بیسویں صدی میںمغربی فکر و تہذیب سے متاثر نئی نسل مختلف ذہنی اشکالات اور تہذیب حاضر کے نت نئے مسائل اور الجھنوں میں گھری ہوئی تھی ۔مولانا مودودی نے اس کو بہ حسن و خوبی مخاطب کیا ہے ۔ان کی تحریریں اور ان کا تحریر کردہ لٹریچر ان کی حیات ہی میں دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوکر ہر جگہ پہنچ گیا اوراس کے نمایاں اور مفیداثرات جابجا قبول کئے گئے۔
مولانا مودودی نے چھہتر سالہ زندگی میںساٹھ سال تحقیق و تصنیف میں گزارے اور اس دوران ایک عظیم الشان علمی ، فکری اور اصلاحی لٹریچر تیار کیا ۔مولانا مودودی دن رات کے اکثر اوقات تحریر و تصنیفی اور فکری کاموں میں لگے رہتے تھے جس کے نتیجے میں وسیع لٹریچر اپنے پیچھے چھوڑ گئے ۔انھوں نے تحریری کام کا آغاز بچپن سے ہی کیا ،انھوں نے بارہ برس کی عمر میں سرورعالم محمد ﷺ کی سیرت پاک لکھنا شروع کی تھی ۔ جس کے صرف آٹھ صفحات دستیاب ہوسکے ۔ ان کی پہلی تحریر ۱۹۱۶ء میںمحض ۱۳ ؍سال کی عمر میں منصہ شہود پر آئی جب شیخ عبدالعزیز شاویش (۱۸۷۶ء ۔۱۹۷۹) کی کتاب ’’الاسلام ولاصلاح ‘‘کے ایک باب اور اس کے فورا بعد مصر کے جدت پسند مفکراورنقاد قاسم امین (۱۹۰۸۔۱۸۶۳) کی کتاب’ المراء ۃ الجدیدۃ ‘‘کے ایک مضمون کو مولانا نے اردو کا جامہ پہنایا ۔ اس کے دو سال بعد مولانا مودودی کا پہلا باقاعدہ مضمون ۱۹۱۸ ء میں مشہور و معروف علمی و ادبی جریدہ معارف میں ’’برق کہربائی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ۔ سید ابوالخیر مودود ی (مولانا مودودی کے بڑے بھائی) کے مطابق مولانا کا پہلا مضمون’ تمدن‘ نامی رسالے میں’’تمدن حیات انسانی ‘‘ کے عنوان سے چھپا تھا اور یہ مضمون انھوں نے کسی کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کی معلومات کی روشنی میں لکھا تھا۔ اس سے مولانا کا ذوق مطالعہ اور ان کی دلچسپیوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔ اس کے بعد انھوں نے باضابطہ مضمون نگاری کا آغاز کیا ۔تاج جبل پور ، الجمعیہ دہلی ، معارف ،نگار ، مخزن کے علاوہ دوسرے علمی ، فکری ، ادبی اور تحقیقی رسالوں میں ان کی تحریریں شائع ہو نے لگیں جن سے ان کی قلمی صلاحیت میں نکھار آگیا۔انھوں نے ۱۹۲۶ء میں محض ۲۳ سال کی عمر میں صرف چھ مہینے میں’ ’الجہاد فی الاسلام ‘‘ جیسی معرکتہ الآراء کتاب لکھی جو ایک اعلیٰ پایہ کی تحقیقی نوعیت کی تصنیف ہے ۔اس کتاب کو تصنیف کرنے کے دوران انھوں نے جس محنت ،لگن اور عرق ریزی سے کام لیا اس کے متعلق وہ خودلکھتے ہیں کہ ’’یہ کتاب لکھتے ہوئے مجھے جو ریسرچ کرنا پڑی ، اس دوران ماضی و حال کے مفسرین ،محدثین، فقہاہ اور اسلامی مفکرین کی کتابوں کی ایک بڑی تعداد مجھے کھنگا لنا پڑی، اس مطالعہ اور جدوجہد کے نتیجے میں میرے ذہن میں اسلام کے متعلق واضح تصور مل گیا ‘‘ مولانا نے اس کتاب میں واضح کیا کہ دنیا میں حقیقی امن و صلح کا قانون اگر کسی مذہب کے پاس ہے تو وہ صرف اسلام کے پاس ہے ۔ باقی تمام مذاہب و نظریات نے نہ صرف جنگ کے لیے بلکہ دوسرے اہم معاملات میںبھی تخریب کاری کے سوا کچھ بھی نہیں کیاہے۔ مولانا مودودی کی یہ قیمتی تحقیق جمعیت علماء ہند کے سہ روزہ ترجمانـ ’’الجمعیہ‘‘ دہلی میں ۲۲ شماروںمیں مسلسل اسلام کا قانون جنگ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس کی پہلی قسط ۲۸ ؍رجب بمطابق۲ فروری ۲۷ ۱۹ ء میں شائع ہوئی ۔ یہ سلسلۂ مضامین سہ روزہ’ ’الجمیعہ‘‘ میں تین مہینے سے زائد عرصے تک جاری رہا، اس کی آخری قسط ۲؍ مئی ۱۹۲۷ء میں شائع ہوئی ۔ موضوع اور تحریر کی اہمیت کے پیش نظر ناظم جمعیت علمائے ہند مولانا احمد سعید ؒنے پہلے شمارے کے آخری مکمل صفحے پر ایک اشتہار کے ذریعے ایک نوٹ لکھا اور قارئین کو توجہ دلائی کہ ــ ’’ مخالفین اسلام کے غلط پروپیگنڈے کی قلعی کھولنے اوراسلام کی حقیقی اور سچی تصویر کو واضح کرنے کے لئے’ الجمعیہ ‘میں ایک پرُ از معلومات سلسلۂ مضامین شروع کیا جارہا ہے جو مخالفین کے لئے مشعل ہدایت اور مسلمانوں کے لئے بصیرت کا ذریعہ ہوگا‘‘۔ مولانا احمد سعید ؒنے اشتہار میں مزید لکھا کہ ’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ صلح و جنگ کے احکام کو صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق پڑھیں اور سمجھیں اور ہندوستان کے تمام قومی و مذہبی معاملات میں سچی رہنمائی سے مستفید ہوں تو فوراً ۱۲؍ فروری ۱۹۲۷ء سے’’ الجمعیہ ‘‘کو التزام سے پڑھیں اور اپنے اصحاب اور اقربا ء کو پڑھائیں اور سنائیں اور حق کی آواز کو دوسروں تک پہچانا ہر مسلمان کا انسانی، اخلاقی اور دینی فرض ہے‘‘مولانا مودودی کو اس کتاب سے زبردست حوصلہ افزائی ملی او ر اس کے فورا بعد ان کی فکری جولان گاہ آسمان کو چھونے لگی۔یہی وہ دور ہے جب انھوں نے سوچنے ،سمجھنے اور پرکھنے کا زاؤیہ متعین کیا ۔یہیں سے آپ کی صحافتی زندگی مفکرانہ و مجتہدانہ زندگی میں تبدیل ہوگئی ۔اسی دور میں باطل افکار ونظریات پر نہ صرف تنقییدی جائزہ لینا شروع کیا بلکہ بہترین اسلوب اور خوب صورت طرز استدلال سے مغربی فکر و تہذیب کا محاکمہ کرنے کا آغاز کیا اور تحریک اسلامی کو وجود میں لانے کے لئے بھی اسی دور میں منصوبہ بندی کرنے لگے۔اسلام کو عالمگیر پیغام کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کرنے کا محاذ سنبھال لیا۔
مولانا مودودی نے ۲۵؍ کی سال عمر میں تاریخ حیدر آباد دکن پر تحقیق و تصنیف کاآغاز کیا ۔ اس دوران ’ سلاجقہ‘، ’ دکن کی مختصرتاریخ ‘ اور ’’دولت آصفیہ اور حکومت برطانیہ کے سیاسی تعلقات‘‘ پر مقالات تحریر کئے جو شائع بھی ہوچکے ہیں ۔ اسی دور میں وہ تاریخ دکن پر ایک مفصل کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے جس کے لیے انھوں نے ۲۹ صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی خاکہ مع مآخذ و مصادر بھی تیار کیا تھا ۔ اسی دور کی ایک اور تصنیف ’’ دولت آصفیہ اور حکومت برطانیہ‘‘ کے نام سے ہے جو پہلی بار دہلی سے ۱۹۲۸ء میں شائع ہوئی۔ مولانا مودودی نے ۱۹۲۹ ء سے باضابطہ صحاٖفت میں قدم رکھا اور سب سے پہلے’’ الجمیعہ ‘‘ نکالا جو جمعیت علمائے ہند کا ترجمان تھا ۔۱۹۳۲ء سے حیدر آباد دکن سے ماہنامہ ترجمان القرآن جاری کیا جو ایک تفسیری رسالہ تھا جس کے ذریعے سے انھوں نے نہ صرف اظہار دین اور اقامت دین کے لیے راہیں ہموار کیںبلکہ اسلام کو متحرک اور مکمل نظام زندگی کی حیثیت سے پیش کیا ۔ ترجمان القرآن ایک تحریک بن کر برصغیر کے فکری منظر نامے پر مئوثر پکار ثابت ہوا ۔ یہ محض ایک رسالہ نہ تھا بلکہ ایک عالمگیر دعوت کا ترجمان تھا ۔ یہی ترجمان تحریک اسلامی کومنصہ شہود پر لانے کے لیے ایک اہم وجہ بنی ۔ ۱۹۳۴ ء کے آغاز میں ایک بحث شروع ہوئی تھی کہ زمین کے معاملے میں اسلامی قانون کا منشاء کیا ہے ، آیا وہ اس کو اجتماعی ملکیت بنا دینا چاہتا ہے یا افراد کی شخصی ملکیت ہی میں رہنے دیتا ہے ؟ اس سوال کا مفصل جواب دینے کے لیے انھوں نے اپنے قلم کو جنبش دے کر ترجمان القرآن میں مضامین لکھے جو بعد میں ’’مسئلہ ملکیت زمین‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوئی۔ بیسوی صدی کی چوتھی دہائی سے ایک مسئلہ بہت زور و شور کے ساتھ یہ اٹھا کہ مسلمانوں کے ازدواجی معاملات میں رائج الوقت قانون کے نقائص کی وجہ سے خرابیاںپیدا ہورہی ہیں ۔ چناںچہ اس بات کو شدت سے محسوس کیا گیا کہ ان خرابیوں کو دور کرنے کے لئے اسلامی احکام اور تعلیمات کی روشنی میں کوئی نتیجہ خیز سعی ہونی چائیے ۔ اس تعلق سے مولانا مودودی نے ۱۹۳۵ء میں’’ حقوق الزوجین ‘‘کے عنوان سے ایک طویل سلسہ مضامین ترجمان القرآن میں لکھا جو بعد میں اسی نام سے شائع بھی ہوئی۔ اس تصنیف میںاسلامی قانون ازدواج کے مقاصد، نکاح و طلاق کے مسائل اور یورپ کے قوانین طلاق و فسخ و تفریق پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔مزید یہ کہ اس میں انھوں نے ایسی تجاویز پیش کیں جن سے مسلمانوں کی موجودہ قانونی مشکلات صحیح طریقے سے حل ہوسکتی ہے ۔ ’’پردہ ‘‘ مولانا مودودی کی اہم تصنیف سمجھی جاتی ہے ۔مغربی دانشوروں اور حقوق نسواں کے علمبرداروں نے پردہ اور حجاب پرتابڑ توڑ حملہ کیا اور اس کو نہ صرف عورتوں پر ظلم و جبر سے تعبیر کیا بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا بھی ذریعہ بنایا۔ مولانا مودودی نے اہم موضوع پر قلم اٹھایا اور انتہائی علمی اور تحقیقی اور مدلل انداز مغرب کی معاشرتی نظام کا مفصل و مدلل تنقیدی جائزہ لے کر قرآن و سنت کی روشنی میں امت مسلمہ کی درست رہنمائی کی ۔انھوں نے ’’مسئلہ قومیت‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھ کرقرآن و حدیث کی روشنی میں دو قومی نظریہ مسلم قوم کے تشخص کے حق میںجوابات فراہم کیں ۔اسی بحث کو آگے بڑھانے کے لیے برصغیر میں مسلمانوں کے سیاسی صورت حال اور موجودہ سیاسی جدوجہد میں مسلمانوں کی شراکت اور آئندہ طریق عمل کے متعلق انھوں نے اگست ۱۹۳۷ء سے ستمبر ۱۹۳۸ ء تک ترجمان لقرآن میں سیاسی کشمکش میں مسلمانوں کے طرز عمل پر گفتگو کی جو بعد میں ’’ مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘‘ کے عنوان سے تین جلدوں میں شائع ہوئی۔جب مولانا حسین احمد مدنی نے ’’ متحدہ قومیت اور اسلام ‘‘ کے عنوان سے ایک رسالہ لکھاجس میں انھوں نے نظریہ قومیت کے ـحق میں یہ دلیل دی کہ ’’فی زمانہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں نہ کہ مذہب سے ‘‘ مولانا مودودی نے مولانا حسین احمد مدنی کے خیالات کی تغلیط میں اسی عنوان ’’ متحدہ قومیت اور اسلام ‘‘ سے ایک مدلل اور مفصل مقالہ لکھا ۔ مولانا مودودی نے دلائل اور براہیں کی روشنی میں یہ واضح کیا کہ اسلام کا اپنا ایک علٰحیدہ تصور قومیت ہے جس میں آفاقیت اور ہمہ گیریت ہے اور اسلام نے رنگ و نسل اور وطن و زبان کی تنگ نائیوں کو یکسر رد کر کیایک انسانی جمعیت کا تصور پیش کیا ہے ۔ ۱۹۳۸ء ہی میں انھوں نے’’ تحریک آزادی ہند اور مسلمان ‘‘کے عنوان سے کتاب لکھ ڈالی جس میں انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی مسئلہ کے حل کے لئے کار آمد تجاویز بھی پیش کیں۔ مولانا نے تفہیم القرآن جیسی معرکتہ الآراء تفسیر لکھ کر امت پرایک بڑا احسان کیا جس میں انھوں نے عام فہم اور دلکش انداز میں عصر حاضر کے مسائل کو مد نظر رکھ کر قرآنی تعلیمات کو واضح کیا ۔تفہیم القرآن بیسویں صدی میں تفسیری لٹریچر میں ایک قیمتی اضافہ ہے جو متنوع خصوصیات و امتیازات کی وجہ سے عوام و خواص میں بے حد مقبول ہے ۔مولانا مودودی نے تفہیم کو فروری ۱۹۴۲ء میں ضبط تحریر میں لانا شروع کیا اور ۳۰ سال کی مدت میں ۷ جون ۱۹۷۲ء میں پایہ تکمیل تک پہنچائی ۔ یہ ۶ ضخیم جلدوں (۴۱۴۳ صفحات)پر مشتمل ہے۔انھوں نے تفہیم لکھنے کے لئے کتابی معلومات اور تحقیق پر انحـصار نہیں کیا بلکہ ان تاریخی مقامات کا سفر کیا جن کا تذکرہ قرآن مجید میں آیا ہے ۔ انھوں نے کئی ماہ تک اردن، سحرائے سینا ،کوہ طور اور مصر و شام کے علاقوں کا وسیع دورہ کیا اور اس دوران اہم لائبریریاں اور میوزیم دیکھے جو مختلف انبیاء اور اور تاریخی اقوام سے متعلق ہیں ۔ ان کا بچشم خود مطالعہ و تجزیہ کیا ۔ انھوں نے فلسفہ، تاریخ،سائنس ، اجتماعی علوم اور دینی علوم کا جتنا مطالعہ کیا ہے، ان سب سے اس تفسیر لکھنے میں کام لیا اور وہ ہر وقت تحقیق اور حوالوں سے ہی بات کرتے ہیں ۔تفہیم الاحادیث آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے جن کو مولانا عبدالوکیل علوی نے مرتب کیا ہے ۔ موصوف نے مولانا مودودی کی مختلف کتب میں پھیلی ہوئی احادیث اور ان کی وضاحات و تشریحات کو کافی محنت اور عرق ریزی کے ساتھ جمع کر دیا ہے ۔ احادیث پر مبنی شروحات کایہ ایک قیمتی اضافہ ہے۔ ’ ’سیرت سرورعالم‘‘ ایک اور مایہ ناز تصنیف ہے، یہ اگر چہ ان کی کوئی باقاعدہ تصنیف نہیں ہے اس کو مولانا نعیم صدیقیؒ اور مولانا عبدالوکیل علوی ؒنے تفہیم القرآن اور کچھ دوسری تصانیف سے مرتب کر کے دو جلدوں میں شائع کیا ۔ اب اس کی تیسری جلد بھی شائع ہو چکی ہے ۔مولانا نے اس میں معتدل تجزیے کے ساتھ ساتھ منفرد اسلوب میں سیرت رسولﷺ کو روشناس کرایا ۔انھوں نے اس کام کے لیے سیرت کے اصل ماخذ سے استفاد ہ کیا ہے یعنی کتب احادیث اور سیرت پر لکھی ہوئی محدیثین کی کتابیں ہیں۔تاہم جدید دور کی کتب سیرت کا بھی بھر پور مطالعہ کیا ہے ۔’’کتاب الصوم‘‘ دروس حدیث پر مشتمل ہے جس میں میں مولانا نے ’’مشکوٰۃ المصابیح ‘‘کے ایک جز کتاب الصوم کی ایک ایک سو سنتالیس احادیث کا اردو ترجمعہ کرنے کے ساتھ ساتھ مختصر تشریح بھی کی ہے ۔ مولانا مودودی نے فکری اور تحقیقی لٹریچرکے ساتھ ساتھ عام فہم لٹریچر بھی تیا رکیا جن میں خطبات ، رسالہ دینیات ، دین حق ،سلامتی کا راستہ ،توحید اور شرک ،توحید و رسالت کا عقلی ثبوت ،اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر ، اسلام کس چیز کا علمبردار ہے ،اسلام کا نظام حیات ،اسلامی تذکیہ نفس، اسلام اور جہالت، شہادت حق، اور بناو اور بگاڑ قابل ذکر ہیں لیکن قرآن کی چار بنیادی صطلاحیں اور اسلامی عبادات پر تحقیقی نظرایک اعلیٰ درجہ تحقیقی نوعیت کی تصانیف ہیں۔ موخرالزکر میں انھوں نے عقلی اور نقلی دلائل سے بھر پور کام لیا ۔خطبات اسلامی لٹریچر میں ایک اہم اضافہ ہے ۔
مولانا مودودی جب دار السلام (پٹھان کوٹ،پنجاب ) میں قیام پذیر ہوئے تو وہا ںمسجد میں نماز جمعہ کا سلسلہ شروع کیا اور مقامی لوگوں کو اسلام کے متعلق بنیادی باتیں سمجھانا شروع کیں ۔ یہ مجموعہ ان ہی خطبات جمعہ پر مشتمل ہے ۔ جو ۱۹۴۰ء میں پہلی مرتبہ پٹھان کوٹ سے شائع ہوئی ۔’’دینیات ‘‘بھی مولانا کی ایک اہم تالیف ہے جس میں اسلام کے عقائد ،عبادا ت اور اعمال کی اہمیت و افادیت اور ان کی حکمتوں کو آسان اور شستہ زبان میں پیش کیا گیا ہے۔دینیات اول روز سے ہی دنیا کے مختلف تعلیمی اداروں میں شامل نصاب ہے۔ ’’پردہ‘‘بھی ایک شاہکار کتاب ہے جس میں مولانا نے واضح کیا کہ مغربی فکر وتہذیب نے کس طرح عورت کے حقوق اور اس کا لباس چھین لیا اور کیسے اسلام نے عورت کو حقوق دلا کر اس کو بلند مقام و مرتبہ عطا کیا ۔’’اسلام اور ضبط ولادت‘‘ بھی ایک اعلی پایہ کی کاوش ہے جس میں ضبط ولادت پر سیر حاصل گفتگو کی گئی اور اسلام کا واضح موقف پیش کیا گیا ۔اسلام کا سرچسمہ قوت ان اداریوں پر مشتمل کتاب ہے جو الجمعیہ میں کی زینت گاہے بہ گاہے بنتے رہے۔
رابطہ :639770058
(بقیہ بدھوار کےشمارے میںملاحظہ فرمائیں)