جواہر لال نہرو یونیورسٹی۔۔۔نئی دہلی
بدعنوانی :جوحکومت بدعنوانی اور کرپشن کا خاتمہ کرنے کے وعدے دے کراقتدار میں آئی تھی آج وہی رافیل طیاروں کے گھوٹالے میں آئیں بائیں شائیں کر رہی ہے۔اگر رافیل سودے بازی کی بات کی جائے تو یہی بات ظاہر ہے کہ جس جنگی جہاز کی قیمت ۲۰۱۴ ء سے قبل ۵۲۶؍ کروڑ روپے تھی، وہی جہاز ۲۰۱۶ء میں حکومت تقریباــ ً۱۶۰۰؍ کروڑ روپے میں حکومت خرید رہی ہے ۔ یہ کیا صاف صاف بد عنوانی نہیں ہے؟ رافیل کا معاملہ سب سے بڑا معاملہ ہے جس میں مبینہ طور ۳۰ ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالا ہوا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس معاملے کی جانچ کے لئے مشترکہ پارلیمانی کمیٹیJPC) (کا قیام عمل میں نہیں لایا۔بہر حال یہ معاملہ فی الحال عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے جس کے فیصلے کاقوم کو انتظار ہے۔
شدت پسندی:
بھاجپا حکومت کا اگر شدت پسندی کے مسئلے پر کارکردگی کا تجزیہ کریں تو یہ معلوم ہوگا کہ ایسے خونین واقعات میں جتنا اضافہ اس حکومت میں ہوا ،اُتنا آج تک کسی مرکزی حکومت میں نہیں ہوا۔۱۴ فروری۲۰۱۹ء ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ میں چھپی خبر کے حوالے سے سال ۲۰۱۴ء اور ۲۰۱۸ء میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ۱۷۶؍ فی صد شدت پسندی سے موسوم واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ہر مہینے جموں وکشمیر میں تقریبا ۱۱؍ فوجی مارے گئے ہیں ۔’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کے مطابق ۲۰۱۴ء میں ۲۲۲؍ شدت پسندی کے واقعات وقوع پذیر ہوئے۔۲۰۱۵ء میں ۲۰۸؍۲۰۱۶ء میں ۳۲۲؍۲۰۱۷ء میں ۳۴۲؍اور ۲۰۱۸ء میں سب سے زیادہ ۶۱۴؍ تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں ۔اس ڈیٹا سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کس طرح عسکریت پسندی کی شرح میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔اس سے اخذ ہوتا ہے کہ مودی حکومت اس محاذ پر بھی ناکام ہوگئی ، باوجودیکہ وزیر اعظم اپنی تقریروں میں کہتے رہے کہ نوٹ بندی سے شدت پسندی اور شدت پسندوں کی کمر ٹوٹ گئی۔
ان واقعات میں ہندوستانی شہریوں اور افواج کی ہلاکتوں کا جائزہ لیں تو ’’واشنگٹن پوسٹ ‘‘کے مطابق پچھلے تیس سالوں میں سب سے زیادہ ہندوستانی فوج کو ہوا ہے۔وزیراعظم یہ کہتے تھے کہ ہماری لڑائی کشمیر کے لئے ہے کشمیریوں سے نہیں ہے مگر یہ کیا کہ ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۸ء کے درمیان ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کے مطابق وادی میں ۱۳۱۸؍ لوگ مار ے گئے جن میں ۱۳۸؍ وہ معصوم کشمیری ہیں جو بالکل بے گناہ تھے اور یہ کل ہلاکتوں کا 10.49%بنتا ہے۔اس طرح ان ہلاکتوں میں ۳۳۸؍ ہلاکتیں ہندوستانی افواج کی ہوئیںجن کے بلیدان کے سبب دیش واسی چین کی نیند سوتا ہے ۔یہ کل ہلا کتوں کا 25% بنتا ہے۔بقیہ ہلاک شدہ گان میںجنگجونوجوان شامل ہیں جن سے ہمیں کوئی مطلب نہ بھی ہو لیکن کیا یہ جو ۴۷۸ ؍ افراد کی جانیں کام آئیں ان کی ماؤں کے پاس دل نہیں کہ جب یہ اپنے بچوں کی موت کی خبر سنتی ہوں گی تو کیاوہ تو زندہ نہ مر جاتی ہوں گی؟کیا ان کی ممتا نہیں تڑپتی ہوگی؟ برہان وانی کے بعد احتجاجوںمیں شامل کشمیریوں پر اندھا دھند پیلٹ برسائے گئے جن سے ان کی زندگیاںتباہ ہوگئیں ، متاثرین میںسینکڑوں نوجوانوں کی زندگی بھر کے لئے بینائی چلی گئی۔اس کا ازالہ کون کرے گا ؟ سوال یہ ہے کہ وزیراعظم صاحب کی یہ بات کہ ہماری لڑائی کشمیریوں سے نہیں ہے، مگر مارے گئے نفوس بھی ہمارے وطن عزیز کے شہری ہی توتھے ۔ سچ یہ بھی ہےکہ تشدد سے لوگ اور تشدد پسند ہو جاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی فوج کے ڈاٹا کے مطابق کشمیری نوجوانوں نے سب سے زیادہ جہادی تنظیم پچھلے دس سالوں میں جوائن کیا ہے۔اس وجہ تمام ذی شعور افراد کا ماننا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل بندوق اور شہادت سے نہیں حل کیا جا سکتا ،ا س کے لئے وہاں کی عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا اور ان کا دل جیتنا ہوگا۔بہر حال یہ تو صرف وادی کے اموات کا تذکرہ ہے باقی کے احوال چھوڑ دیجئے۔
کسانوں کی خود کشی
مودی حکومت فقیری کا دعویٰ کرتی ہے اور اپنے آپ کو غریبوں کا مسیحا بنا کرپیش کرتی ہے جو ہندوستان سے غربت کو دور کرنے میں کوشاں ہے مگر اسی حکومت میں سب سے زیادہ کسانوں نے خودکشیاں کی ہیں،چاہے یہ مہاراشٹر کے کسان ہوں یا تمل ناڈو کے، مدھیہ پردیش کے غریب کسان ہوں یا راجستھان،یوپی اور بہار کے، غرض ہر جگہ غریب کسانوں نے اپنی جانب حکومت کی بے اعتنائی ا ور لاپروائی سے مایوس ہوکر قہر درویش بر جان درویش کے مصداق اپنی جانیں لیں۔
ایک آنسو بھی حکومت کے لئے خطرہ ہے
تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا
میڈیا کی آزادی
میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ۔یہ عوامی مفاد اور عوام کی آواز کو بر سر اقتدار پارٹی کے کانوں تک پہنچاتی ہے۔ سرکار کی غلط پالیسیوں کو منظر عام پر لاکر اس کا سدھارکرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے لیکن یہ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب میڈیا اپنے ضمیر کو نہ بیچ کھائے بلکہ آزاد اور غیر جانب دار بن کر عوام کی آواز بن گئی ہو۔جب ہم ۲۰۱۴ء کے بعد ہندوستانی میڈیا کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے پیشہ کے تقدس کا سودا کرکے حکومت کی گود ی بن بیٹھی ہے ۔وہ میڈیا جو جمہوریت کے لئے چوتھی ستون سمجھی جاتی ہے، آج وہی جمہوریت کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔افلاطون نے اپنی مثالی ریاست سے شاعروں کو در بدر کرنے کی بات کہی تھی کیونکہ وہ اخلاقی زوال کا باعث بنتے ہیں لیکن ا گر آج کوئی مثالی ریاست کی بیخ کنی چاہتا ہو تو اسے ریاست سے میڈیا کا وجود ختم کرنا ہوگا ۔مودی سرکار کے زیر سایہ ہندوستانی میڈیا نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے ملک و قوم کے قلوب و اذہان کو پراگندہ کر کے رکھا ہے اور اس کے نتائج ہجومی تشدد ، تعصب ، نفرت اورغلط بیانیاں ہیں۔گزشتہ پانچ سال سے گودی میڈیا اقتدار کی قصیدہ گوئی ہی نہیں کرتا بلکہ انہیں خبروں کو نشر کرتا جن سے حکمران بھاجپا کو فائدہ ملے۔اس عموم کے برعکس اگر کسی بے باک، باضمیر اور غیر جانب دار میڈیائی ادارہ حق گوئی کا ’’جرم ‘‘ کیا یا جھوٹ کا پردہ فاش کرنے کی جسارت کی تو اس پر دبائو ڈال کر دھول چٹوائی گئی ۔آج جن نازک حالات سے ہمارا ملک گزر رہا ہے، وہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے چلینجوں بھرا آزمائشی دور ہے لیکن زمانے کی تاریخ اپنے اوراق میں ہمارے حاکموں کا یہ عجیب وغریب حال لکھ رہی ہے کہ زبانی زبانی و ہ خود کو چوکیدرار کہلاتے پھر رہے ہیں اور نیرومودی ، للت مودی ا ور وجے مالیہ وغیرہ ہزرواں کروڑ کو چونا لگاکر ملکی سرمایہ کو لوٹ کر بدیس بھاگ رہے ہیں۔اس پر طرہ یہ کہ بجائے اس کے کہ ہمارا قومی میڈیا ہمارے حکمرانوں کا آئینہ دکھائے ، یہ درباری قصیدہ خوان بن کر ان نامی گرامی چوروں سے چشم پوشی کر رہاہے۔اس سے بڑھ کر ہماری جگ ہنسائی کی اور کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ میڈیا مندر اور مسجد جیسے تفرقات اچھال کرہمیںآپسی نفرتوں اور شکوک کے سمندر میں ڈبو رہے ہیں۔تاریخ یہ بھی اپنے صفحات میں درج کررہی ہے کہ جب دوسری قومیں ستاروں پر کمند ڈال رہی ہیں ہم گھرو اپسی، لوجہاد ، سہ طلاق ، تحفظ گائے کے نام پر اپنے ہی ملک کے وفادار باشندوں کو کہیں موت کے گھاٹ اُتار رہے ہیں ، کہیں ان کی مارپٹائی کر رہے ہیں ، کہیں ان کا جینا دشوار کر رہے ہیں۔
آنے والے زمانے میں جب مستقبل کی نسلیں تاریخ کے تہ خانوں کو کھنگالیں گی تو وہ ہمارے مردہ وجود سے یہ سوال کریں گی کہ آپ نے ہماری بہتری کے لئے کیا کیا؟کیا آپ نے ہماری اچھی تعلیم کا بندو بست کیا تھا؟کیاآپ نے ہماری صحت کے لئے اچھے اسپتال تعمیر کروائے تھے ؟ کیا آپ نے بھائی چارے کو فروغ دینے کی کوئی تد بیر کی ؟ تو ہمارا مردہ وجودان کو اس کے اور کیا جواب دے گاکہ ہم نے خود کو وزیراعظم نریندر مودی کی کرسی کا چوکیدار بنایا تھا،ہم جواب دیں گے کہ ہم نے آپ کو سرزمین ہند سے اقلیتیں ختم کر نے اور کثرت میں وحدت کے تصور کو پاش پاش کر نے کی تاریخ بنائی اورا س کام میں ’’دیش بھکت‘‘میڈیا نے ہمارے جذبات کو بر انگیختہ کر نے خوب مدد کی تھی کہ ہم ہر روز صبح شام ہندو مسلم موضوعات پر منافرت بھرے مباحثے کرواتے تاکہ کسی بھی انسان کا دھیان ملک کے اصل مسائل کی طرف نہ چلاجائے، کوئی یہ نہ سوال کر ے کہ گیس اور تیل کی قیمتوں میں اتنا ہوش رُبا اضافہ کیسے ہوگیا؟کوئی یہ نہ سوچنے لگے کہ ہمارے بچوں بچیوں کی اچھی صحت کے لئے اسپتال اور طبی سہولیات غائب کیوں ہیں؟ملک اور معاشرے کی ترقی کے لئے اچھے اسکول اور یونیورسٹیاں کیوں نہ بنیں ؟ ہمارے وزیراعظم مودی جی ان سوالوں کا کیا بھی جواب دیں،اس سے قطع نظر ہم اس کا کوئی جواب نہ دے سکیں گے ۔
سرکاری ایجنسیاں
اب ذرا اس پانچ سالہ دور اقتدار میں ان سرکاری ایجنسیوں کی طرف توجہ فرمالیںجو مرکزی حکومت کے ماتحت ہوتے بھی دستور ہند کے مطابق آزاد اور مقتدر ہیں ۔ سی بی آئی کے راکیش استھانہ اور آلوک ورما کا معاملہ ہم سب کو ابھی یاد ہی ہے ۔وہ ایجنسی جس پر لوگ آنکھ بند کرکے یہ مانگ کیا کرتے تھے کہ جرائم کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے ، اسی ادارے کے دو سینئر افسران ایک دوسرے پر رشوت کا الزام لگا رہے ہیں۔آر بی آئی(RBI) کے سربراہ ارجت پٹیل کے استعفے کی وجہ پر بھی غور کریں ،نوٹ بندی کے مسئلے بلا تعصب غور فرمائیں تو معلوم ہوگا جیسا کہ حق اطلاعات کے حوالے سے یہ راز فاش بھی ہوا کہ نوٹ بندی کا فیصلہ آر بی آئی کی منظوری کے بغیر لیا گیا تھا۔آر بی آئی نے قطعاً اس فیصلے کی اجازت نہیں دی تھی اور نوٹ بندی کے ۳۸ ؍دن منظوری بعد دی تھی کیونکہ یہ اس کی مجبوری تھی۔ ناقدین کہتے ہیں کہ وہ EC ہو یا ED پر بھی سرکار نے دباؤ ڈال کر انہیں اپنا کٹھ پتلی بنایا لیا اور اپنے من مانے طریقے سے اپنے مطابق کام کام کروایا۔ان اداروں کی آزادی پر قدغن لگا کر ان کی اختیارات سلب کرلئے گئے۔انہیں جانب داری سے کام کرنے پر مجبور کرکے ان کی غیر جانب داری چھین لی۔آزاد ہندوستان کی تاریخ میں جنوری ۲۰۱۸ء کا ایک نادر واقعہ رونما ہوا جب عدالت عظمیٰ کے چار سینئر ترین جج صاحبان باہر آئے اور عوام کو جمہوریت بچانے کے لئے کہنا پڑا : ’’سپریم کورٹ میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ صحیح نہیں ہورہاہے، جمہوریت خطرے میںہے،سپریم کورٹ کو کام کرنے نہیں دیا جا رہا ہے‘‘ یہ سب کچھ وہ لوگ کہہ رہے تھے جو دوسروں کو انصاف دیتے ہیں ،جو مظلوموں کی آہ وبکا سنتے ہیں، جو ملکی آئین وقانون کی نگہداشت کر تے ہیں ۔
دلتوں و اقلیتوں کی ہراسانیاں:
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مودی حکومت کے برسر اقتدار آتے ہی ہندوستان میں جگہ جگہ ہجومی حملوں کی خبریں آنے لگیں کہ مسلمانوں کونشانۂ عبرت بنایاجارہا ہے اور انہیں بلا تکلف موت کے گھاٹ اُتار دیا جارہاہے ۔جو فرقہ پرست تحفظ گائے کے نام پر انسانوں کی جان لیتے ہیں ، وہ جب دادری ،راجستھان وغیرہ میں ہوئے قاتلانہ حملوں کو یاد کرتے ہیں تو ان کے رونگھٹے یہ سوچ کر کھڑے ہوتے ہیں کہ کس طرح دن دھاڑے ہندوتو بھیڑ نے اخلاق احمد اور پہلو خان کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ، کہیں ظفرل کو زندہ جلادیا اور نجیب کو جے این یو سے اغواء کر لاپتہ کیا۔ان واقعات کے پیچھے صرف بھگوا دہشت گرد ہیں جو قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس کا مذا ق ا ُڑاتے پھر رہے ہیں کیوں کہ اس قماش کے دہشت گردوں کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ چنانچہ آج تک کسی ایک اعلانیہ مجرم کو کیفر کردارتک نہیں پہنچایا گیا ، جب کہ متاثرین مسلم کنبے انصاف پانے کے لئے درد ر کی ٹھوکریں کھاتے جا ر ہے ہیں ؎
دیکھو گے تو ہر موڑپہ مل جائیں گی لاشیں
ڈھونڈوگے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ چیزیں جو ملک ا ورمعاشرے کی ترقی کے لئے سازگاراور مددگار تھے، حکومت نے ان کو بالائے طاق رکھ کر یا پس پشت ڈال کر اپنی ساری توانائیاںہندو ؤں کو مسلمانوں سے ڈرانے اور اور موخرالذکر کوفرقہ پرستوں سے مروانے میں ضائع کیں کیونکہ ان دونوں کو آپس میں لڑوا کر ہی یہ اپنے اقتدار کی روٹی سینک سکتی ہے۔وہ اپنے حکومتی ناکامیوں کاملبہ کبھی پاکستان پر ، کبھی بھارتی مسلمانوں پر کبھی نہرو اور کانگریس کے سر ڈالتی رہی۔ افسوس کہ ہندوستان کے سادہ لوح عوام اقتداری سیاست کے دوغلے پن کی شناخت نہ کرسکے ہیں۔آج بھی بعض لوگ ’’میں بھی چوکیدار‘‘کے فسوں میں حکومتی ناکامیاں بھلا کر کرسی کے بھوکوں کے لئے پھر سے کام کرنے لگے ہیں ۔جو لوگ’’ میں بھی چوکیدار ‘‘ خالی خولی نعرہ بازی میں شامل ہو رہے ہیں،اگر وہ اپنے اور اپنے خاندان کی معاشی صورت حال،روزگار،صحت کے لئے اسپتال ،بچوں کی اچھی تعلیم کے لئے بہتر اسکول اورکالج وغیرہ عام مسئلوں پر غور وفکر کریں گے تو یہ بھی بھاجپا حکوت سے بددل ہوجائیں گے لیکن یہ !نہیں ایسا نہیں کریں گے کیونکہ کارل مارکس نے سچ کہا تھا کہ دھرم کے افیون سے کسی کو بھی مدہوش کیا جاسکتا ہے۔آج یہی افیم ہندوستانی عوام کو پلا ئی جا رہی ہے جس سے ان کے’’سنگھاسن‘‘ پر کوئی ضرب نہیں پڑنے والی ہے لیکن یاد رکھئے جس لمحہ ان مدہوشوں کی آنکھوں سے فرقہ پرستی کا خمار اُترے گا، عین اسی وقت عوام مخالف نیتیاں اپنانےسے سرکار کی کرسی ہلنے لگے گی۔
مختصراً یہ کہ جب بھی ہم غیر جانب دار ہوکر اپنے دماغ کے بند کواڑ کھولے حکومتی کام کاج کا جائزہ لیں گے تو ہمارے حصے میں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہوگاہم یہ ماننے پر مجبور ہوجائیں گے کہ حکومت ہر محاذ پر ناکام اور اپنی پالیسی میں فلاپ نظر آتی ہے ،چاہے یہ نوٹ بندی (DEMONITIZATION)ہو یا جی ایس ٹی(G.S.T.) ، یا دوسری سرکاری اسکیمیں ۔یہی وجہ ہے کہ اب سرکار ان ’’کامیابیوں‘‘ کا ذکر تقریروں میں نہیں گنا رہی ہیں۔روزگار کا مسئلہ آتے ہی اپنا دامن جھاڑ کر اور نظریں چرا کر راہ فرار اختیار کر جاتی ہیں ؎
کرسی ہے، تمہارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اُتر کیوں نہیں جاتے
اب چونکہ انتخابی ضابطۂ اخلاق نافذ العمل ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں ریلیوں اور سیاسی تقاریر کا دور دورہ ہے۔وزیر اعظم اور بی جے پی کے تمام اراکین اپنی تقریروں میں حزب مخالف بشمول کانگریس ملک کی تمام ناکامیوں اور محرومیوں کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیںلیکن یہ کیا کہ جس حکومت کے پاس ایوان میں مکمل اکثریت تھی وہ مٹھی بھر حزب اختلاف کے سامنے اتنی لاچار ہوگئی کہ پانچ سال تک عوامی مفاد کے لئے کوئی کا م ہی نہ کرسکی ۔الغرض ہندوستانی عوام کو اس بار بہت غور و خوض اور ودر اندیشی کا ثبوت پیش کرکے اپنا قیمتی ووٹ دینا ہوگاتاکہ اس بارعنانِ حکومت کسی سنجیدہ، کارکشا ، ڈائیلاگ بازی کے بجائے قوم وملک کے کام کر نے میں ماہر کسی پارٹی اور لیڈر کے ہاتھ آئے تاکہ ملک مہنگائی ، بے روزگاری ، بدعنوانی،بھائی چارے ، معاشی ترقی اور پُرامن ز ندگی سے بہرہ ور ہوجائے۔اس وجہ سے ضروری ہے کہ تمام رائے دہندگان متحد ہوکر جھوٹے اور مکار چہروں کو پولنگ میں مسترد کر کے ان اُمیدواروں کا انتخاب کریں جو ملک کو اندورنی ا ور بیرونی مسائل کوحقیقت پسندانہ حل کریں ۔اس لئے ندا فاضلیؔ کی یہ فہمائش اس بار ضرور یاد رکھیں ؎
ہر آدمی میں ہوتے ہیں د س بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
بالفاظ دیگر اہل ہند کو بہت ہی غور و فکراور منظم منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا فیصلہ دینا ہوگا۔ (ختم شد)
فون نمبر 9870843522