بلال فرقانی
سرینگر//اپنے چنائو منشور میں ایک لاکھ سرکاری نوکریاں فراہم کرنے اور6ماہ میں سبھی خالی اسامیاں پُرکرنےاور 3ماہ میں ایمپلائمنٹ جنریشن قانون لانے کا وعدہ کرنے والی نیشنل کانفرنس حکومت میں تقریباً 15ماہ میں7ہزار سے بھی کم بھرتیاں ہوئی ہیں جبکہ خالی اسامیاں پُر ہوئیں اور نہ ہی روزگار پیدا کرنے کا قانون آیا ۔اس پر مستزاد یہ کہ یوٹی میں سرکاری نوکریاں مسلسل سکڑ رہی ہیں اور نوکریوں کیلئے درخواست فیس سرکار کیلئے آمدن کا ذریعہ بن چکا ہے۔
بیروزگاری سنگین بحران
نیشنل کانفرنس نے اپنے چنائومنشور میں تسلیم کیا ہےکہ جموں و کشمیر کے 42.40فیصد نوجوان ایسے حالات میں ہیں جہاں انہیں مناسب روزگار دستیاب نہیں، جبکہ اقتصادی سروے 2022-23کے مطابق خطے میں بے روزگاری کی شرح 15.6فیصد ہے، جو ملک کی تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں سب سے زیادہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں 3,61,146تعلیم یافتہ بے روزگار افراد شامل ہیں جن میں 2,33,845مرد اور 1,27,301خواتین شامل ہیں۔ ان میں سے صرف کشمیرصوبہ میں 2.08 لاکھ ہیں۔ یہ تعداد جموں و کشمیر کو اس کی افرادی قوت کے تناسب سے ہندوستان کے سب سے زیادہ بے روزگار خطوں میں سے ایک بناتی ہے۔ صورتحال خاص طور پر پیشہ ور افراد کے درمیان سنگین ہے۔ 555میڈیکل گریجویٹس، 252ڈینٹل گریجویٹس اور 9,416 انجینئرنگ پوسٹ گریجویٹ بے روزگار کے طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ یہ صرف وہ بیروزگار نوجوان ہیں جنہوںنے باضابطہ اپنے آپ کو محکمہ روزگار میں رجسٹر کروایا ہے جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی کیونکہ بیشتر نوجوان اپنے آپ کو رجسٹر کرواتے ہی نہیں ہیں۔
ایک لاکھ نوکریوں کا وعدہ
منشور میں وعدہ کیا گیا تھا کہ نوجوانوںکو ایک لاکھ نوکریاں فراہم کی جائیں گی تاہم حکومت میں رہنے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد چند ہزار نوجوان ہی نوکریاں حاصل کرپائے۔گزشتہ برس اسمبلی کےبجٹ اجلاس میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے20مارچ کو ایوان کو مطلع کیاتھاکہ گزشتہ دو برسوںمیں ان زمروں میں 11,526بھرتیاں کی گئی ہیں۔انہوںنے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت نے سال کے آخر تک 7,253گزیٹیڈ اور نان گزٹیڈاسامیاں پُر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاہم یہ ہدف سال2025کے اختتام تک پورا نہ ہوسکا اور یوں 3برسوں میں15ہزار سے کم ہی بھرتیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
خالی اسامیاں پُر کرنیکا وعدہ
چنائو منشور میں یہ بھی وعدہ کیاگیاتھاکہ حکومت بننے کے 6ماہ کے اندر تمام سرکاری محکموں میں خالی اسامیاںپُر کی جائیں گی اور مستقبل کیلئے ایک موزون پالیسی کو بھی یقینی بنایا جائے گا، تاہم ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھرتی کا عمل محدود رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔گزشتہ بجٹ سیشن کے دوران ہی وزیراعلیٰ نے اسمبلی کو مطلع کیاتھا کہ جموںوکشمیر میں سرکاری محکموں میں 32,474 اسامیاں خالی پڑی ہیں جو حسب وعدہ 6ماہ میں پُر کرنا تھیں تاہم اکتوبر 2025میں خزاں اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے اسمبلی کو بتایا تھا کہ 2025کے دوران 2,415اسامیاں جموں و کشمیر سروس سلیکشن بورڈ کو ریفر کی گئیں، جبکہ ہزاروں اسامیاں پبلک سروس کمیشن کو بھیجی گئی ہیں، تاہم ا ن میں سے بیشتر تقرریاں تاحال التوا کا شکار ہیں۔یوں عملی طور یہ وعدہ،وعدہ ہی رہا ۔
ایمپلائمنٹ جنریشن ایکٹ
اسی طرح منشور میں یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ اقتدار سنبھالنے کے 3ماہ کے اندر جموں و کشمیر نوجوانوں کی ملازمتوں کے فروغ دینے کیلئے ایمپلائمنٹ جنریشن ایکٹ پاس کرایا جائے گاجو نوجوانوں کے لئے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کرے گا۔کہاگیاتھا کہ یہ قانون تمام اداروں میں وقت کے پابندملازمت کے نظام کو یقینی بنائے گا تاکہ افراد اپنے مسائل کو ویب سائٹ یا مجازی دورے کے ذریعے موثر طریقے سے حل کرسکیں۔تاہم تقریباً ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود نہ یہ قانون اسمبلی میں پیش کیا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی مسودہ عوامی سطح پر سامنے آیا۔
سنگل ونڈو نظام
چنائو منشور میں یہ وعدہ بھی کیاگیاتھا کہ نوجوانوں کیلئے ایک سنگل ونڈو نظام قائم کیاجائے گا جو ملازمت کے مواقع ،تربیتی پروگرام،تعلیم قرضے اور انگرانی کو ایک پی پلیٹ فارم پر یکجا کرے گا تاہم اس سنگل ونڈو سسٹم نے بھی آج تک دن کا اجالا نہیں دیکھا اور یہ وعدے تک ہی محدودہوکر رہ گیا ہے۔
ہینڈ ہولڈنگ
چنائو منشور میں یہ وعدہ کیاگیاتھاکہ سٹارٹ اپ سکیم کے تحت مشاہرے پر مبنی ملازمتیں فراہم کی جائیںگی ۔توانائی کے شعبے میں چھوٹے پن بجلی اور شمسی توانائی منصوبوں کے ذریعے روزگار فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔اسی طرح درآمدی متبادل پالیسی کے ذریعے کان کنی اور صارفین کے شعبوں میں روزگار پیدا کرنے کے وعدے پر بھی عملی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔روایتی دستکاری صنعت میں ملازمت کے مواقع وسیع کرنے کا وعدہ ہواتھاجبکہ ایک انٹرپرینیورشپ پروموشن آرگنائزیشن قائم کرنےکا وعدہ ہوا تھا۔اسی طرح باغبابی مارکیٹنگ اورپھول بانی صنعت میں ملازمتوںکا وعدہ کیاگیاتھا تاہم آج تک ایک وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا۔یہ بھی کہاگیاتھا کہ جموںوکشمیر میں بیروزگاری کی بڑی وجہ باصلاحیت تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کمی ہے جس پر قابو پانے کیلئے تعلیم یافتہ نوجوانوںکو تکنیکی اداروں میں 6ماہ کی ملازمتی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ ملازمتوں کے اہل بن سکیں تاہم یہ وعدہ بھی وفا ہونا باقی ہے۔
نوکریوں کی کم ہوتی تعداد
2019-20 میںسرکاری محکموں، پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز، امداد یافتہ اداروں اوربلدیاتی اداروں کے ملازمین کی تعداد 5.29لاکھ سے زیادہ تھی تاہم2023-24تک یہ گھٹ کر 4.14لاکھ رہ گئی تھی اور مالی سال2024-25میںیہ تعدادمجموعی طور پر تیزی سے گر کر 2,81,350رہ گئی جو ایک سال میں تقریباً 32فیصد کا سکڑ گیا۔سب سے زیادہ ڈرامائی کمی خود سرکاری شعبے میں ہوئی۔ سرکاری ملازمین کی تعداد 361,000سے کم ہو کر 234,000رہ گئی،یعنی 127,000پوسٹوں کی کمی۔پبلک سیکٹر کے ملازمین بھی 34,460سے کم ہو کر 25,679رہ گئے، جو تقریباً 25فیصد کی کمی ہے۔صرف بلدیاتی اداروں نے ترقی دکھائی۔ وہاں روزگار میں 45فیصد اضافہ ہوا، جو کہ میونسپل اور پنچایت سطح کی نئی سکیموں کے تحت گورننس کی معمولی غیرمرکوزیت کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن یہ فوائد ریاستی آلات کی مجموعی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت کم ہیں۔اس کمی کی ایک وجہ بلاشبہ جموںوکشمیر پولیس کی وزارت داخلہ کے تحت منتقلی جس میں 1.3لاکھ سے زائد اہلکار ہیں تاہم اس کے باوجود بھی 2019.20مجموعی تعداد 5.29لاکھ کا 2024-25میں 2,81,350تک سکڑائو یقینی طور پر تشویشناک ہے اور یہ صاف بتا رہا ہے کہ حکومتی سیکٹرمیں روزگار کے مواقع محدود کئے جارہے ہیں۔
مفت بھرتی کا وعدہ
منشور میں شامل ایک اور اہم وعدہ، تمام سرکاری ملازمتوں کیلئے درخواست فیس ختم کرنے کا تھا، لیکن مختلف بھرتیوں میں امیدواروں سے فیس کی وصولی بدستور جاری ہےبلکہ اب یہ فیس وصولی حکومت کیلئے آمدن کا بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔ایک طرف جہاں مستقل ملازمتیں سکڑ رہی ہیں،دوسری طرف بھرتی کا عمل خود ایک صنعت بن گیا ہے۔ جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن، جو گزیٹیڈ عہدوں پر بھرتی کرتا ہے اور جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ ، جو کہ نان گزیٹڈ عہدوں پر بھرتی کرنے کا پابند ہے، نے مارچ 2016 سے ستمبر 2020کے درمیان ملازمت کے درخواست دہندگان سے فیسوں کی مد میں 77.09کروڑ روپے جمع کیے ہیں۔اکتوبر 2024سےاکتوبر2025تک ان دو اداروں نے مزید 31.75کروڑ روپے کمالئے تھے اور حد تو یہ ہے کہ صرف 75نائب تحصیلدار اسامیوں کی بھرتی کیلئےجموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ نے درخواست فیس کی مد میں امیدواروں سے 6.43کروڑ روپے سے زیادہ وصول کئے۔اس پر طرہ یہ کہ وزیراعلیٰ نے ایسی فیس وصولی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بھرتی فیس سے امتحانات کے انعقاد کے دوران ہونے والے انتظامی اور آپریشنل اخراجات بشمول اشتہار، درخواست کی کارروائی، پرنٹنگ، افرادی قوت کی تعیناتی، اور بھرتی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی انتظامات کو پورا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا تھاکہ جموں و کشمیر میں فیس کا ڈھانچہ ملک بھر میں دیگر سرکاری بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کی طرف سے وصول کی جانے والی فیس سے کم ہے۔
عوامی تاثر اور پارٹی موقف
عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ سرکار اپنے دیگر وعدوں کی طرح روزگار کی فراہمی کے وعدوں سے بھی بھاگ رہی ہے اور اس کیلئے نت نئے بہانے تراشے جارہے ہیںتاہم حکمران جماعت یہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار کا کہنا ہے کہ خالی اسامیاں پی ایس سی اور جے کے ایس ایس بی کو ریفر کی جا چکی ہیں اور تمام وعدے مدتِ اقتدار کے اختتام تک پورے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا’’ہر وعدہ پورا کیا جائے گا، اور مدتِ اقتدار کے اختتام پر ہم اپنا رپورٹ کارڈ پیش کریں گے‘‘۔