متعلق ایک مسئلہ بھی ہے اور جموں و کشمیر کے ایل جی کو اس معاملے پر تمام متعلقین کے ساتھ بات چیت کرنی چاہئے اور ہر ایک کے لئے دوستانہ فیصلہ لیا جانا چاہئے”۔