عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ترقیات نہ تو مرکزی حکومت اور نہ ہی عوام کے قابو میںہے، اور اس کے اثرات زیادہ تر قومی صورتحال کی عکاسی کریں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یونین ٹیریٹری اس وقت ضروری اشیاء ، بشمول ایندھن، کی کمی کا سامنا نہیں کر رہا ہے اور اسٹاک 10 سے 15 دن کے لیے کافی ہے۔عمر عبد اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ویسٹ ایشیا کے بحران کے حوالے سے اسمبلی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے، اور اس موقع پر ان کے ساتھ ان کے والد اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا، ‘‘جو کچھ ملک کے دیگر حصوں میں ہو رہا ہے، وہی صورتحال جموں و کشمیر میں بھی عکاس ہوگی۔’’ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اس وقت فوری تشویش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جاری تنازعہ طویل ہو گیا اور ملک کے دیگر حصوں میں اشیاء کی قلت پیدا ہوئی، تو اس کا اثر جموں و کشمیر پر بھی پڑ سکتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں حالیہ جائزہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ سپلائی متعدد ذرائع کے ذریعے برقرار رکھی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا، ‘‘اس مرحلے پر گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اگر صورتحال میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو ہم عوام کو آگاہ کریں گے۔